Urdu Novels

Back | Home |  

ہری ہے شاخ تمنا ابھی۔۔۔۔۔آسیہ مرزا


مولوی خضر محمد شاہ نے اشک آلود آنکھوں سے قرآن پاک کو بند کر کے چوما پھر احتیاط سے جزو دان میں لپیٹ کر رحل پر رکھ کر بخت بی بی کی طرف دیکھا۔
’’ہوں۔ کچھ کہنے آئی تھیں؟‘‘ انہوں نے تکیے کے نیچے سے تسبیح نکالی اور اسی تکیے سے لگ کر بیٹھ گئے۔
’’کہنے تو کیا، یاد دلانے آئی تھی۔‘‘ بخت بی بی نے رحل سمیت قرآن پاک اٹھا کر الماری کے اوپر رکھا اور دوبارہ تخت پر آ کر بیٹھ گئیں۔
’’آج ہماری مومنہ آ رہی ہے۔‘‘
’’ہاں یاد ہے مجھے۔ بھلا آج کی تاریخ بھی بھولنے والی ہے۔‘‘ مولوی خضر محمد کا بوڑھا باریش چہرہ چمکنے لگا۔ مسکراہٹ کے بہت سے جگنو آنکھوں میں اتر آئے۔
’’سرجن مومنہ کہو نیک بخت۔‘‘ وہ بے اختیار مسرور انداز میں بولے۔
’’آپ جائیں گے اسے ریسیو کرنے؟‘‘
’’میں۔‘‘ انہوں نے چونک کر بیوی کی شکل دیکھی پھر سر نفی میں ہلاتے ہوئے بولے۔
’’نہیں۔ اسے ریسیو کرنے والے بہت ہیں۔‘‘
’’لیجئے۔ یہ کیا بات ہوئی؟‘‘ بخت بی بی نے تعجب سے شوہر کو دیکھا۔
’’بھلے سے اور بہت ہوں گے مگر وہ آپ کو دیکھ کر بڑی خوش ہو گی۔‘‘
’’ہاں شاید۔ مگر پتا نہیں۔‘‘ مولوی خضر محمد نے کچھ کہتے کہتے ایک گہری سانس لی پھر دھیمے لہجے میں بولے۔
’’میں چاہتا ہوں وہ خود میرے پاس یہاں آئے۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں اسے میں کتنا یاد ہوں۔ وہ کب آتی ہے میرے پاس اور آتی بھی ہے یا نہیں۔‘‘ انہوں نے سر جھکا لیا اور پیروں پر لحاف کھینچ لیا۔
’’آپ تو بالکل بچوں کی سی بات کر رہے ہیں۔‘‘ بخت بی بی مسکرانے لگیں مگر وہ کسی گہری سوچ میں گم تھے۔ آہستگی سے بولے۔
’’وہ اعلیٰ عہدے دار طارق احمد کی بیٹی ہے۔‘‘
بخت بی بی نے چونک کر ان کی طرف دیکھا تھا۔ وہ عام دنوں سے زیادہ خوش بھی تھے مگر کوئی سوچ انہیں پریشان بھی کر رہی تھی۔ کوئی نادیدہ سا خوف کہیں دل کی دیواروں سے لپٹ رہا تھا۔
’’بے شک مولوی جی! پر وہ آپ کے زیرسایہ کئی برس رہی ہے۔ خون سے زیادہ تربیت اور محبت کا رنگ پکا ہوتا ہے۔ کیا آپ کو اپنی تربیت پر اعتبار نہیں ہے۔‘‘
’’بسا اوقات فاصلے بہت سے رنگ مدھم کر دیتے ہیں۔ جدائی بڑی جاں سوز ہوتی ہے اور لوگوں کا بدل جانا بھی تو جدائی ہی ہے نا۔ مگر… خدا نہ کرے کہ وہ مجھ سے کبھی اس طرح جدا ہو۔‘‘ وہ جیسے اپنے ہی خوف سے لرز گئے جبکہ بخت بی بی ان کی باتوں کو سنی ان سنی کرتے ہوئے بولیں۔
’’میں تو کہتی ہوں چلے جائیں۔ ناحق بچوں کی سی ضد لے کر بیٹھے ہیں۔ میں تو ضرور جاتی مگر ان پیروں کے درد نے کہیں کا نہیں رکھا اور پھر فلائٹ بھی رات کی ہے۔ ٹھنڈ پہلے ہی خاصی ہے۔‘‘
’’ارے نیک بخت! تم کیا جانو محبت میں انسان بالکل بچہ بن جاتا ہے۔ چاہے جانے کا خواہش مند، التفات کا خواہاں۔ اس کا دل کرتا ہے اسے چاہا جائے تو اس کا اظہار بھی ہو۔ محبت انسان کو بچہ ہی بنا دیتی ہے۔‘‘ وہ ہلکی سی سانس بھر کر غیرمرئی نقطے کو گھورنے لگے۔
’’شاید خوف زدہ بھی ہو جاتا ہے کہ وہ جس کے لئے اپنے دل میں بہت سا پیار محسوس کر رہا ہے دوسرا بھی اسے اتنا ہی چاہتا ہے؟ اسے محسوس کرتا ہے جس کی محبت کے لعل و گہر سینت سینت کر دل میں رکھ رہا ہے۔ وہ اس کی قدر بھی کرے گا کہ نہیں؟ بس نیک بخت یہ دل چیز ہی ایسی ہے۔‘‘ مولوی خضر محمد یہ کہتے ہوئے بخت بی بی کا چہرہ دیکھنے لگے پھر ہنس پڑے۔
’’بس رہنے دیں۔ مجھے تو آپ کی باتیں بالکل سمجھ نہیں آتیں۔ کیا اول فول بولتے رہتے ہیں۔‘‘ وہ جھلا سی گئیں اور اٹھ گئیں۔
’’خیر۔ یہ مذاق کی باتیں ہیں۔ میرا دراصل یہاں رہنا بے حد ضروری ہے۔ بہت اہم فون آنے والا ہے۔‘‘
’’غازی شاہ کا؟‘‘ بخت بی بی جھٹ پلٹ کر خوشگوار مسرت سے لبریز ہو کر پوچھنے لگیں تو مولوی خضر محمد نے جلدی سے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر انہیں چپ کرا دیا۔
’’دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں نیک بخت۔ کتنی مرتبہ سمجھایا ہے کہ آہستہ نہیں بول سکتیں تو چپ ہی رہ لیا کرو۔‘‘
’’میں تو ترستی ہوں بچے کی صورت دیکھنے کو۔ خدا اسے اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ سرکاری خونی بھیڑیئے تو اسے چاروں طرف سے گھیرنے کی تگ و دو میں ہیں۔ الٰہی تو ہی میرے بچے کا حامی و ناصر ہے۔ تو اس کی حفاظت فرمانا۔‘‘ بخت بی بی دل مسوس کر کمرے سے نکل گئیں۔ مولوی خضر محمد نے ہلکی آواز میں ’’آمین‘‘ کہا تھا۔

٭…٭…٭


سری نگر کا ایئرپورٹ جگر جگر کرتی روشنیوں سے نہایا ہوا تھا۔ لندن سے آنے والی فلائٹ نے ایک گہما گہمی کی صورت پیدا کر دی تھی۔ اس ہجوم بیکراں میں سرجن مومنہ بھی تھی جو اپنے مختصر سامان کے ہمراہ آشنا چہروں کی تلاش میں تھی۔ جب اسے پاپا کا خوش باش چہرہ دکھائی دیا۔
’’ویلکم مائی سویٹ ڈوٹر!‘‘ پاپا نے اسے بازوئوں میں بھر لیا۔
’’ہیلو مومی!‘‘ نورین آپی آ گئی تھیں۔ وہ مسرت سے مغلوب ہو کر ان سے لپٹ گئی۔
’’ممی گاڑی میں بے چینی سے تمہاری منتظر ہیں۔ دراصل ان کے پیر میں موچ آ گئی ہے نا۔‘‘ اس کے ادھر ادھر نظریں دوڑانے پر نورین آپا بولیں۔
’’ارے۔ کیا ہوا۔ موچ کیسے آ گئی انہیں؟‘‘ وہ یک دم پریشان ہو گئی۔
’’آج صبح ہی باتھ روم میں پھسل گئی تھیں۔ تمہارے آنے کی خوشی ان کے حواس پر کچھ زیادہ ہی چھا گئی تھی۔‘‘ نورین آپی ہنسنے لگیں۔
’’ارے گھبرانے کی بات نہیں ہے۔ معمولی درد ہے اور پھر سرجن بیٹی جو آ گئی ہے۔ تمہیں تو بس دیکھتے ہی ان کی ساری تکلیف رفع ہو جائے گی۔‘‘ وہ اسے پریشان دیکھ کر اسے تھپک کر گاڑی کی طرف بڑھ گئیں۔
’’اور۔ اور کوئی نہیں آیا مجھے لینے۔‘‘ اس نے نورین آپی کے نزدیک ہو کر دبی زبان میں پوچھا تو انہوں نے سر اٹھا کر کچھ وضاحت طلب نظروں سے اسے دیکھا۔
’’اور یہاں ہے کون؟ سبین تو جدہ میں ہے۔ ماہین کے پاس سے ہو کر تم خود آ رہی ہو لندن سے۔‘‘
وہ چپ سی رہ گئی اور بھی بہت سے چہرے تھے۔ بابا کا، بخت بی بی کا اور…
اس کی نظریں ممی پر پڑیں جو اسے دیکھ کر ایک سرخوشی کے ساتھ گاڑی سے اتر رہی تھیں۔ وہ دوڑ کر ان سے لپٹ گئی۔
’’آپ کیوں نیچے اتر رہی ہیں۔ بیٹھئے اندر ہی بیٹھئے۔‘‘ وہ جلدی سے انہیں تھام کر دوبارہ سیٹ پر بٹھانے لگی۔
’’بس جان! تجھے دیکھ کر تو میرا سارا درد ختم ہو گیا ہے۔ دیکھو بالکل درد نہیں ہو رہا۔‘‘ وہ اپنا پیر ہلانے لگیں تو وہ ہنستے ہوئے پچھلی سیٹ پر ان کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی پھر ان کے کندھے پر سر ٹکا لیا۔

٭…٭…٭


طارق ہائوس میں رات کے کھانے پر اچھا خاصا اہتمام کیا گیا تھا۔
رات دیر تک ممی سے لگی بیٹھی لندن کی باتیں کرتے کرتے اس نے اچانک پاپا کے رویے پر حیرت کا اظہار کیا تو ممی مسکراتے ہوئے بولیں۔
’’خوش نہیں ہو، ان کے اس پیار پر۔‘‘
’’ابھی تو صرف حیران ہوں۔‘‘ وہ صاف گوئی سے بولی۔
’’دراصل بیٹی! تم نے بہت کم وقت ہمارے پاس گزارا ہے نا۔ پہلے مولوی صاحب کے پاس‘ پھر اتنا عرصہ تعلیم۔ بس اسی وجہ سے تمہارے پاپا تمہیں چاہنے لگے ہیں۔ سبین، ماہین اور پھر نورین کی شادی کے بعد تو یوں بھی تمہاری کمی بہت شدت سے محسوس کرنے لگے تھے وہ۔‘‘ ممی اس کے بال سہلانے لگیں پھر اس کی پیشانی چوم لی۔
ایک عجیب درد بھری مسکراہٹ اس کے لبوں کی تراش میں بکھر گئی۔ بچپن کی چاہت کے رنگ پکے ہوتے ہیں اور وہ چاہت مجھے بابا اور بخت بی بی سے ملی ہے۔
’’ممی! بخت بی بی اور بابا مجھ سے ملنے کیوں نہیں آئے؟‘‘ اس نے کچھ اس طرح تڑپ کر کہا کہ ممی نے چونک کر اسے دیکھا پھر ایک ہلکی سانس بھر کر اسے خود سے لپٹا لیا۔
’’ہاں۔ میں خود بھی سوچ رہی ہوں جبکہ اطلاع تو انہیں میں نے خود دی تھی بلکہ وہ تو خود ہی تمہاری پل پل کی خبر رکھتے تھے۔ خدا خیر کرے ایسا ہونا تو نہیں چاہئے۔ چلو تم خود ہو آنا۔ یوں بھی تمہیں ہی بزرگوں کے پاس جانا چاہئے۔‘‘
’’بس صبح ہو لینے دیں۔‘‘ وہ بال سمیٹ کر کھڑی ہوئی۔ پاپا اندر داخل ہوئے تو وہ سکارف اٹھا کر سر پر باندھنے لگی۔
’’ہوں۔ کیا کیا باتیں ہوئیں ماں بیٹی کے مابین۔‘‘
’’باتیں کیا ہونی ہیں۔ نورین چلی گئی کیا؟‘‘ ممی نے ڈھیر لگے کشن ہٹاتے ہوئے ان کے بیٹھنے کے لئے جگہ بنائی۔
’’ہاں۔ فراز کو صبح ممبئی جانا ہے اور سنائو بیٹا جان! کیا سوچا ہے فیوچر کے بارے میں۔ کوئی پلاننگ کی ہے؟‘‘ پاپا نے سگریٹ کا پیکٹ اٹھا کر اس میں سے ایک سگریٹ نکالتے ہوئے اس کے چمکتے چہرے کو دیکھا۔
’’سوچنا کیا ہے پاپا! بس اب تو عملی میدان میں اترنا ہے۔‘‘ وہ خوش دلی سے ہنسی۔


’’گڈ۔ تو پھر تمہارے لئے ایک خوش خبری ہے۔‘‘
’’وہ کیا؟‘‘ اس نے حیرت اور تجسس سے ان کا چہرہ دیکھا۔
’’گورنمنٹ ہاسپٹل میں تمہاری جاب پکی سمجھو۔ تم چاہو تو کل سے ہی جوائن کر سکتی ہو۔‘‘
وہ پاپا کا چہرہ دیکھتی رہ گئی۔ چاہنے کے باوجود وہ اتنی خوش نہ ہوئی جتنا وہ ہونا چاہتی تھی۔
’’بھئی تمہارے پاپا کا اثر و رسوخ بہت ہے۔ سرجن جگن ناتھ تو منتظر تھے تمہارے۔ وہ تمہارے پاپا کے خاص دوستوں میں سے ہیں۔‘‘ ممی نے کہا تو وہ صرف مسکرا دی۔
’’اور ہاں۔ ایک اور گڈ نیوز تمہارے لئے کہ وہاں تمہاری بہت اچھی فرینڈ کویتا بھی ہے۔ وہ تم سے ملنے کو بہت بے تاب ہے۔ میں نے اسے خبر دی تھی تمہارے انڈیا پہنچنے کی۔‘‘
’’ارے۔ کوی بھی وہیں ہے۔ ویری گڈ۔ زبردست۔‘‘ اس خبر نے اسے دلی طور پر مسرور کیا تھا۔
مولوی خضر محمد شاہ‘ کلام پاک رکھ کر جونہی پلٹے مومنہ کو کمرے کے دروازے پر کھڑے دیکھ کر حیرت اور مسرت سے لحظہ بھر کو گنگ رہ گئے تھے۔ دوسرے پل ان کی خوشی کا ٹھکانا ہی نہ رہا۔
’’بابا! کیسے ہیں آپ؟‘‘وہ بے تاب ہو کر ان کی طرف لپکی اور ان کے قدموں میں جھک گئی۔
’’پگلی! کب سے آئی ہو اور یونہی چپ چاپ کھڑی ہو۔‘‘ انہوں نے اسے جلدی سے تھام کر اپنے قریب بٹھا لیا اور اس کا سر چوما۔
’’بس زیادہ دیر نہیں ہوئی۔ آپ ہی نے مجھے یہ آیت سنائی تھی کہ۔ ’’جب قرآن پڑھا جائے تو اس کی طرف کان لگائے رہو اور چپ ہو تاکہ تم پر رحم ہو۔‘‘
’’جیتی رہو میری بچی۔‘‘ مولوی صاحب نے اس کے سکارف سے ڈھکے سر کو فرطِ محبت سے چوم لیا۔
’’بہت ناراض ہوں میں آپ سے۔ ایئرپورٹ بھی نہیں آئے۔ نہ آپ نہ بی بی آئیں۔ کہاں ہیں وہ؟ میں ان سے خوب لڑوں گی۔ کتنی مایوس ہوئی تھی جب آپ دونوں مجھے وہا ںدکھائی نہ دیئے۔ کیوں بابا! کیا بھلا دیا اپنی بیٹی کو؟‘‘ اس نے شکوہ کناں نظروں سے ان کی طرف دیکھا۔ یکایک آنکھوں کے گوشوں سے قطرے پھسل کر رخسار پر بکھر گئے۔ اسی دم بخت بی بی اس کی مدھر آواز سن کر چلی آئیں۔
’’بخت بی بی۔‘‘ وہ بچوں کی طرح بلکتی ان سے لپٹ گئی۔
مولوی خضر محمد شاہ کا نورانی چہرہ برسوں کی ریاضت کو کامیاب و کامران اپنے روبرو دیکھ کر چمک رہا تھا۔ وہ سارے اندیشے جو دل میں ریشم کی طرح الجھ رہے تھے رفع ہو گئے۔
’’ارے جھلی! یہ تو خوشی کا مقام ہے۔ ملن کی گھڑیاں ہیں۔ اس میں آنسو کیسے؟‘‘ بی بی اسے چمکارنے لگیں۔ وہ آنکھیں رگڑتی بے اختیار ہنس پڑی۔
’’آپ لوگوں نے تو مجھے بھلا ہی دیا تھا۔ یہ تو میں ہی دوڑی چلی آئی۔‘‘ وہ کم سن ناراض بچوں کی طرح ٹھنک کر بولی۔
’’چل ہٹ۔ ماں باپ بھلا اولاد کو کبھی فراموش کر سکتے ہیں۔ تیری چہکار مہکار کے لئے تو یہ در و دیوار ترس رہے تھے۔ تو تو میرے جگر کا ٹکڑا‘ میرے گھر کا اجالا۔ اس آنگن کا تارا ہے۔ تیری یادوں سے تو ہم دونوں جی رہے تھے۔‘‘ بی بی نے اس کی کشادہ سنہری پیشانی پر بوسہ دیا۔ تو اس نے ان کے گلے میں بازو حمائل کر کے جواباً ان کے رخسار پر اپنے لب رکھ کر بہت زور سے چوما۔
’’تو تو سرجن بن کر بھی نہیں بدلی۔ ویسی کی ویسی ہی ہے۔ آئو ادھر بیٹھو۔‘‘ مولوی خضر محمد نے تخت پر اس کے لئے جگہ بنائی۔
’’وہ۔ غازی شاہ۔ غازی شاہ کہاں پر ہے؟‘‘ اس نے تخت پر بیٹھتے ہوئے مولوی خضر محمد کی طرف دیکھا۔
’’وہ آج کل ملک سے باہر ہے۔‘‘ انہوں نے یہ کہتے ہوئے نظریں چرا لیں۔
’’آج کل۔‘‘ وہ یک دم ہنس پڑی۔ خفیف سی تمسخرانہ ہنسی تھی پھر عجیب دل گرفتہ سی ہو کر بولی۔ ’’آج کل کہاں بابا۔ مجھے تو اسے دیکھے برسوں بیت گئے ہیں۔ بس بچپن کا مدھم سا نقش ہی ساتھ ساتھ رہا ہے۔ اب تو یقینا وہ سامنے آئے تو پہچان بھی نہ پائوں۔ اسے تو میرا نام تک یاد نہ ہو گا۔ ہے نا۔‘‘
وہ دل گرفتگی سے ہنس پڑی۔ بخت بی بی کے دل میں تیر سا پیوست ہو گیا۔
’’نہ بیٹی! وہ ہے ہی بے پرواہ مگر تمہیں بھولا بالکل نہیں ہے۔ لو بھلا بھولے گا کیونکر۔‘‘
’’ہاں بیٹی! وہ تم سے ملنا چاہتا تھا مگر تم اپنے گھر میں رہتی تھیں۔ وہ وہاں کیسے آتا۔ اسے کچھ مناسب نہیں لگتا تھا پھر تم لندن چلی گئیں۔‘‘
مومنہ نے پلکوں کی نم آلود باڑھ اٹھا کر مولوی خضر محمد کو دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک نامانوس رنج کی کیفیت اتر آئی۔ پھر بڑی آہستگی سے آنکھوں کی زمینیں گیلی ہو کر چمکنے لگیں۔
’’میرا گھر نہیں۔ اسے ’’طارق ہائوس‘‘ کہئے بابا۔ مجھے نام دینے والے آپ ہیں بابا۔ یہ مت بھولیں میرے منہ کو امرت جیسے دودھ کا ذائقہ چکھانے والی بی بی ہیں۔ بظاہر میرا باپ طارق احمد ہے مگر مجھے باپ کی نرم چھائوں سے آشنا کرنے والے، شفقت دینے والے، محرومی کی دھوپ سے بچانے والے پہلے انسان آپ ہیں۔ میرا ننھا دل، کچا ذہن آپ کو باپ تسلیم کر چکا تھا۔ میں نے آنکھیں بی بی کی گود میں کھولیں۔ ہمکنا اور پائوں پائوں چلنا بی بی کی ہمراہی میں سیکھا۔‘‘ وہ جذباتی ہو گئی جیسے اس کی نازک رگ پر مولوی خضر محمد نے بلیڈ پھیر دیا ہو۔ اس کی آواز بھرا گئی۔

of 34 
Go