Urdu Novels

Back | Home |  
ہم بھی وفا نبھائیں گے۔۔۔۔۔۔۔فرزانہ مغل
سید مکرم علی شاہ نے صبح کا اخبار پڑھنے کے لئے سینٹر ٹیبل سے اٹھایا تو معاً ساتھ پڑے میگزین کو دیکھ کر بری طرح چونکے تھے۔ اخبار ہاتھ سے چھوٹ کر دوبارہ ٹیبل پر گر گیاتھا۔ انہوں نے بڑی سرعت سے میگزین اٹھایا‘ پہلے تو انہیں یہ سب اپنی نظروں کا دھوکہ لگا لیکن جب میگزین کے خوبصورت سرورق کو قریب سے بغور دیکھا تو وہ دھوکہ حقیقت بن کر ان کامنہ چڑا رہاتھا۔ سرورق پر انتہائی حسین دوشیزہ فل میک اپ میں جدید لباس زیب تن کئے اپنے حسین سراپے کی بہاریں دکھا رہی تھی۔ ایک لمحے کے لئے تو ان کی نگاہیں شرم سے جھک گئیں اور ذہن چکرا کررہ گیا۔ انہوں نے جلدی سے اندرونی صفحات کھول کر دیکھے تووہ حسین دوشیزہ اندر بھی اسی طرح کے ملبوسات میں قیامت خیز پوز دیتے ہوئے نظر آرہی تھی۔
یکلخت سید مکرم علی شاہ نے میگزین ٹیبل پر پٹخا ان کا خاندانی خون جلال میں آگیا تھا۔ مارے غصے کے چہرہ سرخ ہوگیا تھا۔ انہوں نے فوراً موبائل سائیڈ سے نکال کر ایک نمبر ملایا تھا لیکن دوسری طرف سے موبائل آف ملا۔ اس صورت حال پرانہیں مزید غصہ آنے لگا تھا۔ بیڈ سے اٹھ کر ہاتھ میں موبائل تھامے وہ بیڈروم میں ادھر ادھر ٹہلنے لگے تھے تقریباً دس منٹ بعد پھر انہوں نے نمبر ملایا اس بار انہیں رسپانس ملاتھا۔
دوسری طرف سے ’’ہیلو‘‘ بھی جیسے انتہائی مصروفیت سے وقت نکال کر کہا گیا ہو۔
’’تمہارا باپ بات کررہا ہوں۔‘‘ سیدمکرم علی شاہ بیٹے کی عدم توجہی پر غصہ اور جھلاہٹ میں اپنا تعارف کروابیٹھے تھے۔
’’اوہ‘ سوری باباجان‘ السلام علیکم‘ اصل میں ابھی ابھی ایک میٹنگ سے فارغ ہوا ہوں بغیر نمبر چیک کئے موبائل اٹھالیاتھا۔‘‘ اس سے پہلے کہ اپنی عدم توجہی پر ایس پی سید معظم علی شاہ کو باپ کی طرف سے ڈانٹ پڑتی اس نے فوراً وضاحت کردی تھی۔
’’کیا‘ ابھی تک آفس میں ہو۔‘‘ سیدمکرم علی شاہ کچھ نارمل ہوئے تھے۔
’’جی‘ ایک اہم میٹنگ تھی۔‘‘ معظم علی شاہ نے پھر وضاحت دی تھی۔
’’اچھا‘ ایسا کرو تم میگزین ابھی منگوا کردیکھو انہوں نے ہفتہ وار میگزین کانام لے کربیٹے کو گویا حکم دیا تھا۔
’’کیوں‘ خیریت تو ہے؟‘‘ اس کا دھیان ان کے سیاسی حریفوں کی طرف گیا تھا کہ کہیں کسی نے ان کے خلاف الٹی سیدھی خبر نہ چھپوادی ہو۔
’’پہلے تم میگزین منگوا کر دیکھو پھر مجھے مشورہ دینا کہ اب میں کیا کروں۔ میں انتظار کررہاہوں تمہارے فون کا۔‘‘ انہوں نے مبہم سے انداز میں کہتے ہوئے موبائل آف کردیاتھا۔
’’اُلّوکاپٹھا‘ اتنی بڑی پوسٹ پربیٹھا ہے لیکن اردگرد سے گویا آنکھیں بند کررکھی ہیں۔ احمق کہیں کا۔‘‘ مکرم علی شاہ بڑبڑاتے ہوئے راکنگ چیئر پربیٹھے تھے۔ بیٹے سے انہوں نے بڑے ضبط سے بات کی تھی لیکن اب پھر ان کاغصہ عود کرآیا تھا جو وہ اسی پراتارنے لگے تھے۔
’’معاً بیڈروم میں داخل ہوتیں زیب النساء نے ان کی تمام بڑبڑاہٹ بغور سنی تھی۔ وہ انہیں شام کی چائے لگنے کی اطلاع دینے آئی تھیں۔
’’سید صاحب‘ یہ ُالّوکاپٹھا اور احمق کون ہے؟‘‘ وہ ان کے نزدیک آتے ہوئے کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں گویا ہوئیں۔
’’تمہارا لاڈلہ‘ اور کون۔‘‘ سیدمکرم علی شاہ بگڑ کربولے تھے۔
’’اکلوتا بیٹا ہے ہمارا‘ کوئی پانچ چھ بیٹے نہیں ہیں ہمارے‘ اوپر سے وہ گھربار سے دور دوسرے شہر میں بیٹھا ہے‘ اس کے باوجود آپ اس کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔‘‘ زیب النساء خفگی سے گویا ہوئیں اور ان کے سامنے بیڈ کے کونے پرٹک گئیں۔
’’گھر سے دور وہ اپنی جاب کی وجہ سے ہے‘ مجھے اس کا یہ پروفیشن کبھی پسند نہیں تھا۔ کہا بھی تھا کہ سیاست میں آجائو…تمہارے آبائواجداد شرو ع سے اسی میں ہیں چلوسیاست اسے پسند نہیں تو اپنا بزنس سنبھالے جو میں نے دوسروں کے حوالے کیا ہوا ہے۔ لیکن یہ آج کی نوجوان نسل اپنے بزرگوں کی کہاں مانتی ہے۔‘‘ مکرم علی شاہ اسو قت کسی اور کاغصہ معظم علی شاہ پر اتار رہے تھے۔
’’اچھا‘ اب آپ مجھے یہ بتادیں‘ سید صاحب کہ اصل بات کیاہے؟‘‘ زیب النساء اتنا تو سمجھ گئی تھیں کہ کوئی بڑامسئلہ ہے اسی لئے نرمی سے گویا ہوئیں۔
’’یہ دیکھو۔‘‘ انہوں نے سینٹر ٹیبل سے میگزین اٹھا کر زیب النساء کو تھمایا تھا۔
’’سید صاحب! یہ…یہ…تو اپنی نگینہ جیسی لگ رہی ہے۔‘‘ پہلے تو وہ شوہر کی اس فرمائش پر حیران ہوئیں پھر سرورق پربیٹھی دوشیزہ کو کسی نگینہ سے ملاتے ہوئے اس کا لباس دیکھ کروہ کچھ اٹک اٹک کر

بولی تھیں۔
’’اندر کے صفحات کھول کر دیکھو۔‘‘ انہوں نے دوسرا حکم نامہ جاری کیاتھا۔
زیب النساء نے ایک نظر شوہر کی جانب دیکھا اور میگزین کے اندر کے صفحات کھول کر دیکھنے لگیں لیکن اندر بھی وہی دوشیزہ تھی جس کالباس انہیں کچھ نازیبا لگا تھا۔ شوہر کے سامنے عجیب جھجک سی محسوس کرتے ہوئے انہوں نے میگزین واپس ٹیبل پررکھ دیاتھا۔
’’پہچانا؟‘‘ مکرم علی شاہ نے انہیں خاموش دیکھ کر استفسار کیا تھا۔
’’سید صاحب! میں نے کہاناں یہ لڑکی اپنی نگی میں بہت مل رہی ہے‘ اب کی بار زیب النساء نے الجھ کر ان کی جانب دیکھا تھا۔ یہ آج وہ ان سے کون سی پہیلی بجھوا رہے تھے۔
’’زیب النساء بیگم نہ جانے کس دنیا میں آپ رہتی ہیں‘ یہ لڑکی اپنی نگینہ ہی ہے۔‘‘ وہ ان کی سادگی پربری طرح چڑاٹھے تھے۔
’’اچھا۔‘‘ زیب النساء کو گویا یقین نہیں آیا تھا۔وہ دوبارہ میگزین اٹھا کر دیکھنے لگی تھیں۔
ان کی تو سات پشتوں میں عورت کو ایسی آزادی نہیں ملی تھی جس کااستعمال نگینہ کررہی تھی۔ معاً مکرم علی شاہ کے موبائل کی بپ بج اٹھی۔ معظم علی شاہ کانمبر دیکھتے ہی انہوں نے موبائل کان سے لگایا تھا۔
’’ہاں معظم بیٹے‘ اب کیا کہتے ہو؟‘‘ انہوں نے چھوٹتے ہی بیٹے سے اس طرح سوال کیا جیسے وہ اس مسئلہ کا حل نکال کربیٹھا ہو۔
’’باباجان‘ اس کی تعلیم گئی بھاڑ میں‘ آپ اسے واپس بلوالیں۔‘‘ ادھر ان کابیٹا ان سے زیادہ غصے اور جلال میں تھا۔
’’معظم بیٹے! تم جیسے سلجھے ہوئے نوجوان سے مجھے اس بات کی توقع نہیں تھی۔ کیا یہ مسئلے کاحل ہے۔‘‘ بیٹے کے غصے نے انہیں قدرے ٹھنڈا کردیاتھا۔
’’باباجان! آپ کی بھتیجی نے ہمارے خاندان کی عزت کا جنازہ نکال دیا ہے اور ابھی بھی آپ اپنے دل میں اس کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔‘‘ سید معظم علی شاہ کاغصہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہاتھا۔
’’دیکھو بیٹا! جذباتی مت بنو جتنا غصہ تمہیں آرہا ہے اتناہی مجھے بھی آرہا ہے لیکن یوں تو مسئلہ حل نہیں ہوگا۔‘‘ سید صاحب نرمی سے گویا ہوئے تھے۔
’’معذرت کے ساتھ کہوں گا باباجان‘ یہ سب آپ کی ڈھیل کی وجہ سے ہو اہے‘ تعلیم کی آڑ میں وہ اس آزادی کاناجائز فائدہ اٹھا رہی ہے۔‘‘ وہ جلے بھنے انداز میں انہیں الزام دے رہاتھا۔
’’تم مجھے طعنے دے رہے ہو۔ جبکہ نگی کے یونیورسٹی میں داخلے پر تم نے بھی اس کا ساتھ دیاتھا۔‘‘ سید صاحب کے لہجے میں افسردگی اتر آئی تھی۔
’’یہ گستاخی میں کیسے کرسکتا ہوں باباجان‘ اور شاید مجھ سے بھول ہوگئی تھی جو میں نے اس وقت نگی کا ساتھ دیا۔‘‘ معظم ان کے انداز پر کچھ ڈھیلا پڑا تھا۔
’’معظم! افسوس تو مجھے اس بات کا ہے کہ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے تم چارماہ سے اس سے غافل ہو‘ یہ جانتے ہوئے بھی کہ تمہارااس سے کیا رشتہ ہے؟‘‘ سید صاحب نے بھی اس کی کوتاہی کوگنوانا ضروری سمجھا تھا۔
’’باباجان… میں اس کا باڈی گارڈ نہیں ہوں۔‘‘ وہ بری طرح چڑ گیا تھا۔
’’اچھا…سب باتیں چھوڑو‘ اب مجھے یہ بتائو کہ نگی سے کس طرح باز پرس کی جائے؟‘‘ وہ پھر نرمی سے گویا ہوئے تھے۔
’’فون پر نگی سے بات کرنا بے کار ہے آپ کراچی آجائیں‘ یہ بات آمنے سامنے ہونی چاہئے۔‘‘ معظم نے مشورہ دیاتھا۔
’’ٹھیک ہے میں کل ہی آرہا ہوں۔ یہ لو اپنی ماں سے بات کرو۔‘‘انہوں نے اسے جواب دیا اور موبائل زیب النساء کی سمت بڑھایا جو کافی دیر سے خاموش بیٹھیں باپ بیٹے کی گفتگو سن رہی تھیں۔
…٭٭٭…
’’امی جان! کیا ہوا آپ اتنی خاموش کیوں بیٹھی ہیں؟ آپ تو باباجان سے چائے کا پوچھنے گئی تھیں۔‘‘
شہربانو چائے کی ٹرے تھامے ہال کمرے میں داخل ہوئی جہاں زیب النساء اپنے مخصوص تخت پر تنہا بیٹھی نظر آئیں۔
شہربانو نے چائے کی ٹرے تخت پر ہی رکھ دی اور خود بھی ایک کونے پر ٹک گئی تھی۔
’’تمہارے باباجان تو کسی کام سے باہر نکل گئے ہیں۔‘‘ انہوں نے اپنی سوچوں سے نکل کر اپنے قریب بیٹھی شہربانو کو جواب دیاتھا۔
’’اچھا‘ آپ مجھے اپنی پریشانی بتائیں۔‘‘ شہربانو نے چائے کا کپ انہیں تھماتے ہوئے استفسار کیا۔ زیب النساء نے چونک کر اس کی سمت دیکھا۔ اس لڑکی سے ان کے خاندان کا کوئی خونی رشتہ نہیں

تھا وہ سیدمکرم علی شاہ کے عزیز ترین دوست کی بیٹی تھی جس کے والدین اس کے بچپن میں ایک ٹریفک حادثے کاشکار ہوگئے تھے جس کے بعد دوسالہ شہربانو کو سنبھالنے والا کوئی نہیں تھا یوں وہ سیدمکرم علی شاہ اور زیب النساء کی سرپرستی میں آگئی اور اس کی پرورش زیب النساء کے ہاتھوں ہوئی تھی۔ زیب النساء بیگم نے کبھی اسے اپنی اولاد سے کم نہیں جانا تھا۔ بچپن میں تو شہربانو اس حقیقت سے بے خبر تھی لیکن شعور کی منزلوں پرقدم رکھتے ہی وہ حقیقت جان گئی اور حقیقت اس سے چھپائی بھی نہیں گئی تھی لیکن اس کے باوجود شہربانو نے سیدمکرم علی شاہ اور زیب النساء کو ہمیشہ اپنے والدین کادرجہ دیاتھا۔
’’امی جان! میں آپ سے کچھ پوچھ رہی ہوں۔‘‘ شہربانو نے انہیں گہری سوچ میں گم دیکھ کر پھر پکارا تھا۔
’’ہوناکیا ہے‘ بس نگی نے پریشان کردیا ہے۔‘‘ انہوں نے بیزار ہوتے ہوئے نگی کاکارنامہ اسے بتادیاتھا۔ ہم نے تو اس عورت کے سائے سے بھی اسے بچایا تھا لیکن نہ جانے اس نے یہ شوق کہاں سے چرایا ہے۔‘‘
’’اوہ‘ یہ تواس نے کچھ اچھا نہیں کیا۔‘‘ شہربانو ان کی سوچ سے بے خبر تاسف سے گویا ہوئی تھی۔ یہ تو اسے معلوم تھا کہ نگی کوماڈلنگ کاشوق ہے کیونکہ کالج کے زمانے میں وہ ہر اس سرگرمی میں حصہ لیتی تھی جس میں اس طرح کا کام ہوتا تھا۔ اور آج کا اخبار اور میگزین ابھی تک اس کی نظر سے نہیں گزرا تھا ورنہ وہ بھی نگی کاکارنامہ دیکھ چکی ہوتی۔
دوسرے دن سیدمکرم علی شاہ اپنی تمام تر مصروفیات ترک کرکے اپنے باڈی گارڈ اور ڈرائیور سمیت بائے روڈ کراچی پہنچ گئے۔ اب وہ خود تو نگینہ کے ہاسٹل نہیں جاسکتے تھے اس لئے معظم کو اسے گھرلانے کے لئے کہاتھا۔
’’باباجان… میں کبھی اس کے ہاسٹل نہیں گیا۔ آپ اپنے ڈرائیور کو بھیج کر اسے بلوالیں۔‘‘ معظم نے صاف انکار کیاتھا۔
سیدصاحب نے بغور بیٹے کی سمت دیکھا وہ اس کے مزاج کوبھی جانتے تھے اور لاڈلی بھتیجی کانخرہ بھی جو کسی کو خاطر میں نہیں لاتی تھی لہٰذا بحث کو ملتوی کرکے انہوں نے اپنے ڈرائیور کو اسے لانے کے لئے بھیج دیا اور دانستہ موضوع بدل کربیٹے کے ساتھ اپنی سیاسی مصروفیات پر گفتگو کرنے لگے۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد ہنستی مسکراتی نگینہ اکبر شاہ‘ سیدمکرم علی شاہ کے سامنے تھی۔ سلام کرتی وہ بڑے لاڈ سے ان کے گلے لگی تھی اور معظم علی شاہ اس کے یہ انداز دیکھ کرجلتا ہوا سیٹنگ روم سے واک آئوٹ کرگیاتھا۔ باپ کی اس کے حق میں یہ نرمی اسے ایک آنکھ نہیں بھائی تھی۔
’’باباجان! آپ نے تو یوں اچانک آکرمجھے سرپرائز دیا ہے۔ مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے۔ آپ پہلی بار مجھ سے ملنے آئے ہیں۔‘‘ اس نے اپنے فطری لاابالی پن میں کہتے ہوئے پلٹ کر معظم کی طرف بھی دیکھا تھا جواسے نظر انداز کرکے باہر نکل چکاتھا۔
’’لیکن ہم تم سے بہت خفا ہیں۔‘‘ انہوں نے اس کے سرپرپیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے بھرپور خفگی سے کہاتھا۔
’’وہ‘ کیوں باباجان۔‘‘ نگینہ آنکھوں میں حیرت سمیٹے یاتوان کامطلب سمجھ گئی تھی یاپھر واقعی انجان تھی۔ وہ ان کے ساتھ ہی کشاد ہ صوفے پر ٹک گئی تھی۔
’’نگی بیٹے‘ تم ہمارے عزیز ترین بھائی کی اولاد ہو‘ ہم نے کبھی تمہیں اپنی بھتیجی نہیں جانا ہمیشہ اپنی بیٹی سمجھا ہے۔ تمہاری ہر خواہش کو مقدم جانا ہے لیکن یہ جو تم نے ماڈلنگ والی حرکت کی ہے اس سے ہمیں بے حد صدمہ ہوا ہے۔‘‘ انہوں نے کچھ سخت طریقے سے اسے ملامت کرنے کاسلسلہ شروع کیا جس کادورانیہ ایک گھنٹے پر تھا جس میں انہوں نے اسے اپنے سیدخاندان کے حسب نسب کی اونچ نیچ سمجھائی تھی۔
’’سوری باباجان‘ بس میں نے تو یہ کام شوقیہ کیا تھا۔ میری ایک دوست ہے‘ انہیں کے میگزین کے لئے میں نے کام کیا تھا۔‘‘ نگی نے نادم ہوتے ہوئے وضاحت کی تھی۔
’’کیا ہم امید رکھیں کہ آئندہ تم ایسی حرکت نہیں کروگی۔‘‘ سید صاحب اس کی شرمندگی محسوس کرکے کچھ نرم ہوئے تھے۔
’’جی۔‘‘ نگی نے آہستہ سے کہتے ہوئے نگاہیں جھکالیں۔ اس کاشوق دب گیا۔ فی الحال تو اسے یہ احساس ہو رہاتھا کہ اس سے کچھ غلط ہوگیا ہے۔
’’میری بیٹی بہت سمجھدار ہے۔‘‘ اس کی سعادت مندی پرسیدصاحب یکلخت پرسکون دکھائی دینے لگے تھے۔
معظم کوتقریباً دو گھنٹے ہوچکے تھے لان میں بیٹھے ہوئے وہ دانستہ سیدمکرم علی شاہ اور نگینہ کے بیچ سے نکل آیا تھا اندر جس طرح کی میٹنگ چل رہی تھی وہ اچھی طرح جانتا تھا۔ وہ کرسی کی بیک سے سرٹکائے بیٹھا تھا۔ معاً جالی دار دروازہ کھلنے کی مخصوص آواز پر اس کی نگاہیں گھر کے اندرونی حصے کی سمت اٹھی تھیں جہاں سے سیدمکرم علی شاہ نگینہ کے ساتھ سیڑھیاں اتر کر لان کی سمت ہی آرہے تھے۔
’’معظم! ہم ذرا ایاز پیرزادہ(دوست) کی طرف جارہے ہیں۔ اب آئے ہیں تو ان سے بھی ملتے جائیں۔ صبح تو ہماری واپسی ہے تم ایسا کرو نگی کو ذرا ہاسٹل چھوڑآئو۔‘‘ سید صاحب نے نزدیک آتے بلند آواز میں بیٹے کو حکم دیا تھا۔
of 16 
Go