Urdu Novels

Back | Home |  

 

خواب سرائے۔۔۔۔۔عالیہ بخاری
بس ایک دھچکا کے ساتھ رکی تھی۔
بہت سارے لوگ ایک ساتھ اترنے لگے۔ ثانیہ نے کھڑکی کے شیشے کے باہر بھاگتی دوڑتی زندگی کو دیکھا۔
معلوم نہیں‘ کون سی جگہ تھی؟ کنڈیکٹر نے چلا چلا کر کچھ اعلان کیا تو تھا‘ مگر وہ سارے راستے جن سوچوں میں گم رہی تھی‘ وہ ابھی تک غالب تھیں۔
’’ہمیں بھی یہیں اترنا ہے خالہ۔‘‘ پچھلی سیٹوں پر سے شہزاد اُٹھ کر اِدھر ہی چلا آیا۔
اسے بالکل پیچھے والی لائن میں جگہ ملی تھی۔ جب وہ نواب شاہ سے چلے تھے تو رش ہی اتنا تھا کہ بمشکل یہ دو سیٹیں‘ جن پر ثانیہ اور اماں بیٹھی تھیں‘ کنڈیکٹر نے ایڈجسٹ کی تھیں۔
’’میں نیچے جا کر سامان اترواتا ہوں۔ ثانیہ باجی آپ خالہ کو سہارا دے کر لے آئیں۔‘‘
ہدایت دیتا ہوا وہ آگے بڑھ گیا۔
اماں بے چاری فوراً ہی اٹھنے کی کوشش کرنے لگیں۔ ثانیہ نے آگے بڑھ کر انہیں سہارا دیا۔ اتنے گھنٹے پیر ٹکا کر ایک ہی نشست پر بیٹھنے سے وہ کتنی زیادہ تکلیف محسوس کر رہی ہوں گی۔ اسے اچھی طرح اندازہ تھا۔
’’ذرا دیکھ کر بھائی‘ پیچھے لیڈیز آرہی ہیں۔‘‘
ثانیہ نے سنا شہزاد اُترتے ہوئے کنڈیکٹر سے کہہ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔ دبلا پتلا اٹھارہ انیس سالہ شہزاد نواب شاہ سے کراچی تک کے اس سفر میں کتنا بڑا سہارا ثابت ہوا تھا۔
سارے راستے اس کے احساسِ ذمہ داری میں ذرا کمی واقع نہیں ہوئی تھی۔ پچھلی سیٹوں پر سے وہ بار بار اٹھ کر اس کی اور اماں کی خیریت پوچھنے آتا رہا۔ چند ایک مسافروں نے اس کے مستقل پھرنے پر منہ بھی بنایا‘ مگر وہ ہر بار بڑی عاجزی سے ان سے معافی مانگتا رہا۔
کنڈیکٹر کوئی بھلا شخص تھا۔
بیچ میں سے لوگوں کو ہٹا کر اس نے اماں کو اتارنے میں فوراً ہی مدد کی۔
شہزاد سامان فٹ پاتھ پر ایک طرف لگا چکا تھا۔
’’میں نے سب گن لیا ہے‘ پوری چیزیں ہیں۔ آپ خالہ کو لے کر اِدھر سامان کے پاس کھڑی ہو جائیں۔ میں ٹیکسی وغیرہ دیکھتا ہوں۔‘‘
ثانیہ اور اماں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
اب تک کی ساری تفصیلات شہزاد کی ہی طے کی ہوئی تھیں۔ وہ کراچی اکثر آتا جاتا رہتا تھا اور بقول اس کے‘ کراچی کا پورا نقشہ اسے ازبر تھا۔ سو رہنمائی کی ذمہ داری اسی کے سپرد ہوئی تھی۔ میر کارواں بنا وہ کئی روز سے اس پروگرام کو فائنل کر رہا تھا۔
’’سفر ٹرین سے ہو یا بس سے۔‘‘
’’کون سی بس سروس بہتر رہے گی؟‘‘
’’راستے میں کھانا کون سے سٹاپس پر اچھا ملتا ہے‘ وغیرہ وغیرہ…‘‘
اماں کوٹرین میں سہولت رہتی‘ مگر آج کل ٹرینوں میں غضب کا رش پڑ رہا تھا۔ بس میں کم از کم اپنی سیٹ اپنی تو رہتی ہے اور پھر وقت کی بھی بچت بھی۔
شہزاد نے اس معاملے میں بھی اماں کو کنوینس کر دیا‘ مگر اس وقت جب وہ بڑا معتبر بنا ٹیکسی والوں سے بھائو تائو کر رہا تھا تو اسے اماں کی رائے لینے کی ضرورت پیش آ ہی گئی۔
’’خالہ پہلے کدھر چلنا ہے۔ جمیل ماموں کے گھر یا خالو کے دیئے ہوئے ایڈریس پر۔‘‘
ٹیکسی والے سے اپنی گفتگو ادھوری چھوڑ کر وہ اسی سوال کو لئے چلا آیا‘ جو اتنے دن سے جواب طلب تھا۔ 
’’پہلے اپنے خالو کے بتائے ہوئے پتے پر چلو۔‘‘اس بار اماں نے حتمی جواب کے لئے لمحہ بھی نہیں لگایا۔ انہیں جتنی بار سوچنا تھا‘ شاید وہ سوچ چکی تھیں۔ ثانیہ نے مضطرب سی نگاہوں سے ان کی طرف دیکھا۔ معلوم نہیں اب وہ تقدیر کو کس انداز میں آزمانے کا سوچے ہوئے تھیں۔

 

’’جمیل ماموں کے گھر ہی چلیں نا اماں۔ یہ لوگ معلوم نہیں کون ہیں؟ ہم سے ملنا پسند بھی کریں گے یا نہیں۔‘‘ حالانکہ جمیل ماموں کے گھر سے بھی کوئی ریڈ کارپٹ ویل کم والی خوش فہمی نہیں بندھی ہوئی تھی‘ مگر پھر بھی ابا کے ان گئے گزرے قسم کے ملنے والوں سے تو زیادہ ہی اپنے اپنے سے لگتے تھے۔
اماں پوری طرح سے شہزاد کی طرف متوجہ تھیں۔ ثانیہ کی منمناہٹ کو انہوں نے ڈھنگ سے سنا ہی نہیں۔ ’’جیسا میں کہہ رہی ہوں ویسے ہی کرو بیٹا۔ تمہارے خالو ہمیشہ ہی کہتے تھے کہ کبھی بھی اگر ضرورت پڑے تو…‘‘
اماں یہ بات اتنی بار دہرا چکی تھیں کہ اب کوئی ایک لفظ بھی اِدھر اُدھر محسوس نہیں ہوتا تھا۔ مگر شہزاد اس طرح اثبات میں سر ہلائے جا رہا تھا‘ جیسے یہ انکشاف اس پر ابھی ابھی ہی ہوا ہو۔
اصل بات عادت کی تھی۔ اماں کو ساری زندگی ابا کی باتیں مانتے رہنے کی عادت رہی تھی اور یہ عادت اب اتنی پختہ ہو چکی تھی کہ اب ان کے اس دنیا سے رخصت ہو جانے کے چھ ماہ بعد بھی وہ ہر موقع کے لئے ان کی کہی باتوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر تازہ کئے رکھنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھیں۔
ٹیکسی میں سامان رکھا جا رہا تھا۔
ایڈریس کا پرچہ اماں کے پاس تھا‘ مگر کل رات جب بالکل آخری چیزیں سمیٹی جا رہی تھیں۔ اس وقت شہزاد نے بھی ایک پرچہ پر لکھ کر اپنے پاس رکھ چھوڑا تھا۔ ٹیکسی والے کے ہاتھ میں اس وقت وہی پرچہ تھا اور اسے پڑھ کر وہ بڑے پرُاعتماد انداز میں سر ہلا رہا تھا۔
’’بڑا سیدھا اور صاف پتہ ہے خالہ آرام سے پہنچ جائیں گے ہم لوگ۔‘‘
اماں اور ثانیہ پچھلی سیٹ پر بیٹھ چکی تھیں۔ ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ کر شہزاد نے گردن موڑ کر تسلی دینی ضروری سمجھی۔
ثانیہ نے یوں ہی ایک پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلا دیا۔ اس لمبے سفر کے تقریباً اختتام پر پہنچنے کے بعد دل کو ایک عجیب سی گھبراہٹ نے گھیرنا شروع کر دیا تھا۔ اتنے دن سے جب رختِ سفر بندھنا شروع ہی ہوا تھا۔ اس وقت سے اب تک جس کمال کی بے حسی اس پر طاری رہی تھی‘ وہ ٹوٹی بھی تو کہاں آکر۔
’’بس اب خدا کرے گھر نہ بدلا ہو ان لوگوں نے۔ اتنے سالوں سے کوئی کنٹیکٹ نہیں تھا خالو کا ان سے۔ کیا پتہ نارتھ ناظم آباد چھوڑ کر کہیں اور…‘‘ شہزاد کی قیاس آرائی کی اماں نے پورا ہونے سے پہلے ہی تردید کر دی۔
’’وہ لوگ وہیں ہوں گے۔ ان کے والد محروم کا بنایا ہوا گھر ہے۔ کم از کم اپنی زندگی میں تو وہ اسے نہیں چھوڑ سکتے۔ آگے ان کی اولاد وہاں رہنا پسند کرے نہ کرے یہ اور بات ہے۔‘‘
کسی کو بغیر دیکھے‘ بغیر ملے وہ اتنے پرُیقین انداز میں بات کر رہی تھیں کہ ثانیہ کو حیرت ہونے لگی۔ ابا کے یہ پہلے ملنے والے تھے‘ جن کا ذکر اس قدر تفصیل اور تواتر سے ان کے انتقال کے بعد ہو رہا تھا۔ ورنہ وہ کوئی ایسے سوشل قسم کے شخص ہرگز بھی نہیں تھے۔ ان کے جتنے بھی ملنے والے تھے گلی محلے کی حد تک ہی محدود تھے۔
’’اماں۔ آپ ملی ہیں کیا ان لوگوں سے پہلے کبھی؟‘‘ اسے پوچھ ہی لینا پڑا۔ حالانکہ سائے کی طرح تو وہ خود ہمیشہ اماں کے ساتھ ساتھ رہی تھی‘ پھر بھی شاید کبھی بچپن میں ایسا ہوا ہو۔ مگر ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔
’’میں کہاں مل لیتی۔ تمہارے ابا کبھی نکلے ہی نہیں نواب شاہ سے شادی کے بعد۔‘‘
سادہ سے لہجے میں کہہ کر وہ چہرہ دوسری طرف موڑ کر باہر دیکھنے لگیں۔
اب کچھ اور پوچھنا فضول ہی تھا۔ ویسے بھی یہ سارے سوالات‘ جو ایک دم ہی ہاتھ باندھ کر سامنے آکھڑے ہوئے تھے۔ ان کا جواب اس چلتی ہوئی ٹیکسی میں ڈھونڈا بھی نہیں جا سکتا تھا اور ابھی تھوڑی دیر پہلے تک جب وہ بس سے اُتری تھی تو اسی یقین میں تھی کہ وہ لوگ جمیل ماموں کے گھر ہی جا رہے ہیں۔ پچھلے ماہ وہ بے چارے خود بھی اسے اور اماں کو لینے آئے تھے‘ لیکن وہاں مزید کچھ کام نمٹانے باقی رہ گئے تھے۔
’’جمیل ماموں کو ضرور برا لگے گا کہ ہم لوگ کہیں اور ٹھہرے ہیں۔ ان کے گھر رُک کر بھی تو کچھ دن بعد یہاں آیا جا سکتا تھا۔‘‘ سفر کٹنے کے ساتھ جو گھبراہٹ بڑھتی جا رہی تھی‘ اس کو چھپاتے ہوئے اس نے اماں کو جمیل ماموں کے ہاں ’’پہلے جانے‘‘ کا اخلاقی پہلو یاد دلانا چاہا‘ مگر اب اماں بیچ راستے میں اپنا فیصلہ بدلنے کے لئے تیار نہیں تھیں۔
’’برُا لگنے کی کوئی بات نہیں اس میں۔ پھر یہ کہ جمیل کو میں یہاں سے کل کسی وقت فون کر دوں گی۔ وہ آکر خود مل جائے گا۔‘‘ ابا کی دی گئی ان چوبیس چھبیس سال پرانی انفارمیشن میں اُمید کا کوئی روشن سرا یقینا تھا۔
اگلی سیٹ پر بیٹھا شہزاد عادتاً ہی اماں کی ہاں میں ہاں ملائے جا رہا تھا۔ ’’اور کیا‘ جمیل ماموں کے یہاں تو کسی وقت بھی جایا جا سکتا ہے‘ پھر خالو نے جب تاکید کی تھی کہ آپ اور خالہ سیدھی یہیں جائیں 

 

تو کچھ سوچ کر ہی کی ہو گی نا۔‘‘ ثانیہ کے پاس اس جذباتی دلیل کے جواب میں کچھ بھی کہنے کے لئے نہیں تھا۔ ابا کی وصیت کسی پاکستانی فلم کی گھسی پٹی سچوئشن کی مانند نہیں تھی‘ جس کا اعلان ان کے انتقال کے بعد کسی ڈرامائی منظر میں ہوا ہو اور جس کے اوپر عمل درآمد کی انہوں نے سختی سے تاکید کی ہو۔
بس اتنا تھا کہ اپنی بیماری کے آخری دنوں میں وہ اکثر یہ کہنے لگے تھے کہ ان کے بعد اماں اسے لے کر ایک بار ضرور ان کے دیئے ہوئے پتے پر چلی جائیں۔
’’کبھی بھی تمہیں ایسا لگے کہ ثانیہ کو لے کر اکیلے رہنے میں دشواری پیش آرہی ہے تو فوراً ہی یہاں سے چلی جانا۔‘‘
اس نے ایک آدھ بار خود بھی ابا کو یہ کہتے سنا تھا اور اس وقت اتنا بُرا لگا تھاکہ بس۔
ان کی طویل بیماری کے باوجود بھی دل میں ان کے لئے کسی بُرے امکان کا گمان تک نہیں گزرتا تھا‘ مگر وہ پھر بھی چلے ہی گئے۔
ثانیہ نے باہر کے نظارے میں خود کو محو کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی آنکھیں چپکے سے رگڑیں۔
’’اور اب وہ خود جا رہی ہے ایک اجنبی گھرانے میں بن بلائے مہمان کی حیثیت سے‘ نامعلوم مدت تک کے قیام کے لئے۔‘‘
بنا کسی لحاظ اور مروت کے اس سارے چکر میں اس نے اپنا مقام متعین کیا۔ بات کتنی بھی توہین آمیز سہی‘ سچ تو تھی۔
ٹیکسی رُک چکی تھی۔ شہزاد ان لوگوں کو روک کر پہلے خود ٹیکسی سے اترا۔
’’سڑک تو یہی ہے خالہ۔ میں ذرا گھر کون سا ہے یہ کنفرم کر لوں؟ انہی سامنے کے دو چار گھروں میں سے ایک ہو گا۔‘‘ وہ کہہ کر چلا گیا۔
ثانیہ حیرت سے ہزار گز کے وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے ان شاندار گھروں کو دیکھتی رہی۔ حیرت اسے گھروں کے شاندار ہونے پر نہیں تھی‘ بلکہ ان میں سے کوئی ایک ابا کے کسی عزیز کا بھی ہو سکتا ہے‘ اس پر ہو رہی تھی۔ کراچی میں اس کی گھر کے بارے میں واقفیت جمیل ماموں کے چھوٹے چھوٹے تین کمروں والے گھر تک ہی تھی۔ شاید ذہن میں خودبخود ہی کہیں یہ بات فرض ہو چکی تھی کہ اس وقت جو مطلوبہ منزل ہے اس کا نقشہ بھی کچھ اسی سے ملتا جلتا ہو گا۔
’’آ جائیں‘ مل گیا۔ یہی نمبر ہے۔ وہ سامنے تیسرا۔‘‘ شہزاد پرُجوش انداز میں دور سے ہی کہتا آرہا تھا۔ راہ چلتے ایک دو لوگوں نے اس کی طرف دیکھ کر ہلکی سی مسکراہٹ بھی پاس کی۔
بڑے گھروں میں تیسرا گیٹ بھی کچھ دور ہی تھا۔ ٹیکسی والے نے گاڑی آگے بڑھا کر ٹھیک سامنے کے تیسری گھر کے گیٹ پر جا کر کھڑی کر دی۔
ثانیہ کو بڑا عجیب سا لگ رہا تھا۔
’’معلوم نہیں پتہ غلط تھا یا…؟‘‘
’’آپ اُتریں‘ میں سامان نکال کر لاتا ہوں۔‘‘
شہزاد اماں کو اتارتے ہوئے کہنے لگا تو انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا۔ یقین میں شاید یہ پہلی دراڑ تھی۔
’’ابھی سامان رہنے دو‘ پہلے میں خود ذرا بات کر لوں۔‘‘ انہوں نے شہزاد کو بھی اپنے پیچھے نہیں آنے دیا۔ وہ اور ثانیہ ٹیکسی کے ادھ کھلے دروازوں کے ساتھ لگے کھڑے ہی رہ گئے۔
’’کتنا اچھا گھر ہے۔ آپ کو یہاں رہنے میں بہت مزا آئے گا ثانیہ باجی۔‘‘ شہزاد نے اسے تسلی دینا چاہی تھی یا اس کے خیالات ابھی تک اتنے بچگانہ تھے۔ ثانیہ کو ہلکی سی ہنسی آ ہی گئی اور اسی وقت اپنے قریب سے گزرتی ایک نئی چمچماتی کرولا کو اس نے سامنے والے گیٹ پر رکتے دیکھا۔
اماں وہیں رک کر کھڑی ہو گئیں۔ ڈرائیور ان سے کچھ بات کر رہا تھا۔ معلوم نہیں اماں کو اپنی بات سمجھانی آرہی تھی یا نہیں۔ جب ہی ڈرائیور کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی خاتون نے شیشہ نیچے کرتے ہوئے ’’بات چیت‘‘ کی باگ ڈور خود سنبھالی۔
امارت کی چکا چوند سے جگمگاتا یہ چہرہ سخت مرعوب کرنے والا تھا۔ با ادب‘ باملاحظہ ہوشیار کی صدائیں بلند کرتا ہوا۔ اماں سے عمر میں چھوٹی ہونے کے باوجود وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے ان کی بات ڈھنگ سے سننے کے لئے بھی تیار نہیں تھیں اور شاید کسی کو دینے کے لئے ان کے پاس ایک منٹ بھی نہیں تھا۔بڑا گیٹ کھل کرگاڑی اندر جا چکی تھی اور جب شہزاد اماں کو سہارا دے کر ٹیکسی میں بیٹھا رہا تھا تو وہ آہستہ سے بولی۔
’’بس اب لیاقت آباد ہی چلو۔‘‘
…٭٭٭…
لکڑی کے بڑے سارے ہرے رنگ کے گیٹ کے اندر قدم رکھتے ہی سارا منظر یک دم تبدیل ہو جاتا تھا۔
of 314 
Go