Urdu Novels

Back | Home |  

کسی پتھر کی مورت سے…سمیرا شریف طور
میں ابھی تک ہتھوڑوں کی بارش محسوس کر رہا تھا۔ مجھے اپنا پورا وجود ہوا میں معلق ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا گویا کوئی انہونی ہوگئی ہو، میری دنیا میں کوئی طوفان آگیا ہو اور واقعی کوئی طوفان آگیا تھا۔ مجھ پر سکتہ ساطاری ہو گیا تھا۔
’’یہ کیا کر دیا میں نے…میں کس قدر ظالم باپ تھا۔اپنی ذات کے حصار میں مقید اپنے ہی نقصان کا شدید سبب بنتا چلا گیا اور مجھے علم ہی نہ ہو سکا۔ وہ لڑکی جسے میں نے ہمیشہ نفرت کی نظر سے دیکھا۔ اس کے وجود پر لاتعلقی کے کوڑے برسائے، وہ آج میری روح، میری زندگی کی واحد خوشی، میری زندگی کا سبب بن جائے گی۔اس قدر شدید محبت کرتا ہوں اس سے اور ہمیشہ بے خبر رہا۔‘‘ تین دن سے وہ اسپتال میں تھی اور میں تین دن سے ضمیر کی سخت گرفت میں تھا۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ ابھی بھی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہی ہو۔ وہی بیٹی جس نے آج تک میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کی تھی۔ جس کی زبان سے میرے رویے پر احتجاج کا ایک لفظ تک نہیں نکلا تھا، وہ تین دن پہلے میرے سامنے کھڑی میری ایک ایک لغزش مجھے بتاتی ہوئی، مجھے آئینہ دکھا رہی تھی۔
میں تین دن سے اسپتال میں تھا۔ رات کو سلامہ شاہ نے مجھے زبردستی گھر بھیج دیا تھا تاکہ میں آرام کر سکوں مگر اب آرام کہاں؟ رات بھر اپنی کنپٹیوں کو مسلتے، اپنے شدید نقصان کا تعین کرنے میں مصروف تھا۔ کہاں کہاں مجھ سے حقوق کی بجا آوری میں لرزش ہوئی؟ کہاں کہاں میں غلط تھا۔مجھے اپنی ساری زندگی سے ہی شرم آرہی تھی۔
’’پاپا،آئی ہیٹ یو۔ آئی ہیٹ یو…‘‘ ماورا کے الفاظ ایک دفعہ پھر میرے ذہن میں گردش کرنے لگے تھے۔میں ایک دم بستر سے اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگا۔ بیڈ کی سائیڈ دراز کے اوپر میری اور سارا کی شادی کی تصویر رکھی ہوئی تھی۔ جسے میں نے کبھی اپنی زندگی سے جدا نہیں کیا تھا۔ میں نے وہ تصویر اٹھالی۔
تصویر میں موجود سارہ آج بھی اپنے ملکوتی حسن سمیت لاثانی تھی۔ وہ ہمیشہ اپنے بھرپور حسن سمیت میرے دل پربجلیاں گراتی رہی تھی اور یہی خود فراموشی آج میری اس اذیت کا سبب بنی ہوئی تھی۔ میں واقعی جنونی تھا۔ سارہ کی وفات کے تیئس، چوبیس سال بعد بھی میں نے اسے زندہ رکھا ہوا تھا۔ اپنی یادوں میں، اپنے خیالوں میں، اپنی سوچوں میں اپنی ساری زندگی میں۔ وہ کبھی مجھ سے جدا نہیں ہوئی تھی۔ ایک عرصہ پہلے میں نے اپنے ہاتھوں سے سارہ کے وجود کو لحد میں اتارا تھا مگر تیئس، چوبیس سال تک میں نے خود کو اس کی موت کا یقین ہوجانے کے باوجود دھوکے میں مبتلا کر رکھا تھا کہ وہ ابھی بھی زندہ ہے۔ محبت کبھی بھی نہیں مرتی۔ ہاں واقعی میں بہت جنونی تھا اور اسی لیے تو ماورا مجھ سے کہہ رہی تھی۔
’’بہت جنونی ہیں پاپا آپ!…آپ نے صرف ایک محبت کی اور کیا کیا آپ نے ساری زندگی۔ماضی پر ماتم کرتے کرتے گزار دی، یہ تک خیال نہ آیا کہ میں کون ہوں، کیا رشتہ ہے میرا آپ سے۔‘‘پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے اس نے کہا اور تین دن سے وہ جس طرح چپ چاپ اسپتال کے بستر پر پڑی تھی مجھے ہر آن، ہر لمحہ طوفانوں کی زد میں دھکیلتی جا رہی تھی اور اب سارہ کی تصویر کو دیکھتے، اس کے الفاظ یاد کرکے کوئی میرا دل مٹھی میں بھینچ رہا تھا۔
’’ماورا! میری زندگی، سچ کہا تم نے میں واقعی بہت جنونی ہوں۔ ماضی میں جینے والا۔‘‘اپنے آپ سے اعتراف کرتے ہوئے میں نے وہ تصویر واپس رکھ دی اور خود کو ماضی کی بھول بھلیوں میں گم ہونے سے نہ روک پایا۔
vvv
سارہ رحمان میری کلاس فیلو تھی۔ وہ بہت حسین اور پورے ڈپارٹمنٹ کی جان تھی۔ہم دونوں ایم بی اے کے ڈپارٹمنٹ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ شہر کے ایک بڑے بزنس مین کی بیٹی تھی۔تھا تو حیثیت و مرتبے میں بھی کچھ کم نہیں۔ میرا تعلق بھی ایک کھاتے پیتے فیوڈل گھرانے سے تھا۔ اپنے ماحول سے نالاں، اکتایا ہوا اور لاتعلق۔ مجھے اپنے باپ کی وراثت میں ایکڑوں کے حساب سے ملنے والی جائیداد سے کوئی غرض نہ تھی۔ مجھے ہر وہ کام کرنے کا جنون تھا جو میرے باپ غفار شاہ کوناپسند تھا۔ انہیں میر ی ذات کے ہر کام میں مداخلت کرنے کی عادت تھی، بچپن کی حدود سے نکلتے ہی میں نے اپنی مرضی کرنا شروع کر دی تھی۔ انہیں ہر ایک کو اپنے زیر اثر رکھنے کا خبط تھا اور میں ان کے زیر اثر رہنے پر قطعی تیار نہ تھا۔ بابا جان کاخیال تھا کہ میں سیاست کی لائن میں آؤں اور مجھے اس سے کوئی غرض نہ تھی۔میری وجہ سے ان کی حیثیت مزید مستحکم ہوسکتی تھی جب کہ میں نے ان کے سب ارادوں پر پانی پھیرتے ہوئے بزنس لائن جوائن کی تھی۔ میرے اور بابا جان کے ہمیشہ نظریاتی اختلافات رہے تھے۔ میں اپنے سسٹم سے اکتایا برگشتہ فطرت کا مالک انسان تھا۔ ایسے میں سارہ سے ملاقات ہونا، اسے دیکھنا۔ میرے احساسات کا محور بدل گیا تھا۔ پہلی نظر کی محبت کیا ہوتی ہے مجھ پر آشکار ہوئی تھی۔


ایم بی اے کا پورا عرصہ میں نے سارہ سے دوستی رکھی اور اپنے سب جذبوں کو دل میں سنبھالے رکھا۔ پھر جیسے ہی میں نے تعلیم کو خیرباد کہا تو بی بی جان سے سارہ کے متعلق بات کی اور انہوں نے بابا جان سے۔ ہمارے خاندان میں اپنی ذات برادری اور خاص طور پر غیر خاندان میں کبھی شادیاں نہیں کی جاتی تھیں۔میری خواہش جان کر بابا جان بہت برگشتہ ہوئے۔ بی بی جان نے ہر طرح سے مجھے سمجھانے کی کوشش کی مگر میں اپنے جذبوں پر بندھ نہ باندھ سکا۔ بابا جان کسی بھی طور پر میری شادی اپنی مرضی کے بغیر کسی غیرخاندان میںکرنے پر راضی نہ تھے اور میں بھی اپنے ارادوں میں اٹل اور ضد کا پکا انسان تھا۔ نجانے کیوں بابا جان سے نظریاتی اختلافات رکھتے رکھتے ان کے ہر فیصلے سے انکار کرنے کی ضدی خاصیت میرے اندر اپنی جڑیں مضبوط کرتی جا رہی تھی۔ بابا جان، سبحان بھائی، دونوں بہنیں بھاوج، بی بی جان سب نے سمجھانے کی کوشش کی مگر میں راضی نہ ہوا اور پھر بابا جان نے غصے میں آکر مجھے ہمیشہ کے لیے حویلی سے نکل جانے کو کہا اور میں بھی اپنا مختصر سا سامان لے کر ان سے قطع تعلق کر آیا۔
حویلی سے نکلتے ہوئے میںبالکل خالی تھا لیکن ایک عزم میرے ساتھ تھا اور شاید قسمت بھی مجھ پر مہربان تھی کہ مجھے ایک بہت اچھی کمپنی میں اعلیٰ درجے کی ایک ملازمت مل گئی۔ گاڑی، گھر وغیرہ کی بھی سہولت تھی پھر میں نے سارہ کے حصول کے لیے کوششیں شروع کردیں۔
پہلے پہل جب سارہ کو یہ علم ہوا کہ میں اسے ایک عرصے سے چاہنے کی جسارت کرتا آیا ہوں تو وہ بہت حیران ہوئی مگر پھر آہستہ آہستہ میرے بار بار اس کی راہ میں آنے پر وہ بھی میری محبت میں مبتلا ہوتی چلی گئی۔ شاید سارا کے والدین مجھ جیسے تنہا شخص سے اپنی چہیتی بیٹی کی شادی کرنے پر کبھی راضی نہ ہوتے اگر میری خاطر وہ اپنے والدین کے سامنے نہ کھڑی ہوتی۔ رو دھو کر، ضد کرکے آخر کار اس نے اپنے والدین کو راضی کر ہی لیا اور پھر ہماری شادی ہوگئی۔
سارہ کا میری زندگی میں آنا بہت خوش آئندہ ثابت ہوا۔جن حالات میں وہ میری زندگی میں آئی تھی، میں مالی مسائل میں الجھا ہوا تھا لیکن اس نے ہر حال میں میرا ساتھ دیا، کبھی بھی میری کم مائیگی پر مجھے طعنہ نہیں دیا۔ وہ عیش و عشرت میں پلی بڑھی لڑکی تھی لیکن میری زندگی میں آتے ہی وہ اپنی گزشتہ زندگی کو، اپنے والدین کے ہی گھر بھول آئی تھی۔ شادی کے بعد میں نے اپنے ایک دوست کے ساتھ بینک سے لون لے کر شراکت داری کی بنیاد پر چھوٹا سا بزنس شروع کر دیا۔ذرا سیٹل ہواتو سارہ کے ہمراہ دوبارہ حویلی گیا، میرا خیال تھا کہ اب بابا جان شاید اپنی ضد کو بھول کر مجھے اپنالیں مگر یہ میری خام خیالی ہی ثابت ہوئی اور بابا جان نے ہم دونوں کو بہت بے عزت کرکے حویلی سے نکال دیا اور پھر اس کے بعد میرے دل میں دوبارہ حویلی والوں سے ملنے کی کوئی حسرت نہ جاگی۔
سارہ سے شادی کے تین سال بعد اﷲ تعالیٰ نے ہم پر کرم کیا۔ سارہ ماں بننے والی تھی۔ جہاں میں بے انتہا خوش تھا وہیں سارہ کی خوشی دیکھنے کے لائق تھی۔ سارہ کے والدین جو وقتی طور پر ہم دونوں سے بدظن تھے یہ خوشخبری سن کر وہ سارہ کو اپنے پاس لے گئے۔میں بھی اکثر وہاں چلا جاتا۔جوں جوں سارہ کی ڈلیوری کے دن قریب آتے جا رہے تھے میری بے چینی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا کیونکہ ڈاکٹرز نے سارہ کے کیس کو نارمل قرار نہیں دیا تھا۔ ان ہی دنوں مجھے اپنے کام کے سلسلے میں ترکی کے وزٹ پر جانا پڑ گیا۔ میں جانے پر راضی نہیں تھا لیکن سارہ نے اصرار کرکے بھیج دیا، بقول اس کے کہ میں اس کی خاطر اپنی ترقی کے اتنے اہم موقعے کو مت گنواؤں اور میں چلا گیا۔ ابھی مجھے وہاں پہنچے چار دن ہی گزرے تھے کہ پاکستان سے خبر آئی کہ سارہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ ڈلیوری کے دوران اس کی ڈیتھ ہوگئی تھی۔ یہ خبر میرے لیے ایک زبردست ذہنی جھٹکا ثابت ہوئی۔ نجانے میں کیسے پاکستان پہنچا۔ سارہ نے ایک بچی کو جنم دیا تھا۔ مجھے اپنی نومولود بچی سے بے انتہا نفرت ہوئی جس کی آمد نے مجھ سے میری عزیزاز جان بیوی کو چھین لیا۔ میں نے ایک دفعہ بھی اپنی بیٹی کو دیکھنے کی خواہش نہ کی۔ اس کی نانی ہی اسے سنبھال رہی تھیں۔ سارہ کی وفات کے کئی ہفتے بعد بھی میری ذہنی حالت سنبھل نہ پائی۔ اپنے خاندان والوں سے میں بالکل کٹا ہوا تھا ایسے حالات میں کوئی بھی مجھے ذہنی سپورٹ دینے والا نہ تھا۔ میری توجہ اپنے بزنس سے ختم ہو کر رہ گئی تھی بلکہ زندگی سے بھی ختم ہوگئی۔میری مسلسل عدم دلچسپی کا نتیجہ تھا کہ میرا بزنس ختم ہو کر رہ گیا۔ اب اس جگہ رہنے کو میرا دل نہیں چاہتا تھا۔ سب کچھ چھوڑ کر میں واپس گاؤں پہنچا۔ بی بی جان مجھے یوں لٹا پٹا دیکھ کر بہت آزردہ ہوئیں۔ بابا جان اور سبحان بھائی البتہ خاموش ہی تھے۔کچھ وقت گزرا تو بی بی جان مجھ پر دوبارہ شادی کے لیے زور ڈالنے لگیں لیکن سارہ کے بعد کچھ بھی اچھا نہیں لگتا تھا۔ حقیقتاً میںنے سارہ کو اپنے تصور میں مرنے ہی نہیں دیا تھا وہ مر کر بھی میرے اندر سے نہیں نکلی تھی۔ ایسے میں کسی دوسرے وجود کو اپنی زندگی میں کیسے شامل کر لیتا۔ یہ میرے لیے ناممکن تھا۔ جب اماں جی کے ساتھ بھاوج اور بابا کا بھی دباؤ بڑھنے لگا تو میں پھر سب تعلق ختم کرکے وہاں سے نکل آیا۔ ماورا اپنی نانی کے پاس تھی۔ انہوں نے ہی اس کا نام ماورا رکھا تھا۔میری عدم دلچسپی دیکھتے ہوئے انہوں نے اسے پاس ہی رکھنے کا فیصلہ کیاتھا جس سے میں بھی مطمئن ہوگیا تھا۔ اب پاکستان میں رہنے کو جی نہیں چاہتا تھا۔’’بچا کچا سب کچھ سمیٹ کر میں لندن آبسا اور پھر یہاں جاب کر لی۔ پتا نہیں کتنا عرصہ گزرا تھا۔ مجھے کبھی ماورا کے وجود کا خیال نہیں آیا۔ ہاں البتہ ماورا کے ننھیال والے اکثر رابطہ کرکے اس کی خیرخیریت سے آگاہ کرتے رہتے تھے۔ اس سے زیادہ مجھے ماورا سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ ایک نفرت سی میرے دل میں اس کے لیے تھی پھر رفتہ رفتہ دس سال گزر گئے

اور ایک دن ماورا کی نانی کا فون آیا۔
vvv
’’میں بہت بیمار ہوں۔زندگی کا کچھ نہیں کہہ سکتی…ماورا کو میں سارہ کی نشانی سمجھ کرسینے سے لگا کر پالتی آرہی تھی مگر اب یہاں کے حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔ مجھے علم نہیں کہ سارہ کے بھائی بھی ماورا کو بہن کی نشانی سمجھ کر وہی محبت و پیار دیں گے جو میری موجودگی میں دیتے ہیں۔ وہ تمہاری امانت ہے بیٹا۔ اپنی بیٹی کے بارے میں سوچو۔وہ اب بڑی ہو رہی ہے تمہاری مسلسل غیر حاضری کے متعلق سوال کرنے لگی ہے۔میںاسے مسلسل کسی نہ کسی طرح بہلا لیتی ہوں مگر اب بچی کو تمہاری ضرورت ہے۔ جو تحفظ تم دے سکتے ہو وہ میں یا کوئی اور نہیں دے سکتا۔اس لیے بیٹا اپنی بیٹی کے بارے میں سوچو۔‘‘
پھر مجھے واپس آنا پڑا۔ ماورا کے لیے میرے دل میں قطعی کوئی گنجائش نہ تھی۔ بس ولدیت کے خانے میں میرا نام درج تھا، یہی وہ رشتہ تھا جو اسے میری بیٹی بناتا تھا۔ اسے لے کرمیں حویلی چلا آیا۔دس سال بعد میں دوبارہ وہاں آیا تھا۔ وہاں کا ماحول ویسا ہی تھا۔ بابا جان کا رویہ ہنوز وہی تھا۔ پہلے انہوں نے سارہ کو بہو ماننے سے انکار کیا تھا اب میری بیٹی کو اس خاندان کا خون ماننے سے انکاری ہوگئے تھے اور تب پہلی بار میرے دل میںیہ احساس جاگا کہ وہ میری بیٹی ہے۔میرا خیال تھاکہ اسے میں حویلی چھوڑ کر واپس لندن چلا جاؤں گا لیکن بابا جان کے خود پسند رویہ نے میرے اندر اشتعال بڑھادیا۔ انہیں یہ گوارا نہیں تھا کہ ان کے اعلیٰ حسب  نسب والے خون میں غیر خون کی آمیزش ہو۔ مجھ سے تو وہ متنفر تھے ہی، ماورا کو بھی میری بیٹی ماننے سے انکاری ہوگئے۔ میرے نزدیک بابا جان کا یوں ماورا کو میری بیٹی ماننے سے انکار کرنا کھلم کھلا میری توہین تھی اور یہ توہین میری مردانگی کو گوارا نہ تھی۔میں ماورا کو لے کر لندن آبسا۔
وقت گزرتا چلا گیا اور میں اپنی ذات کے حصار میں بند ہوتا چلا گیا۔ اپنی خود ساختہ نفرت میں غرق میں جان ہی نہ سکا کہ میں کیا کیا غلطیاں کرتا چلا جا رہا ہوں۔ اب بھی میرے شب و روز سارہ کی یاد میں گزرتے تھے۔ اس کی ذات سے ہٹ کر میں نے دوبارہ زندگی میں کسی اور طرف دیکھا ہی نہ تھا۔ حتیٰ کہ ماورا کو بھی میں یہاں لاکر بھول گیا تھا۔ اس کے لیے میں نے ایک مسلمان گورنس کابندوبست کردیا تھا۔ کہنے کو میں اس کی سب ضروریات پوری کرتا تھا۔ بہتر اداروں میں اسے تعلیم دلوا رہا تھا مگر میری نفرت جوں کی توں تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے اندر بسنے والا یخ احساسات کا مالک رہبان غفار شاہ مزید سرد گلیشیئرز میں بدلتا چلا گیا۔
حویلی والوں میں سے سبحان بھائی کے بڑے صاحبزادے سلامہ شاہ نے مجھ سے رابطہ رکھا تھا۔ بس وہی ایک شخص تھا جو صحیح معنوں میں میرا حوصلہ بنا تھا۔ کتنے سالوں بعد ایک دن بالکل اچانک وہ مجھ سے ملنے میرے اپارٹمنٹ پر چلا آیا۔ اسے دیکھ کر جیسے نئے سرے سے جی اٹھا۔ اسی دن مجھے دفتری کام کے سلسلے میں کسی دوسرہ شہر میں جانا تھا۔ اسے اپنے گھر میں ٹھہرنے کا کہہ کر میں چلا گیا دو دن کا کام تھا مگر چند گھنٹے بعد ہی سلامہ شاہ نے موبائل پر اطلاع دی کہ ماورا کا نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے وہ اسپتال میں ہے حیرت کی بات تھی تب بھی میرے احساسات سرد ہی رہے تھے۔ میں آرام سے اپنا کام مکمل کرکے اگلے دن گھر پہنچا۔ ماورا اسپتال میں ہی تھی۔ سارا دن آرام کرکے میں شام کو اسپتال گیا۔ سلامہ بے چارہ میری محبت و مروت میں وہیں تھا۔ میرے کہنے پر وہ چلا گیا۔ اس کے بعد بھی وہ اکثر ملتا رہتا۔ میرے اصرار پر وہ میرے ساتھ ہی رہنے لگا۔ پھر جیسے ہی اس کا کام ختم ہوا وہ چلا گیا۔ جاتے ہوئے وہ مجھے کہہ گیا کہ وہ بابا جان کو راضی کرنے کی کوشش کرے گا کہ وہ سب پرانی باتیں اور رنجشیں بھلا کر مجھے واپس بلا لیں۔ شاید وہ میرے دل میں حویلی والوں سے متعلق محبت کو اچھی طرح محسوس کر رہا تھا اور میں اس کے جانے کے بعد حویلی والوں کی پیش رفت کا انتظار کرنے لگا۔ سلامہ سے رابطہ اسی طرح قائم تھا۔ اب تو اس کی بدولت بی بی جان، سبحان بھائی، بھاوج وغیرہ سے بھی بات ہونے لگی تھی۔ اکثر خط ملتے تھے اور میں شدت سے واپسی کا منتظر تھا۔ یہاں رہتے ہوئے مجھے یہاں کے معاشرے سے ایک الجھن ضرور رہی تھی۔ ماورا اگرچہ یہیں پلی بڑھی تھی مگر اپنی تمام لاتعلقی کے باوجود میری پوری کوشش تھی کہ اس پر اس معاشرے کے اثرات غالب نہ آئیں۔ اسی لیے تو میں نے اس کے لیے فاطمہ جیسی خاتون کابندوبست کیا تھا۔ فاطمہ خاتون بہت مذہبی تھیں۔صوم و صلوٰۃ کی پابند۔ انہوں نے ماورا کی تربیت بھی انہی خطوط پر کی تھی۔ ماورا اپنے لباس گفتگو انداز و اطوار ہر لحاظ سے ایک مکمل مشرقی لڑکی تھی اور اب میری خواہش تھی کہ اس کی شادی یہاں کرنے کی بجائے پاکستان جاکر کروں۔ سلامہ کو جب سے دیکھا تھا میرے اندر عجیب و غریب سے احساسات پیدا ہونے لگے تھے۔ رفتہ رفتہ میری خواہش جڑ پکڑتی جا رہی تھی کہ کیا ہی اچھا ہو کہ سلامہ شاہ ماورا سے شادی کر لے۔ اس طرح ایک تو ماورا خاندان میں ہی رہ جائے گی دوسرے شایدبابا جان کے دل میں بھی جگہ بن جائے۔ اس عمر میں میری سوچ بہت ٹیپیکل ہوتی جا رہی تھی۔ایک سال کے عرصے میں سلامہ صرف ایک دفعہ لندن آسکا تھا۔ وہ بھی دو دن کے لیے اس نے مجھے بتایا کہ حالات آہستہ آہستہ بدل رہے ہیں۔
پھر چند ماہ بعد ہی اچانک سلامہ شاہ نے فون کرکے بابا جان پر فالج کا اٹیک ہونے کی اطلاع دی۔ اب میں اتنا پتھر دل بھی نہ تھا کہ ان کی بیماری کی اطلاع سن کر بھی نہ آتا۔ نجانے کیوں مجھے یقین تھا

of 12 
Go