Urdu Novels

Back | Home |  
میرا ہم سفر کوئی اور ہے ۔۔۔۔۔۔تہمینہ زہرہ
کبھی یوں بھی تو ہوتا ہے کسی آنکھ کا خواب کسی دوسرے کی زندگی میں تعبیر بن کر روشنی پھیلانے لگتا ہے۔ ایک طویل دن اور پہاڑ سی ایک رات جیسے اس کی زندگی کو تہس نہس کرگئی تھی۔ کل سے وہ کسی ایک چیز پربھی ٹھیک سے توجہ نہ دے سکا تھا یوں لگتا تھا ذہن میں کوئی بات ٹھہرتی ہی نہیں ہے۔ ہرشے عجیب سی دھند میں چھپی محسوس ہو رہی تھی بس ایک چہرہ تھا اور اس چہرے سے چھلکتی انوکھی سی خوشی اور اس خوشی سے جھانکتے بے ساختہ سے جذبے تھے جو اس کے دھیان کے پردے پر جگمگا رہاتھا۔ اس چہرے سے اس کی شناسائی تو نئی نہیں تھی لیکن وہ رنگ جو ان آنکھوں میں سجے تھے ضرور نئے اور انجان سے لگے تھے۔ اسے لگتاتھا اس کی یہ الجھن بے معنی نہیں ہے۔
’’ہارون! وہ جانے کب تک اپنی سوچوں میں الجھا رہتا کہ ایک نامانوس سی آواز نے اسے چونکا دیا۔ 
’’تم‘‘ عبیر کو غیر متوقع طور پر سامنے دیکھ کر پل بھر کے لئے اس کی سمجھ میں نہ آیا کیا کہے۔ وہ غائب دماغی سے اسے دیکھتا رہا۔
’’ہوں‘ اتنی عادت ہوگئی ہے یہاں کی ایک دن بھی دل نہیں لگا وہاں میں تو کل شام ہی آجاتی‘ لیکن نبیل ماموں نے کہا ایک دن تو رکو۔‘‘ لگاوٹ بھرے لہجے میں کہتی وہ بڑے مزے سے بیڈ پر بیٹھ گئی۔ ہارون نے قدرے ناگواری سے اس کی طرف دیکھا اور رائٹنگ ٹیبل کے سامنے سے اٹھتا ہوا اس کے عین سامنے آکر کھڑا ہوگیا اور اپنے مخصوص درشت لہجے میں بولا (جو عبیر سے بات کرتے ہوئے ہمیشہ اس کا ہوجاتاتھا۔)
’’مجھ سے کوئی کام تھا؟‘‘
’’نہیں وہ میں…‘‘اس کے اس درجہ ناگوار انداز پر عبیر کا رنگ فق ہوگیا۔ میں‘ میں۔‘‘ باہر کے لئے قدم بڑھاتی وہ یکبارگی رک گئی۔ خود سے لڑتے لڑتے اپنے جذبوں کو دباتے دباتے وہ تھک گئی تھی۔ دل پر اتنا بوجھ تھا کہ لگتا تھاایک لمحہ بھی مزید خود کو چھپانے کی کوشش کی تو دل پھٹ جائے گا۔ ہارون نے ناگواری سے مڑ کر اس کے متذبذب انداز کو دیکھا۔ ہاتھوں کومروڑتی سیاہ آنکھوں میں ڈھیروں آنسو بھرے وہ اس لمحہ اپنے لئے ہارون کی نفرت میں مزید اضافہ کرگئی۔
’’تمہیں کچھ کہنا ہے تو کہو‘ میں اس وقت بہت ٹینس ہوں اور تمہیں برداشت کرنا میرے لئے ایک الگ تکلیف ہے۔ تم…‘‘
’’یہ تو میں جانتی ہوں تم مجھ سے شدید نفرت کرتے ہو۔‘‘ ہارون کی بات کاٹتے ہوئے اس نے تلخی سے کہا تو ہارون اس کی صاف گوئی پرہنکارا بھر کررہ گیا۔ اور وہ چندثانیے رکتے ہوئے پھر سے گویا ہوئی۔ 
’’اور یہ تم جانتے ہو میں‘ میں تم سے شدید محبت کرتی ہوں؟‘‘
’’شٹ اپ عبیر! اسی وقت نکل جائو میرے کمرے سے۔‘‘ اس کے اس قدر کھلے اعتراف پر غصے کے مارے ہارون کے ماتھے کی رگیں ابھر آئیں۔ وہ پوری قوت سے چنگھاڑا تھا لیکن عبیر ٹس سے مس نہ ہوئی اس کے چہرے کا مخصوص اعتماد بحال ہوچکاتھا یوں جیسے اپنے دل کی بات کہہ کر اب کوئی خوف بچانہ ہو۔ 
’’بڑے گھر اور بڑے گھروں کے بڑے پرابلمز تمہاری آواز ان دیواروں سے ٹکرا کر واپس تو جاسکتی ہے لیکن اس وقت شاید تیسرا کوئی ہماری گفتگو سننے نہ آسکے گا۔ اور میں بھی یہی چاہتی ہوں۔ میں جانتی ہوں تمہیں مجھ سے یا میری کسی بات سے کوئی دلچسپی نہیں لیکن جو میں کہنے جارہی ہوں اس میں تمہاری گہری دلچسپی ہوسکتی ہے۔‘‘ بے لچک لہجے میں بولتی وہ دھیرے دھیرے چلتی ایک بار پھر بیڈ پر آبیٹھی تو ہارون نے الجھ کر اس کی طرف دیکھا۔
’’علی ترمذی کو کل رات پولیس نے اریسٹ کرلیا۔‘‘ عبیر نے ٹانگ پر ٹانگ جماتے ہوئے جس قدر اطمینان سے اطلاع دی‘ ہارون کو حیرت کااتنا ہی شدید جھٹکا لگا۔ پل بھر کے لئے تو اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کس طرح کارسپانس دے۔ کیونکہ اس کی ذرا سی غلطی سے ایمان کی زندگی کو خطرہ ہوسکتا تھا۔ عبیر کی طرف سے رخ پھیرتے ہوئے اس نے اس سے اپنے تاثرات چھپانے چاہے لیکن عبیر اس وقت اسے بچنے کا موقع نہیں دینا چاہتی تھی۔ وہ تیزی سے اٹھ کر ہارون کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ اس کے ہونٹوں پر بڑی زہریلی مسکراہٹ تھی اور اس کی سیاہ آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔ 
’’پوچھوگے نہیں مجھے کس نے بتایا؟ علی ترمذی کے متعلق کوئی اطلاع مجھ تک کیسے پہنچی؟‘‘
’’ہاں وہ‘عون نے تو کوئی ایسی اطلاع نہیں دی۔‘‘ ہارون نے فوری طور پر خود کو سنبھالتے ہوئے کہا عبیر اس کے الفاظ سن کر زور زور سے ہنسنے لگی۔
’’اف‘ اف کتنا چاہتے ہو تم اسے… کتنا پاگل پن ہے تمہاری آنکھوں میں اس کے لئے ہارون! اس میں ایسا کیا ہے ہارون جو تم ان لمحات میں بھی خود کو کمپوز کرکے اسے بچانا چاہتے ہو۔‘‘
’’عبیر! تم جائو یہاں سے مجھے عون سے ابھی بات کرکے‘‘ ہارون روانی سے بولتا ٹیلی فون اسٹینڈ کی طرف بڑھا۔ وہ چاہتا تو ایک لمحے میں عبیر سے کچھ بھی اگلوا سکتا تھا لیکن اس وقت وہ کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔ عبیر نے تیزی سے آکر اس کے ہاتھ سے ریسیور پکڑ لیا۔
 

’’کوئی فائدہ نہیں ہارون! جب تم نے کسی کونہیں بتایا کہ عون عباس جعفری کی پناہ میں ہے تمہاری نورالایمان‘ تو شاید عون عباس جعفری بھی علی ترمذی کے پورے گینگ کی گرفتاری تک نہ بتائے کہ وہ اسے اریسٹ کرچکا ہے۔ عون عباس جعفری کا انجام کیا ہوگا میں کچھ کہہ نہیں سکتی‘ رات علی کو عون نے گلبرگ کے علاقے سے اریسٹ کیا تھا لیکن وہ اسے کہاں لے کر گیا ہے حبیب ترمذی اس کا پتا لگانے میں اب تک تو ناکام رہے ہیں لیکن جب انہیں علی کا پت چل گیا‘ وہ تمہاری چچی جان کے ذریعے ہی علی کو آزاد کروائیں گے۔ وقت کم ہے اور فیصلہ ہرحال میں تمہیں کرنا ہے۔ تمہارے کل عون کے گھر جانے سے ہی میں نے جان لیا ہے ہارون! کہ ایمان اس کے گھر میں ہے۔ اور یقینا تم بھی میرے متعلق سب کچھ جان چکے ہوگے۔ ایمان کی قسمت پر رشک آتا ہے مجھے۔ ظاہر ہے اس کے کردار کو لوگوں کے سامنے بہترین ثابت کرنے کے لئے تم کسی بھی حد تک جاسکتے ہو کیونکہ تم اسے کسی بھی قیمت پر چھوڑنا نہیں چاہتے اور میری مشکل بھی یہی ہے میں تمہیں چھوڑ نہیں سکتی۔‘‘
’’مجھ سے کیا چاہتی ہوتم؟‘‘ ہارون نے بے صبری سے اس کی بات کاٹ کر پوچھا۔ اسے اس وقت عبیر کی پراسراریت سے وحشت ہو رہی تھی۔
’’تمہیں مجھ سے شادی کرنا ہوگی۔‘‘
’’عبیر! عبیر کے مختصر سے فقرے نے ہارون پر ایک قیامت ڈھا دی۔اس کا بھاری ہاتھ اٹھا اور اس نے اتنی شدت سے عبیر کے گال پر تھپڑ مارا کہ وہ چکراتی ہوئی صوفے پر گر گئی لیکن وہ ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں تھی او راب تو ہارجانے کالمحہ بھی گزر چکاتھا۔
’’ماربھی ڈالوگے اب تم مجھے تو بھی نورالایمان تو اب تمہارا نصیب نہیں بننے والی۔ میں اگر تمہارے لئے اس کی ماں کو کڈنیپ کرواسکتی ہوں تو یاد رکھو ہارون تمہارے لئے میں کسی بھی حد تک جاسکتی ہوں۔ چیخنے چلانے میں وقت ضائع کروگے تو ساری عمر پچھتائوگے بھی تمہی۔ مجھے کسی بدنامی کا ڈر نہیں ہے۔ صرف آج کا دن ہے تمہارے پاس اپنی چچی جان کو بچانے کے لئے۔اگر حبیب ترمذی نے انہیں کراچی بلوالیا تو کوئی تمہاری مدد نہ کرسکے گا۔ نہ میں‘ نہ نبیل ماموں۔‘‘
’’نبیل چاچا وہ بھی ملے ہیں تم سے۔‘‘
’’وہی تو ہیں میرے رہنما‘ میرے مسیحا‘ مجھے میری پہچان بتانے والے‘ انہوں نے ہی تو بتایا مجھے‘ کہ یہ ساری جائیداد میری ہے‘ میرے ڈیڈی میرے ہیں‘ سارے یہاں کے رشتے میرے ہیں اور اور ہارون حسن میرا ہے۔ تم میرے ہو‘ جسے اس‘اس چڑیل نے غصب کرلیا۔‘‘
’’شٹ اپ عبیر۔‘‘
’’بڑا دکھ ہوا ناں؟ مجھے بھی ہوا‘ ہر ہر لمحہ ہوا‘ جب میں نے تمہیں اس کے ساتھ ہنستے دیکھا۔ جب اسے تم پر حق جتاتے دیکھا۔ جب جب اس نے مجھ سے محبت جتائی اور جب جب تم نے مجھ سے نفرت کی۔دکھ تو مجھے بھی ہوا ہارون‘ اور محبت میں نے اس پوری دنیا میں صرف دو چیزوں سے کی‘ ایک میری جائیداد‘ اور دوسرے ہو تم۔ لیکن اب فیصلے کی گھڑی آئی ہے تو مجھے لگتا ہے تمہارے لئے میں سب کچھ چھوڑ سکتی ہوں۔ اور اب فیصلہ تمہیں کرنا ہے‘ نورالایمان احمد یا خاندان کی عزت اور تمہاری چچی جان کی زندگی۔‘‘
ایمان سے سودا بازی کرنے کے بعد اب وہ ہارون کو بھی اسی مقام پر لے آئی تھی جہاں سے نہ آگے بڑھنے کا راستہ نظر آتاتھا اور نہ ہی پیچھے ہٹنے کی کوشش کی جاسکتی تھی۔ ہارون کے چہرے پر سوچ کی گہری پرچھائیاں دیکھ کر اسے اپنی فتح کا یقین ہوچلا تھا لیکن وہ نہیں جانتی تھی اس بار کھیل اس کے ہاتھ میں نہیں تقدیر کے ہاتھوں میں ہے۔
 {…٭٭٭…}
’’عون! آپ میرا اس زندگی پر اعتبار ہیں…‘‘
’’رشتوں کی خوبصورتی پر میرا یقین ہیں آپ…‘‘
کتنی ہی دیر سے وہ چپ چاپ بیٹھا تھا اور ہر طرف اس کی نرم‘ زندگی سے بھرپور آواز گونج رہی تھی۔ ایمان کے ہونٹوں سے ادا ہونے والا ہر لفظ اسے اپنی ہی نظروں میں سرخرو کرگیا تھا۔ وہ جانتاتھا اس کے گھر والے‘ اس کے اردگرد کے لوگ اس سے بے حد بے حساب محبت کرتے ہیں لیکن ایمان کے یقین نے اسے زندہ کردیاتھا۔ 
اس نے کس قدر اعتبار سے بھرپور لہجے میں کہا تھا۔ 
’’آپ کہتے ہیں آپ کچھ بھی نہیں‘ اور میں کہتی ہوں اگر آپ کچھ نہیں ہیں تو زندگی کی کوئی محبت‘ کوئی سچائی‘ کوئی خوبصورتی‘ کوئی نورالایمان‘ کوئی بھی کچھ نہیں۔‘‘ اور عون کے دل نے ہر فکر سے بے نیاز ہو کرسوچا تھا۔ 
’’نورالایمان نامی یہ لڑکی کچھ نہیں‘ بلکہ سب کچھ ہے‘ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کی آنکھوں کے شفاف آئینے مسحور کیوں کرڈالتے؟ اس کے ہونٹوں پر سجی بے ریا ہنسی رم جھم برسات سی کیوں لگتی اور اس کے چاندنی کی طرح دمکتے گالوں میں پڑتے بھنور ہر غم کو بھلا دینے پر مجبور کیوں کرتے؟‘‘ آج کا دن کچھ عجیب سا تھا روح پر ایک خمار سا چھایا محسوس ہو رہا تھا۔ اسی لئے تو نہ آج اسے ہر طرف سے گونجتی 

نورالایمان احمد کی آواز چونکا رہی تھی اور نہ ہی اپنے دل کے تقاضے پریشان کررہے تھے۔
’’اس کی خاطر سوچنا‘ سوچنا بھی رات دن 
پھر بھی مجھ کویوں لگا میں نے سوچا کچھ نہیں‘‘
حمزہ کی معنی خیز آواز پر وہ چونک کر سیدھا ہوبیٹھا۔وہ نہیں چاہتاتھا حمزہ اس کے دل کے چور کو تاڑلے۔ لیکن اس کے لئے حمزہ سے بچنا مشکل نہیں ناممکن تھا۔ 
چندثانیے حمزہ آنکھوں میں شرارت بھرے اسے دیکھتا رہا۔حمزہ کے اس طرح جائز ہ لینے پر عون پزل سا ہوگیا۔ 
’’ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘
’’پیارے بہت لگ رہے ہوآج۔ دل چاہتا ہے سمرن کی بجائے تم سے منگنی کااعلان کردوں۔‘‘ حمزہ اس کے سامنے بیڈ پرگرتے ہوئے ہنس کر بولا۔
’’حمزہ! تم بھی۔‘‘ عون بھی اس کی بات پر ہنسنے لگا اور اسی طرح ہنستے ہوئے اس نے کشن اٹھا کر حمزہ کے منہ پر دے مارا جسے حمزہ نے برا مانے بغیر سر کے نیچے رکھ لیا اور چھت کی طرف دیکھتے ہوئے ایکدم سنجیدہ ہوتے ہوئے گویا ہوا۔ 
’’میں سوچتا ہوں یار ماماجی‘ یہ محبت بھی کیا کمال چیز ہے۔ ایک ایسا چہرہ جو محبت کی عینک کے بنا بالکل عام سا ہوتاہے۔ اس محبت کے سر پر سوار ہوتے ہی ساری دنیا سے خوبصورت لگنے لگتا ہے۔ اب مجھے ہی لو‘ یہ اپنی سمرن‘ یار ماماجی‘ کب سوچاتھا میں نے ایسا ہوگا‘ اس سے لڑتے لڑتے اسے تنگ کرتے کتنی عمر ہوگئی تھی اور بس ایک لمحہ‘ زنیرہ بجو اس سے پوچھ رہی تھیں‘ سمرن تم بنوگی میرے حمزہ کی دلہن؟ اور بس‘ وہ ایک لمحہ میری زندگی میں ٹھہر گیا۔ اس کے چہرے پر ٹھہرے رنگ‘اس کی جھکی ہوئی آنکھیں‘ مجھے تسخیر کرگئیں اور دل نے فیصلہ کرلیا اگر کوئی زندگی میں میرا ساتھ دے سکتا ہے تو وہ یہ احمق اور نادان سمرن ہی ہے اوریار ماما جی! اس لمحے کے بعد سے وہ جب بھی میرے سامنے آتی میں جب بھی اسے سوچتا‘ ایک عجیب سی دھیمی دھیمی سی خوشی تھی جو مجھے گھیر لیتی تھی۔‘‘ حمزہ خوشگوار لہجے میں بولتا جارہاتھا اورعون اسے محبت پاش نظروں سے دیکھے جارہاتھا۔ اس کے دل سے حمزہ کی خوشیوں کے لئے ڈھیروں دعائیں نکل رہی تھیں۔ حمزہ کے چہرے پر پھیلے حقیقی محبت کے رنگ اسے خوبصورت بنا رہے تھے۔ عون اس لمحے اپنے سارے دکھ درد بھلائے حمزہ کی کھنکتی آواز سن کر دل میں سکون کا احساس اترتا محسوس کررہاتھا۔ 
’’یار ماماجی! تم بتائو تمہارے نزدیک محبت کیا معنی رکھتی ہے؟‘‘ حمزہ کے اچانک پوچھنے پر عون نے الجھ کر اسے دیکھا حمزہ کی آنکھوں کی مخصوص معنی خیزی ایک بار پھر اس کی آنکھوں سے جھانک رہی تھی۔ عون نے گھور کر اسے دیکھا اور حمزہ کے پاس سے اٹھ کر کھڑکی میں آکھڑا ہوا۔
’’یہی بات ہے۔ یہی بات ہے تمہاری جو مجھے غصہ دلاتی ہے۔ تم مجھ سے دل کی بات چھپانے لگے ہویار ماماجی۔ جو تمہاری آنکھوں میں نظر آتا ہے‘جو تمہارے دل میں چھپا ہے‘ اسے بیان کرنے سے‘ مجھ تک کو بتانے سے گریز کرتے ہو تم۔ کیوں‘ کیا اب تم مجھے اپنا دوست نہیں سمجھتے ہو؟ جو…‘‘حمزہ تیزی سے اٹھ کراس کے پیچھے آکھڑا ہوا اور ناگواری سے بولتاچلا گیا۔ 
’’حمزہ!‘‘ عون نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے آہستگی سے کہتے ہوئے حمزہ کا فقرہ کاٹا‘ حمزہ چند ثانیے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتا رہا پھر اس نے کچھ کہنے کے لئے لب کھولے ہی تھے کہ عون کا فقرہ اسے گنگ کرگیا۔
’’حمزہ! میرے لئے محبت کا معنی نورالایمان احمد ہے۔‘‘ عون نے اپنے مخصوص دھیمے لہجے میں کہاتھا لیکن حمزہ کے لئے اس کافقرہ ایک دھماکا تھا جبکہ عون بڑے پرسکون انداز میں لان میں جھانک رہاتھا جہاں ایمان‘ رضی اور ربیعہ کسی بات پرزور زور سے ہنس رہے تھے۔ پتا نہیں کیسا لمحہ تھا کہ عون کو نہ تو اپنی بے ساختگی کا احساس ہواتھا اور نہ ہی حمز ہ کی موجودگی کا۔ اس کی نظروں کے سامنے تو اس وقت صرف ایمان کا کھلکھلاتا چہرہ‘ گالوں میں پڑتے بھنور اور روشن کتھئی آنکھیں تھیں جو اسے تسخیر کررہی تھیں اور وہ رگ وپے میں ایک عجیب سی‘ دھیمی دھیمی سی خوشی سرایت کرتی محسوس کررہاتھا اور شاید اس کی نظروں کی تپش کا اثر تھا کہ ایمان نے ہنستے ہنستے سراٹھا کر اوپر دیکھا لیکن اپنی طرف عون کو متوجہ پاکر اس کی نظرجھکتی چلی گئی۔ عون نے اس کی آنکھوں کو جھکتے دیکھا اس کی دودھیا رنگت میں گلابیاں گھلتی دیکھیں‘ اس کے گلابی ہونٹوں کو کپکپاتے اور ان پر ایک شرمگیں مسکان کو بکھرتے دیکھا اور یہ ایک نظر جیسے اسے ہوش کی دنیا میں لے آئی۔ صبح سے ذہن و دل پر چھایا خمار پل بھر میں مٹ گیا اور حواس کے بحال ہوتے ہی اسے اپنی شدید حماقت کا احساس ہوا۔ اسے اپنا آپ کسی مجرم کی طرح لگا جس نے کسی کی بے خبری سے فائدہ اٹھا کر اپنے ناآسودہ جذبوں کو تسکین دینا چاہی ہو۔ وہ جس راستے پر قدم دھرتے بھی ڈرتا تھا وہیں اندھا دھند بھاگے جارہاتھا۔
’’میں میں ایسا کیسے کرسکتا ہوں‘ حمزہ! میں نے ایما کے ساتھ وہی کیا ہے جو عبیر نے میرے ساتھ کیا تھا۔ اوہ گاڈ۔‘‘
’’یار ماماجی! کیا ہوا ہے اچانک؟‘‘ حمزہ نے حیرت سے اس کے عجیب جنونی انداز میں بڑبڑانے پر پوچھا تو عون نے چند ثانیے حمزہ کو یوں دیکھا جیسے اس لمحے وہ کچھ بھی سمجھ نہ پارہا ہو۔ پھر وہ آہستگی سے چلتا ہوا صوفے پٖرجابیٹھا اور سختی سے اپنے بالوں کو مٹھی میں لے لیا۔
of 27 
Go