Urdu Novels

Back | Home |  
میرے وائلن کے تاروں میں……عشنا کوشر سردار
ڈیوڈ برگنزا سے ملنے کے بعد وہ ’’کراچی سکول آف میوزک‘‘ سے نکل رہی تھی‘ جب فارینہ اکبر چلتی ہوئی اس کے سامنے آ رکی۔
’’تم…؟‘‘ وہ عجیب چونکنے والے انداز میں سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی تھی۔ فارینہ ہولے سے مسکرا دی تھی۔
’’تم شاید میری توقع نہیں کر رہی تھیں… ہے نا؟‘‘
نتالیہ کمال اسے کچھ دیر یونہی خاموشی سے تکتی رہی تھی‘ پھر سر نفی میں ہلاتی ہوئی اس کی طرف سے دھیان ہٹا گئی۔
’’نہیں‘ ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ بہت دھیمے لہجے میں کہہ کر وہ قدم اٹھانے لگی۔ فارینہ بھی اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگی تھی۔ کتنے دنوں سے وہ اس سے کچھ کھنچی کھنچی سی تھی۔ کتنے دنوں سے سردمہری سی رویوں میں در آئی تھی‘ اور ایسا نتالیہ کمال کی طرف سے زیادہ تھا۔ فارینہ کو یہ بات معلوم تھی‘ اور یہ اس کی غلط فہمی قطعی نہیں تھی‘ مگر وہ اسے جتانا نہیں چاہتی تھی۔ تبھی اسی روٹین سے اس سے بات چیت کر رہی تھی۔ اسے کسی بات کا احساس دلائے بغیر۔
’’کیا عجیب عجیب شوق پال رکھے ہیں تم نے۔ اب بھلا اس کی کیا ضرورت تھی۔ تم میوزک پر ریسرچ کر رہی ہو ہائو فنی۔‘‘ فارینہ نے بہت دھیمے سے کہتے ہوئے اسے اپنی جانب متوجہ کیا تھا۔ نتالیہ کمال کے لئے نہ تو اس کا سوال نیا تھا‘ نہ ہی اس کا انداز۔ وہ چونکے بغیر اسے بہت ملائمت سے دیکھتی ہوئی مسکرا دی تھی۔ تبھی فارینہ اکبر اسے بہت حیرت سے تکتی ہوئی گویا ہوئی تھی۔
’’ایک بات کہوں؟‘‘
’’ہوں۔‘‘ وہ چہرے پر آئے بالوں کی لٹوں کو پیچھے ہٹاتے ہوئے پھر قدرے توقف سے بولی تھی۔
’’تمہیں نہیں لگتا‘ تم ان دنوں کچھ عجیب و غریب ہو رہی ہو؟‘‘ اس کا انکشاف اگرچہ حیران کن تھا‘ مگر وہ چونکی نہیں تھی۔ رستے پر نگاہ جمائے یونہی چلتی رہی تھی۔ فارینہ اس کی خاموشی پر اسے دیکھتی ہوئی دوبارہ گویا ہوئی تھی۔

’’گھر فون کیا تو بے بے سے پتہ چلا کہ تم یہاں ہو… کیا واقعی تم ڈیوڈ برگنزا سے وائلن بجانا سیکھ رہی ہو؟‘‘ فارینہ کا لہجہ حیران کن تھا۔ نتالیہ کمال چہرے کا رخ پھیرتی ہوئی مسکرا دی تھی۔
’’تمہیں اعتراض زیادہ کس بات پر ہے‘ میوزک پر‘ ریسرچ کرنے پر‘ یا پھر ڈیوڈبرگنزا سے وائلن سیکھنے پر؟‘‘ فارینہ نے اسے دیکھا تھا‘ پھر ہنس دی تھی۔
’’سچ کہوں… دونوں باتوں پر… ایسے تم کیا سمجھتی ہو‘ کیا یہ سودمند ہے۔ تمہیں ریسرچ ہی کرنا تھی‘ تو کسی مستند ٹاپک پر کی ہوتی۔ اس میوزک کی کیا لوجک ہے‘ اور وہ بھی پاپ میوزک… اگر کسی ڈھنگ کے موضوع کا انتخاب کیا ہوتا تو باقاعدہ ایم فل کی ڈگری ملتی‘ پھر پی ایچ ڈی کے لئے راہ نکل آتی۔ کسی بین الاقوامی یونیورسٹی میں تمہارا تقرر ہو جاتا‘ اگر تم سمجھ رہی ہو کہ ان اوٹ پٹانگ چکروں میں خود کو کھپا کر تم کوئی معرکہ سر کر سکو گی تو یہ تمہاری خام خیالی ہے۔ اب تک کم از کم یہ مذہبی سرزمین‘ ایسی ریسرچز کے لئے قطعاً سودمند نہیں۔ یہ سب یورپین لوگوں کے چونچلے ہیں۔ جنہیں نہ صرف حکومت سے اس سلسلے میں بھاری گرانٹ ملتی ہے‘ بلکہ داد و تحسین بھی۔ یہاں ایسا کرنے کا مطلب ہے‘ فقط وقت کا زیاں اور پیسے کا بے جا خرچ۔‘‘ فارینہ کا انداز ناصحانہ تھا‘ مگر نتالیہ کمال کے چہرے کا اطمینان ہنوز برقرار تھا۔ اس نے بہت آہستگی سے فارینہ کی طرف دیکھا تھا۔
’’یہی تو بات ہے‘ میں مٹریلسٹک نہیں ہوں۔ اس لئے جو چاہتی ہوں‘ کرتی ہوں۔ خیر‘ چھوڑو‘ کوئی کام تھا کیا؟‘‘ وہ دوسرے ہی پل بہت رسانیت سے دریافت کر رہی تھی‘ اور فارینہ اکبر اس کا چہرہ تکتی رہ گئی تھی۔ پھر جانے کیا سوچ کر قدرے توقف سے سر نفی میں ہلا دیا تھا۔
’’کیا ہم کسی کام کے بغیر نہیں مل سکتے…؟‘‘
اور نتالیہ تب شاید مروتاً بہت ہولے سے مسکرا دی تھی۔ تبھی فارینہ اکبر اسے دیکھتے ہوئے نگاہ پھیر گئی تھی۔
’’تمہیں فقط ایک فرد واحد کے کئے کی سزا ساری دنیا کو نہیں دینی چاہئے۔ تم دن بدن خود کو تنہا کرتی چلی جا رہی ہو۔ تمہیں کیا لگتا ہے‘ کیا ایسا کر کے تم جی سکو گی؟‘‘
’’آئی ایم آ لائیو… اسٹل آ لائیو!‘‘ وہ دھیمے انداز میں اپنے مخصوص پرُاعتماد لہجے میں گویا تھی۔
’’اپنا نہیں تو بے بے کا خیال کرو… فیضی کا خیال کرو۔ آخر تم اتنی انتہا پسند کیوں ہو رہی ہو؟‘‘

نتالیہ کمال نے اسے سرسری انداز میں دیکھا تھا‘ پھر حتمی انداز میں ایک گہری سانس خارج کرتی ہوئی گویا ہوئی تھی۔
’’کیا یہی سب باور کرانے تم یہاں آئی تھیں؟‘‘
’’نتالیہ کمال!‘‘ فارینہ نے اسے بے یقینی سے دیکھا تھا‘ مگر وہ اسی سرد مہر انداز میں ایک جانب دیکھتی رہی تھی۔
’’مت سزا دو خود کو‘ اس قدر نتالیہ کمال‘ اپنے گرد خول اتنا تنگ مت کرو کہ تم تنہا رہ جائو‘ اور…‘‘ فارینہ اکبر کچھ کہتے کہتے رک گئی تھی‘ پھر ایک گہری سانس خارج کرتی ہوئی اس پر ایک نگاہ ڈالتی ہوئی پلٹی تھی‘ اور اس سے دور نکلتی چلی گئی تھی۔
نتالیہ کمال نے بہت خاموشی سے اس منظر کو دیکھا تھا‘ پھر چہرے کا رخ پھیر کر بہت آہستگی کے ساتھ قدم اٹھاتی ہوئی آگے بڑھنے لگی تھی۔
vvv
چلو کچھ دیر انتظار کریں!
شاید کہ اس کے دل سے بدگمانی کی برف پگھل جائے!
شاید کہ اس کی انا کا سورج ایک دن ڈھل جائے!
شاید کہ وہ بھی ہم سے ملنے کو مچل جائے!
چلو کچھ دیر انتظار کریں!
مقدر کی تاریک راتوں کے جانے کا!
اس بچھڑے دوست کے لوٹ آنے کا!
of 22 
Go