Urdu Novels

Back | Home |  

 

مٹی کا دیا۔۔۔۔۔سیما کاجل
 
نوشابہ مینشن کے صدر دروازے پر ایک سفید براق نئے ماڈل کی مرسڈیز گاڑی جو کسی نئی نویلی دلہن کی طرح تھی آکر رکی۔ اس کی سیڑھیوں پر ایک باریش باوردی شوفر پہلے سے ہی مستعد کھڑا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر بڑے مؤدبانہ انداز سے دروازہ کھولا۔ سٹیئرنگ پر سفید براق لباس میں ایک بے حد جوان عورت بیٹھی تھی۔ وہ اپنا دل کش سراپا سمیٹتی ہوئی اتری تو شوفر نے اسے سلام کیا۔ جوان عورت اس کے سلام کا جواب دے کر چند لمحوں کے لئے اس کے پاس رکی۔ اس کی خیر خیریت دریافت کرنے کے بعد وہ بڑے باوقار انداز سے دروازے کی طرف بڑھی۔ اندر داخل ہو کر وہ لفٹ کی طرف بڑھی۔ چپڑاسی اور لفٹ مین وغیرہ نے اسے سلام کیا۔ اس نے سلام کا جواب بڑی خندہ پیشانی سے دیا۔ وہ لفٹ میں سوار ہو گئی جو صرف اس کے لیے مخصوص تھی۔
ایک لڑکی جو اپنی دوست کے ساتھ وسیع و عریض راہداری میں ایک طرف کھڑی ہوئی تھی اس نے اپنی دوست سے پوچھا۔
’’شمسہ! یہ عورت کون تھی جو اس لفٹ میں سوار ہو کر گئی ہے؟ یہ لفٹ کیا صرف اس کے لیے مخصوص ہے؟‘‘
’’کیا تم اس عورت کو نہیں جانتی ہو زاہدہ!‘‘ شمسہ!نے حیرت سے پلکیں جھپکاتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔
’’نہیں۔‘‘ زاہدہ نے نفی کے انداز میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا۔ آج میں یہاں پہلی مرتبہ ایک دفتر میں انٹرویو دینے کے لئے تمہارے ساتھ آئی ہوں؟ کیا یہ عورت کسی فرم میں کسی بڑے عہدے پر فائز ہے؟‘‘
’’اس عورت کا نام مس نوشابہ احمد ہے۔‘‘ شمسہ اسے بتانے لگی۔ ’’وہ اس سات منزلہ نوشابہ مینشن کی مالک ہے۔ اس کی فرم کے پانچ منزلوں پر دفاتر ہیں باقی دو منزلوں پر دوسری کمپنیوں کے دفاتر ہیں۔‘‘
’’یہ نہ صرف دولت مند ہی ہے بلکہ دنیا کی خوش نصیب ترین عورت بھی ہے۔‘‘ زاہدہ نے حیرت بھرے لہجے میں کہا۔
’’دولت مند…؟‘‘ شمسہزیر لب مسکرا دی۔ یوں تو دولت مند لکھ پتی اور کروڑ پتی بھی کہلاتے ہیں۔ یہ ارب پتی ہے۔ 
’’لیکن اس میں ذرہ برابر بھی غرور اور تمکنت نہیں تھی۔‘‘ زاہدہ بولی۔
’’میں اس سے پہلے جس فرم میں تھی اس کی منیجر عورت اپنے آپ کو جانے کیا سمجھتی تھی۔ کسی کے سلام کا جواب دینا تو درکنار سٹاف سے بھی سیدھے منہ بات نہیں کرتی تھی۔ بڑی مغرور تھی۔ اپنے آپ کو جانے کیا سمجھتی تھی۔ میں نے محض اس کی وجہ سے تو اپنی ملازمت کو خیرباد کہہ دیا۔‘‘
’’اس کی عمر ہی کیا ہے؟‘‘ شمسہ کہنے لگی۔ ’’چوبیس برس کی ہے لیکن دیکھنے میں اٹھارہ بیس برس کی دکھائی دیتی ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ چھریرے‘ متناسب بدن کی ہے اور سروقد بھی ہے۔ اللہ نے اسے حسن و شباب اور کشش بھی بڑی فیاضی سے نوازا ہے۔ وہ شوبزنس کی دنیا میں جائے تو تہلکہ مچا سکتی ہے لیکن اسے اس کی کیا ضرورت ہے؟ کیوں کہ دولت اگلنے کی بیشتر کانیں اسے ورثے میں ملی ہیں۔ ان کی افزائش اس کی غیر معمولی ذہانت کے بل پر ہوئی تھی۔ قدرت نے اسے جس حساب سے نوازا ہے وہ اسی تناسب سے خرچ بھی کرتی ہے۔ صرف اپنی ذات اور متعلقین پر ہی نہیں۔ اس کی دولت کا ایک معقول حصہ سماجی خدمات پر بھی صرف ہوتا ہے۔ کئی بڑے شہروں میں اس کے باپ اور ماں کے نام پر اوقاف قائم ہیں۔ ان کی آمدنی سے غریبوں اور ناداروں کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہے۔ طبی تحقیق‘ فنون لطیفہ کے فروغ اور تعلیمی خدمات کے لیے اس نے دو ایک فائونڈیشن قائم کر رکھے ہیں۔ تخلیقی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اس کی جانب سے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ وہ دولت جمع کر کے نہیں بلکہ خرچ کر کے خوش ہوتی ہے۔‘‘
’’حیرت کی بات ہے کہ اس عورت کا نام‘ کوئی تصویر اور خبر اخبار میں کبھی نہیں چھپی؟‘‘ زاہدہ حیرت سے بولی۔
’’اس لیے کہ وہ جو کچھ بھی کرتی ہے پس پردہ کرتی ہے اور کر رہی ہے۔‘‘ شمسہ بولی۔ ’’اسے شہرت اور نام و نمود اور کسی صلے کی تمنا کبھی نہیں رہی۔ یہ سب کچھ راز میں ہے۔ اسے وہ بڑی سختی سے راز میں رکھتی ہے۔‘‘
’’لیکن تمہیں یہ سب کچھ کیسے اور کیوں کر پتا چلا…؟‘‘ زاہدہ نے متعجب لہجے میں پوچھا۔
’’میں نے اس کی فرم میں ایک برس ملازمت کی تھی۔‘‘ شمسہ نے جواب دیا۔ ’’کسی نہ کسی طرح میرے علم میں آ گیا۔‘‘
’’لیکن تم نے اس کے ہاں سے ملازمت کیوں چھوڑ دی؟‘‘ زاہدہ کا چہرہ سوالیہ نشان بن گیا۔ ’’کیا وہ اچھی باس نہیں ہے؟‘‘
’’صرف اچھی نہیں بلکہ بہت ہی اچھی باس ہے۔‘‘ شمسہ نے جواب دیا۔
بہت بااصول اور سخت گیر قسم کی ہے۔ اصولوں اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی بالکل بھی پسند نہیں کرتی ہے۔ میں نے کام کے دوران باس کی تنبیہ کے باوجود چھٹیاں کر لیں تو مجھے ملازمت سے برخاست کر دیا گیا۔ اب میں پچھتاتی ہوں۔ کیوں کہ ایسی ملازمت‘ تنخواہ اور باس اور سہولتیں کہیں نہیں ہیں۔ سوچ رہی ہوں کہ کسی دن امی کو ان کے پاس بھیج دوں۔ وہ شاید ان کی درخواست قبول کر لیں۔ وہ بزرگوں کا بڑا احترام کرتی ہیں۔‘‘

 

’’یار! یہ جوان اور حسین عورت ہر لحاظ سے دنیا کی سب سے خوش نصیب عورت ہے۔ مجھے اس پر رشک آتا ہے۔ اس کی زندگی کتنی حسین ہے۔ اصل چیز دولت ہوتی ہے۔‘‘ زاہدہ نے ایک سرد آہ بھری۔
لیکن نوشابہ سے کسی نے نہیں پوچھا۔ ورنہ وہ بتاتی کہ وہ کتنی بدنصیب ہے۔ کیوں کہ دولت ہی سب کچھ نہیں ہوتی۔
X…X…X
فجر کی اذان ہوئے بڑی دیر ہو چکی تھی۔
مگر آسمان کے چوڑے چکلے سینے پر آوارہ بادلوں کے ٹکڑے کسی لجائی جوان دوشیزہ کی طرح کسمسا رہے تھے جیسے محبوب کے بھرے بھرے اور مضبوط بازوئوں کے حصار میں ہوں۔ وہ دو دن سے کسی دشمن کی طرح برسنے کی دھمکیاں دے رہے تھے لیکن برسے نہیں تھے۔
موسم کا مزاج بھی معشوق کے مزاج کی طرح ہوتا ہے جو کسی کی سمجھ میں نہیں آتا۔ اس نے محکمہ موسمیات کی ناک کاٹ کر رکھ دی تھی۔ کیوں کہ اس کی جو بھی پیش گوئی ہوتی تھی وہ غلط ہو جاتی تھی اور اس کا تمسخر اڑایا جاتاتھا۔ یہ ادارہ بھی اور اداروں کی طرح بدنام ہو گیا تھا اور اپنا اعتماد اور اعتبار بھی کھو چکا تھا۔ اس لیے اب اس کی کسی بھی پیش گوئی پر کوئی بھی یقین نہیں تھا۔ اس محکمہ موسمیات نے دو دن پہلے آسمان کے ابرآلود ہونے اور دودن تک مسلسل برسنے کی پیش گوئی کی تھی۔ لیکن آسمان دو دن سے افق تا افق ابر آلود ہونے کے باوجود برسا نہیں تھا اور دور دور تک اس کے کوئی آثار بھی دکھائی نہیں دیتے تھے۔ کھڑکی کے باہر ہر سمت اندھیرا کہر کی طرح پھیلا ہوا گھور رہا تھا۔
زیتون بانو کو ایسا لگا جیسے شام کا سلونا پن دھندلکے میں ڈوب رہا ہو۔ ان کے کمرے میں گہرے سائے کھڑکی سے ہوتے ہوئے پورے کمرے میں پھیلے ہوئے تھے اور انہوں نے ہر چیز کو اپنی آغوش میں لیا ہوا تھا۔ جس سے ماحول کچھ عجیب سا لگ رہا تھا۔ نیند ان کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی لیکن وہ سونا بھی نہیں چاہتی تھیں۔ اس لیے وہ جاگ رہی تھیں۔ ماضی جیسے دستک دے رہا تھا لیکن وہ اس کے کسی دریچے میں جھانکنا نہیں چاہتی تھیں۔ جیسے کسی دریچے کے کھلتے ہی انہیں ماضی کسی زہریلے پھنکارتے ناگ کی طرح ڈس لے گا۔ اس لیے وہ کوئی دریچہ کھولنے سے اپنے آپ کو باز رکھ رہی تھیں اور اپنے ذہن کو کسی بچے کی طرح بہلا رہی تھیں۔
پھر ان کے بس اور اختیار میں کچھ بھی تو نہیں رہا تھا۔ کیوں کہ ماضی کی کتاب کے اوراق ایک ایک کر کے آپ ہی آپ الٹتے جا رہے تھے۔ جیسے ایک طوفان سا آ گیا تھا۔ روکھے بالوں کی لٹوں پر کہیں کہیں ماضی کے ٹھنڈے الائو کی راکھ کے ذرے جم چکے تھے۔ انہیں ہمیشہ سے یادوں کے بچھوئوں سے ایک انجانا سا خوف آتا تھا جو آپ ہی آپ نہ جانے کہاں سے رینگنے لگتے تھے۔ ان کے سینے میں ایک سرد آہوں کا غبار سا بہہ جاتا تھا۔ جب ایسی راتیں خوابیدہ سپنے جگانے والی ہوتی تھیں۔ زوروں کی بارش کیا ہوتی رات کا حسن نکھر جاتا اور ساری فضا اور ماحول پر ایک عجب سا فسوں چھا جاتا تھا۔ وقت پلٹ کر کب آتا ہے‘ وقت جو بڑا بے رحم ہوتا ہے۔ ایک سفاک اور وحشی قاتل کی طرح‘ وہ جو کسی کا نہیں ہوتا ہے۔ ٹھہرتا نہیں ہے۔ بس اپنی یاد چھوڑ کر گزر جاتا ہے۔ پلٹ کر بھی تو نہیں دیکھتا۔
لیکن اب تو انہیں ایک خوف سا آتا تھا۔ آج وہ عمر کے جس حصے میں تھیں وہاں ساری یادیں اور سپنے ٹوٹی سانسوں کی طرح سینے کے نہاں خانوں کی اتھاہ گہرائیوں میں گڑی ہوئی تھیں… اور اب انہیں ان سپنوں اور ان بیتی یادوں سے کچھ لینا نہیں تھا اور پھر وہ انہیں دے بھی کیا سکتی تھیں۔
اب بس سامنے ہی دیکھنا تھا‘ سامنے جو ایک لق و دق صحرا تھا اور قدم قدم پر سراب کے سوا کچھ نہیں تھا۔ وہ کبھی سراب کے پیچھے نہیں بھاگی تھی۔ اپنی سوچوں میں انہیں معاً نغمہ کا خیال آیا۔ وہ حیران ہور ہی تھیں کہ نغمہ اب تک جاگی کیوں نہیں…؟ آج وہ خلاف معمول ابھی تک کیوں سو رہی ہے؟ یہ ان کی سمجھ میں نہیں آیا۔ وہ رات بھی تو جلد ہی سو گئی تھی۔ جلدی اس لیے بھی سو جاتی تھی کہ جلد بیدار ہو سکے۔ اس نے یہ اپنی عادت بنا لی تھی۔ اس لیے کہ رات دیر سے سونے پر صبح جلد بیدار ہونا مشکل ہو جاتا تھا اور پھر بستر چھوڑنے کو دل نہیں کرتا۔
وہ دیکھ رہی تھیں کہ کوئی ایک برس سے فجر کی اذان کے ساتھ ساتھ نغمہ جاگ جاتی تھی۔ اس کے بیدار ہونے سے گھر سنسنان نہیں رہتا تھا۔ وہ نہاتی اور نماز پڑھ کر سیدھی باورچی خانے میں گھس جاتی تھی۔ وہاں برتن نہیں جیسے موسیقی کے ساز تھے جو بجتے رہتے تھے۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا تھا کہ کوئی برتن کسی ساز کی طرح نہ بجا ہو اور انہیں اس کی کھنک سنائی نہ دی ہو۔ پھر وہ باورچی خانے سے نکل کر اپنے کمرے میں گھس جاتی تھی اور کوئی مقبول گیت دھیمے سروں میں گنگناتی اور ساتھ ساتھ اپنے بالوں کو بھی سنوارتی جاتی اور اس میں خاصا وقت لیتی۔
کپڑوں کی سرسراہٹ سے انہیں پتہ چل جاتا کہ وہ تیار ہو رہی ہے۔ کپڑے بدل رہی ہے۔ اب کپڑے بدل چکی ہے۔ وہ تو چارپائی پر لیٹے لیٹے اپنے کان اور اپنی ساری توجہ اس کمرے کی جانب لگائے رہتی تھیں اور ایک لحظہ کے لیے اس سے غافل نہیں ہو پاتی تھیں۔ ہر آہٹ ‘ اس کی سانسیں اور سرسراہٹ ان سے جیسے پہیلیاں بھجواتی رہتی تھیں۔
نغمہ کو تیاری میں کوئی ایک گھنٹہ لگ جاتا تھا۔ وہ اس سے پہلے تیار نہیں ہو پاتی تھی اور نہ ہی کبھی تیار ہوئی تھی۔ تیاری کے آخری مرحلے کی خبر انہیں بھینی بھینی خوشبو کی مہک سے مل جاتی تھی جو تمام کمروں میں اس لمحے پھیل کر فضا کو مہکا دیتی تھی… اور پھر ان کے نتھنوں میں گھس کر دل پر چرکے لگاتی تھی۔ پھر وہ سینڈل پہن کر مخصوص اور فاخرانہ انداز سے چلتی ہوئی ان کے کمرے کی طرف آتی تو وہ قدموں کی چاپ سن کر فوراً ہی کروٹ لے کر جھٹ سے آنکھیں بند کر لیتی تھیں۔ وہ کمرے میں نہیں بلکہ دہلیز پر کھڑی ہو کر ان کی طرف دیکھتی۔
’’امی! … امی!… امی!…‘‘

 

نغمہ! کی آواز اپنے اندر ایک طرح کی افسردگی لیے ہوتی تھی جیسے وہ کام کاج پر نہیں بلکہ اپنے سسرال کے جہنم میں جا رہی ہو۔ بڑی مجبوری کے عالم میں… بے بسی اور دکھ کی حالت میں… جبر و زیادتی سے… بے پناہ مجبوری سے…
’’امی! میں جا رہی ہوں۔ میں نے سارے برتن دھو دیئے ہیں۔ ناشتا بھی تیار کر دیا ہے۔ میں نے چائے کی کیتلی بہت ہی دھیمی آنچ پر رکھ دی ہے… اللہ حافظ امی!…‘‘
زیتون بانو جواب دینے میں لمحے کی تاخیر کرتی تھیں۔ وہ جواب میں اللہ حافظ کہنے سے پہلے آنکھیں کھول کر اور گردن کو تکیہ پر قدرے گھما کر اس کی طرف دیکھتی تھیں تو تب ان کے سینے میں ایک آگ سی بھڑک اٹھتی تھی۔ ان کی رگوں میں خون جل اٹھتا اور ان کے سارے وجود کو جلا دیتا۔ ان کی پھٹی پھٹی آنکھیں اپنی بیٹی پر نہیں جیسے آتش فشاں پر ٹھٹک کے منجمد ہو جاتی تھیں۔ وہ دہشت زدہ سی ہو کر نغمہ کو اس طرح دیکھتی تھیں جیسے یہ آتش فشاں کسی بھی لمحے پھٹنے والا ہے اور سارا لاوا بہہ کر باہر آ جائے گا۔
اور پھر وہ یہ بھی اچھی طرح جانتی تھیں کہ ان کی لڑکی کوئی چودہ پندرہ برس کی الھڑ لڑکی نہیں ہے۔ نادان اور بے پروا قسم کی نہیں ہے۔ اسے احساس ہے کہ وہ آج کیا ہے۔ وہ ایسی بھی نہیں ہے جس کی عمر کسی سنگین خطرے کی طرح ہو اور وہ کسی دو دھاری تلوار کی طرح سر پر لٹک رہی ہو۔ وہ پورے بیس برس کی ایک سمجھ دار‘ ذہین‘ تیز طرار اور طرح دار اور سنجیدہ نظر آنے والی لڑکی تھی۔ سنبھلی ہوئی اور تعلیم یافتہ تھی… اس نے جوانی کی دہلیز پھلانگ کر شباب کی حدود میں قدم رکھ دیا تھا۔ ایسی لڑکیاں زمانے کی ہوا کی لپیٹ میں نہیں آتی تھیں۔ اس میں اچھائی اور برائی کی تمیز تھی۔ وہ عام قسم کی لڑکیوں کی طرح بہک نہیں سکتی تھی۔ وہ ایک ایسی لڑکی تھی جو اپنی راہ سے بھٹک کر غلاظت کے دلدل میں جا گرے اور کوئی اسے محبت کے نام سے فریب نہیں دے سکتا۔ ان سے زیادہ اپنی بیٹی کو کون جان اور سمجھ سکتا تھا۔ انہیں اس پر بڑا اعتماد تھا۔ جس نے انہیں بڑی مضبوطی سے باندھ رکھا تھا۔
پھر نہ جانے کیوں ایک نیزے کی سی انی ان کے دل میں چھید کرنے لگتی۔ وہ اس لمحے نغمہ کو اس طرح ناقدانہ نظروں سے دیکھتی تھیں جیسے پہلی بار ناقدانہ نظروں سے دیکھ رہی ہوں۔ وہ اجنبی سی لڑکی ہو‘ وہ جو بھڑکیلے لباس اور میک اپ میں بھی سجی سجائی دکھائی دیتی تھی۔ وہ چینی کی گڑیا معلوم ہوتی تھی۔ اس کا پر شکوہ سراپا اور جسم کے زاویے جو لباس میں اور نمایاں ہو جاتے تھے دیکھ کر دل تھام لیتی تھیں۔ ان کے دھک دھک کرتے سینے میں ایک شعلہ سا بھڑک اٹھتا۔ پھر ان کے دل کے کسی کونے میں ایک شدید قسم کی نفرت جاگ اٹھتی تھی۔ جب وہ اس قدر حسین‘ پرشباب اور پرکشش ہے اسے میک اپ کر کے بن ٹھن کر جانے کی کیا ضرورت ہے…؟ وہ دل موہ لینے والی خوشبو کیوں لگاتی ہے…؟ اور پھر اس کی بڑی بڑی جھیل جیسی حسین سیاہ آنکھیں جس میں جانے کیا جادو چھپا ہوا ہے۔
یہ سب کچھ سوچ کر ان کے سینے میں درد ہونے لگتا۔ وہ سہم کر نغمہ کو مہکتا ہوا حسین سراپا دیکھتیں تو ان کی آنکھوں کے سامنے دھند سی چھا جاتی۔ انہیں یوں محسوس ہوتا تھا کہ نغمہ ان کے اس انداز سے دیکھنے پر اندر ہی اندر مسکراتی ہے اور وہ معنی خیز مسکراہٹ آنکھوں سے ہوتی لبوں پر اس کے گوشوں میں پھیل جاتی ہے۔ پھر وہ اپنا دل مضبوط کر کے اس کے چہرے پر نظریں مرکوز کر کے اداس اور سرد آواز میں جواب دیتیں۔
’’فی امان اللہ بیٹی!… شام کو جلد گھر آنے کی کوشش کرنا۔‘‘
وہ دروازہ بند کرنے کیلئے اٹھتیں۔ دروازہ بند کرنے کا تو ایک بہانہ تھا۔ گھر میں تھا کیا؟ کوئی چور بدمعاش گھر میں گھس آئے تو اسے ملتا بھی کیا۔ خالی ہاتھ واپس چلا جاتا۔ وہ دروازے پر کھڑی ہو کر اپنی بیٹی کو اس وقت تک دیکھتی رہتی تھیں جب تک وہ ان کی نظروں سے اوجھل نہ ہو جاتی۔ وہ سبک خرامی سے چلتی ہوئی جاتی تھی۔ مردوں اور جوان لڑکوں کی ہی نہیں لڑکیوں اور عورتوں کی نگاہیں بھی اسے اپنی گرفت میں لے لیتی تھیں۔ روز ہی اسے اس طرح دیکھتے تھے۔ یہ کوئی نئے اجنبی نہ تھے۔ محلے کے ہی لوگ تھے لیکن وہ نغمہ کو اس طرح سے دیکھتے تھے جیسے اسے پہلی بار دیکھ رہے ہوں۔ یہ سچ بھی تو تھا کہ نغمہ ہر روز ایک نئے روپ میں نظر آتی تھی۔ اس کی اٹھان نوجوانی کے آغاز سے ہی نہیں بلکہ بچپن سے ایسی تھی… وہ سوچتی تھیں کہ ایک شہزادی نے ایک غریب گھرانے میں جنم کیوں لیا…؟
نغمہ دن ڈوبنے سے پہلے یا دن ڈوبنے کے بعد گھر پہنچتی تھی۔ زیتون بانو کے سینے میں جو شعلہ بھڑکتا رہتا تھا وہ بجھ جاتا اور سینے کا درد بھی مٹ جاتا۔ وہ اطمینان کا سانس لے کر اس کے حسین چہرے اور دل کش سراپا پر ایک اچٹتی سی نظر غیر محسوس انداز سے ڈالتیں تو ان کے سینے میں ایک ٹھنڈک سی بھر جاتی۔ اس کے چہرے پر کوئی ایسا فسانہ نہیں لکھا ہوتا تھا جس سے وہ خائف ہو جاتیں۔ کیوں کہ آج کا وقت اور حالات ایسے تھے کہ کسی بات کا کوئی بھروسہ نہیں تھا۔
آج چھٹی کا دن تو نہیں تھا۔ بارش بھی نہیں ہو رہی تھی پھر بھی وہ سو رہی تھی۔ اب تک کیوں سو رہی ہے؟ انہیں تشویش ہوئی۔ انہوں نے کروٹ لے کر نغمہ کے کمرے کی طرف دیکھا۔ اس کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ اس کے کمرے میں زیرو پاور کے بلب کی روشنی جو کسیلی سی لگ رہی تھی پھیلی ہوئی تھی۔ ایک گہرا سکوت چھایا ہوا تھا۔ گلی میں بھی سناٹا تھا۔ پہلے تو انہوں نے سوچا کہ نغمہ کو آواز دے کر اٹھائیں۔ وہ یہ ارادہ ملتوی کر کے اٹھنے لگیں تو ان کا جوڑ جوڑ درد کرنے لگا۔ پھر انہوں نے جیسے ہمت ہار دی۔ نڈھال سی بستر پر گر گئیں۔ کچھ دیر بعد انہوں نے اپنے جسم کی تمام طاقت کو جمع کیا اور پھر بہروقت تمام اٹھیں۔ یہ مجبوری بھی کیا چیز ہوتی ہے؟ انہوں نے سوچا۔ وہ کئی روز سے اپنے آپ کو گری گری سی محسوس کر رہی تھیں۔ اس کی وجہ وہ جانتی تھیں یہ ان کی عمر تھی۔ ادھر موسم نے رت بدلی تو ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی تھی۔ وہ کسی نہ کسی طرح چارپائی سے اتر کر کھڑی ہو گئیں۔ سرہانے سے دوپٹے کو اٹھا کر سینے پر پھیلایا۔ جب وہ نغمہ کے کمرے کی طرف بڑھیں تو ان کے قدم کسی شرابی کی طرح ڈگمگا رہے تھے۔ ایک ایک قدم اٹھانا دشوار سا لگ رہا تھا۔
of 39 
Go