Urdu Novels

Back | Home |  
مسافر لوٹ آئے ہیں۔۔۔۔۔۔سمیرا شریف طور 
 
اس نے آٹھ برس بعد اپنی سر زمین پر قدم رکھا تھا۔ پورے آٹھ سال بعد۔ جہاں سے نکلتے ہوئے اس نے سوچا تھا کہ وہ یہاں کبھی بھی پلٹ کر نہیں آئے گا مگر ایک عرصے بعد وہ پھرپلٹ آیا تھا اسی شہر بداماں میں۔ جہاں اس کا وجود زخمی زخمی ہوا تھا۔ روح میں کئی گہرے زخم لگے تھے۔ گھائو ایسے تھے کہ آٹھ سال کا طویل دورانیہ اور تنہائی بھی انہیں مندمل نہ کرسکی تھی۔
 اسی زمین میں جہاں وہ نامہربان وجود رہتا تھا۔ جس نے اس کے وجود سے جان کھینچ لینے کی کبھی کوشش کی تھی۔ اس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی مانگ لی تھی۔ اور وہ تھا کہ صرف اور صرف اس کی خواہش کا احترام کرتے‘ اس کی خوشیوں کی خاطر اپنے دل کی پروا کئے بغیر اس کی عمر بھر کی تنہائی اور ہجر سے لپٹی عمر بھر کی قید اپنے حصے میں لکھ دی تھی۔ صرف اور صرف اس کے جذبوں کااحترام کرتے اور اب اگر وہ پلٹا بھی تھا تو صرف اور صرف اس کی خاطر‘ ایک دفعہ پھر اپنی روح وجسم کو اذیت کے گہرے سمندر میں دھکیلنے کی خاطر‘ اپنے وعدے کی پاسداری کی خاطر جو اس نے اس سے کیا تھا۔ اب نہیں جانتا تھا کہ آگے کن حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اپنے وعدے کو نبھانے چلا آیا تھا۔ جب محبت کی ہے تو پھر سودوزیاں کا حساب بے کار رہتا ہے۔ یہ حقیقت بہت پہلے اس نے جان لی تھی۔
ٹیکسی سے اتر کر کرایہ ادا کرکے اس نے اپنے اطراف دیکھا۔ یہ وہی گائوں تھا جہاں وہ بڑے فخر‘ غرور و شان کے ساتھ کبھی چلتاتھا۔ اور اب یہ وہی علاقہ تھا جو اس نے گزشتہ آٹھ سال سے اپنے لئے شجرممنوعہ کی طرح بنا رکھا تھا۔ بہت کچھ بدلا تھا۔ مگر سامنے نظر آنے والی حویلی اسی شان وشوکت کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑی تھی جیسا کہ وہ آٹھ سال پہلے چھوڑ کر گیا تھا۔
گیٹ پر دستک دیتے ہوئے اسے چاچاجانی اور بی بی جان کا خیال آرہا تھا۔ اسے یوں اپنے سامنے دیکھ کر نہ جانے ان کی کیا کیفیت ہو۔ وہ کچھ بھی اندازہ نہیں کرپارہاتھا۔
’’جی صاحب… کس سے ملنا ہے؟‘‘ ایک نوجوان سا لڑکا پوچھ رہا تھا۔ بلکہ سر سے پائوں تک جائزہ بھی لے ڈالا تھا۔ سالک نے اپنابیگ زمین پررکھا۔
’’مجھے قمرالزمان صاحب سے ملنا ہے۔ بہت دور سے آیا ہوں۔‘‘ 
’’جی مگر وہ اس وقت کسی سے نہیں ملتے۔ اگر آپ نام بتادیں تو سہولت رہے گی۔ ورنہ آپ کو انتظار کرناپڑے گا۔‘‘ ملازم نے ادب سے بتایا تھا شاید وہ اس کے حلئے سے متاثر ہواتھا۔
’’میں ان کا بھتیجا سالک ہوں۔ انیس الزمان کابیٹا۔‘‘ اس نے اپنا حوالہ دیاتھا۔ ملازم کی آنکھوں میں ایک دم حیرت سمٹ آئی تھی۔ بغور دیکھا تھا پھر بوکھلا گیا۔
’’سلام سرکار… معاف کیجئے‘مجھے علم نہیں‘ نیا آیا ہوں نا…مگر بڑے سرکار سے اکثر آپ کا نام سنا ہے۔ آپ چھوٹی بی بی کے شوہر ہیں نا…‘‘ وہ فوراً احترام بجالایاتھا۔ زمین پرپڑا اس کابیگ اٹھالیا تھا۔ پہلے ہی موڑ پر اسے چھوٹی بی بی کا حوالہ بہت ناگوار گزرا تھا۔
’’آئیں… سرکار… آئیں…‘‘ وہ اندر بڑھ گیاتھا۔ ملازم پیچھے پیچھے چلنے لگا تھا۔ یہ وسیع وعریض آسائشات کی حامل کوٹھی اندر سے بھی ویسی ہی تھی جیسی وہ چھوڑ کر گیا تھا۔ اندر آنے کے بعد سب سے پہلے اس کا سامنا سراج بابا سے ہوا تھا۔
’’سالک بیٹا…!‘‘ بابا اپنی جگہ ساکن ہوگئے تھے۔
’’السلام علیکم۔‘‘
’’وعلیکم السلام…تم سالک ہونا… واقعی میری آنکھیں سچ دیکھ رہی ہیں نا…یہ تم ہی ہونا…‘‘بابا اسے یوں برسوں بعد سامنے دیکھ کر بدحواس سے ہوگئے تھے۔ وہ مسکرادیا۔
’’یہ میں ہی ہوں بابا… سالک! بدنصیب…‘‘ آخری لفظ اس نے اسقدر آہستگی سے کہا تھا کہ بابا کو سنائی نہیں دیا تھا۔ وہ بس خوش تھے اسے اپنے سامنے دیکھ کر۔
’’میں بڑے سرکار کو بتاتاہوں۔‘‘ بابا سراج فوراً اندر بڑھ گئے تھے۔ وہ بھی ان کے پیچھے ہی قدم بڑھانے لگا تھا۔
’’کیا کہہ رہے ہو تم… سالک آگیا… سالک…‘‘سراج بابا کی طرح چاچاجانی بھی شاکڈ تھے۔ وہ دروازے پر ہی رک گیا۔
’’چاچاجانی…‘‘ اس کے ہونٹ نیم وا ہوئے تھے۔ وہ تڑپ کر دیکھنے لگے تھے۔
پھر آگے بڑھ آئے تھے۔ دونوں بازوئوں میں سمیٹ لیا تھا۔
’’سالک… بیٹا…میری جان‘ تو کہاں تھا؟ اتنے برسوں تڑپایا ہمیں‘ ہم ترس گئے تھے تمہاری صورت کو…تمہارے وجود کو‘ کوئی یوں بھی کرتا ہے۔ ماناہم نے جبر کیا تھا مگر تم نے بھی تو حد کردی۔ سالوں کی دوری حائل کردی اپنے اور ہمارے درمیان کچھ نہ سوچا…ہم کیسے جئیں گے‘ کیسے رہیں گے۔‘‘ وہ رو رہے تھے کہے جارہے تھے۔ وہ بس ان کے سینے سے لگا اپنی اور ان کی برسوں کی پیاس بجھا رہاتھا۔ وہ بھی مراتھا‘ ان کے بغیر‘ ایک ایک پل جان کنی کے عمل سے گزرا تھا۔ کیسے بتادیتا یہ سزا تو مقدر میں تھی اور نجانے کب تک رہے جو خود اس کی اپنی منتخب کردہ تھی۔
’’کہاں تھا تو…؟ نیویارک میں تو نہیں تھا‘ پھر کہاں چلا گیا تھا…‘‘ وہ پوچھ رہے تھے۔ سراج بابا اپنی آنکھیں صاف کرتے باہر نکل گئے تھے۔ وہ چاچا کو دیکھنے لگا۔ کتنے نڈھال اور ضعیف 

ہوگئے تھے وہ۔ پہلے والا دم خم نہیں رہا تھا۔ اس نے انہیں بستر پر بٹھایا۔
’’میں یہاں سے جانے کے صرف ایک دوماہ بعد ہی نیویارک سے واشنگٹن شفٹ ہوگیاتھا اور پھر وہاں سے انگلینڈ اور انگلینڈ سے جرمنی چلا گیا تھا۔‘‘سہولت سے بیٹھ کربتانے لگا تھا۔ 
’’اور اتنے برسوں میں ایک دفعہ بھی خیال نہ آیا کہ یہاں ہم پر کیا گزری ہے؟ تمہارا یوں لاپتا ہوجانا ہمیں کس درد سے دوچار کرگیا تھا۔ تمہاری ماں کیسے کیسے نہیں روئی… تمہاری چاچی‘اور اسوہ نے تمہیں کتنا یاد کیا ہے۔‘‘ وہ ابھی بھی غمزدہ تھے۔ وہ سرجھکائے بیٹھا رہا۔ اس دوران سراج بابا ٹرالی سجائے اندر داخل ہوئے تووہ حیران ہوا۔ اس کے خیال میں اس کی آمد کی خبر سراج بابا نے تقریباً سب کو دے دی ہوگی مگر کوئی بھی نہیں آیا تھا خاص طور پر بی بی جان اور چاچی۔
’’بی بی جان اور چاچی جان کہاں ہیں؟‘‘ اس نے پوچھا تھا۔ اسوہ کانام لینے میں احتیاط ہی برتی۔
’’برادری میں ایک شادی ہے‘ اسوہ اور وہ دونوں وہیں گئی ہیں۔ میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی گھر پر ہی رہ گیا تھا۔‘‘ اس نے سرہلایا۔
’’سالک بیٹے فریش ہولو… پھر کچھ کھاپی لو۔‘‘ سراج بابا نے کہا تووہ سر ہلا کر اٹھ گیا۔
چاچا کے روم میں ہی اس نے منہ ہاتھ دھولیاتھا۔ ملازم اس کابیگ بھی یہیں رکھ گیاتھا۔ کپڑے نکال کر بدلے اور پھر چاچاجانی کیساتھ ہی کھانے لگا۔ کھانے کے دوران وہ اس سے گزرے ماہ وسال کے متعلق ہی پوچھتے رہے تھے۔ وہ اپنی طرف سے ان کو تسلی بخش جواب دیتا رہا تھا۔
’’تم آرام کرلو…نیویارک سے پاکستان کی فلائیٹ بہت تھکن زدہ کردیتی ہے۔ اوپر سے یہاں گائوں میں آنا۔‘‘ وہ کافی تھک چکاتھا اور چاچا نے اس کے چہرے سے اندازہ بھی لگالیا۔ سو اسے نصیحت کرتے کمرے سے نکل گئے تھے۔ وہ ان کے بیڈ پر ہی لیٹ گیا۔ جرمنی سے وہ تین دن پہلے ہی نیویارک پہنچا تھا۔ کامران کے فون کی وجہ سے کہ اتنے سالوں بعد اس کے گائوں سے اس کے نام کوئی خط آیا ہے۔ شروع کے دوسالوں تک تو خوب رابطہ ہوا تھا اسے ہر جگہ تلاش کرنے کی کوشش کی گئی تھی‘ خاص طور پرکامران بیچارہ اس سلسلے میں کافی پریشان بھی رہاتھا مگر پھررفتہ رفتہ اس کی تلاش کی کوششیں سردپڑگئی تھیں۔ برسوں بعد اس کے نام کوئی خط آیا تھا۔ وہ خود بھی حیران تھا۔ اس کاپتایاموبائل نمبر کاصرف کامرا ن کو علم تھا سو وہ پہلے نیویارک پہنچا تھا۔ خط اسوہ کی جانب سے ہی لکھا گیاتھا۔ آٹھ سال پہلے کئے گئے وعدے کی یاددہانی کرائی گئی تھی مگر وہ بھی اس شرط پر کہ وہ روبرو آکر کوئی فیصلہ کرے۔ چاہتاتو کبھی وعدہ نہ نبھاتا اس کی خواہش کے احترام میں وہیں بیٹھے بیٹھے آدھا وعدہ پورا کردیتا اوراس کی خواہش پوری کردیتا مگر اس کی شرط بھی وہ ٹال نہیں سکاتھا۔ جب بچھڑنا طے ہے تو پھر ایک دفعہ روبرو ہونے میں کیا حرج ہے یا شاید وہ اپنے ضبط ومحبت کی انتہا دیکھنا چاہتاتھا۔ اورا س کا لکھا خط بھی کیا تھا صرف چند الفاظ تھے۔
’’سالک!
میں آپ کے فیصلے کی منتظر ہوں۔ اب وقت آگیا ہے کہ آپ اپنا وعدہ نبھائیے مگر ایک شرط ہے سب کچھ روبرو طے ہو۔
اسوہ۔‘‘
اور یہ چند الفاظ اس کی ذات کو کس طرح ادھیڑ گئے تھے یہ صرف وہی جانتاتھا۔ اوراب وہ یہاں تھا اس گھر میں جہاں اس نے اپنی عمر کے کئی حسین دورگزارے تھے۔ وہ انہی باتوں میں الجھا ہواتھا جب نیند کی دیوی نے اسے آلیاتھا۔
سراج بابا نے اسے اٹھایا تو وہ باہر نکل آیا۔ ساری حویلی دیکھ ڈالی تھی۔ چاچا جانی باہر جاگیر کے معاملات دیکھنے چلے گئے تھے۔ سراج بابا کو چائے کا کہہ کر وہ لائبریری میں چلاآیا تھا۔ اس لائبریری میں اس کے ذوق وشوق کی سب کتابیں موجود تھیں۔ وہ پڑھ رہاتھا جب باہرجیپ رکنے کی آواز پرٹھٹک گیا تھا۔شام کے سائے گہرے ہوگئے تھے۔ چاچاجانی کے علاوہ اس کی ابھی کسی اور سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اٹھ کر کھڑکی کے پاس آگیا۔ ڈرائیور گاڑی کے دروازے کھول رہا تھا۔ سالک کا دل اس کی کنپٹیوں میں دھڑکنے لگا تھا۔ بی بی جان‘ چاچی جان اور اسوہ گاڑی سے اتری تھیں۔ دل چاہ رہاتھا کہ اڑ کر جائے اور بی بی جان کے قدموں میں جھک جائے۔ دیار غیر میں کس قدر یاد آتی تھیں وہ ہرپل‘ ہر لمحہ‘ ان کی شفیق ومہربان مامتابھری گود کی گرمی اسے اذیت کی بھٹی میں جھلسانے لگتی تھی مگر وہ مجبور تھا۔ اپنے دل کے ہاتھوں‘ اور اب… وہ دروازے کے قریب آکھڑا ہوا۔ اوپری منزل پر واقع یہ لائبریری نیچے کا سارا منظر واضح کردیتی تھی۔ بی بی جان‘چچی جان اور اسوہ تینوں صوفوں پرآکر گر گئی تھیں۔ وہ برسوں بعد انہیں دیکھ رہاتھا کتنا عجیب لگ رہا تھا۔
’’سراج بابا… باباجانی کہاں ہیں؟‘‘ چادر اتارنے کے بعد اسوہ نے پوچھا تھا۔
’’چھوٹی بی بی! وہ زمینوں پر گئے ہیں۔ کہہ گئے تھے کہ وہ تھوڑی دیر میں لوٹ آئیں گے۔‘‘بابا نے بتایا تھا۔ وہ کمرے سے باہر نکل آیا۔ اب سالک کا رخ نیچے کی جانب تھا۔
’’کیابات ہے بابا‘بہت خوش ہیں؟‘‘ اسوہ بابا کومسلسل مسکراتے دیکھ کر پوچھ رہی تھی۔ بی بی جان اور چچی جان بھی متوجہ تھیں۔

’’جی چھوٹی بی بی‘ بات ہی کچھ ایسی ہے۔ آپ بھی سنیں تو حیران ہوں گی۔ آج برسوں بعد اس حویلی کی خوشیاں لوٹ آئی ہیں۔‘‘ سالک سیڑھیاں اترنے لگا تھا۔
’’ایسی بھی کیا خوشی آگئی؟ کچھ بتائو تو سہی…‘‘ بی بی جان نے بھی پوچھا تھا۔
اسوہ چادر اتار کر صوفے کی پشت پر ڈال کر اپنے گھنے آبشار ایسے کھلے بالوں کو آگے کرکے انگلیاں پھیررہی تھی جبکہ بلاارادہ ادھر ادھر دیکھتے ہوئے اس کی نظر سیڑھیاں اترتے سالک پر ٹھہری تو ایکدم اٹھ کھڑی ہوئی۔ لمحوں میں بدحواس ہوئی تھی جبکہ باقی لوگ اس طرف متوجہ نہیں تھے سوائے سراج بابا کے۔
’’سالک بیٹا آئے ہیں‘ وہ دیکھیں بڑی سرکار۔‘‘ وہ ان تک پہنچ گیاتھا۔
جب بابا نے اس کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے انکشاف کیا تھا۔ بی بی جان اور چچی جان بھی ایک دم پلٹی تھیں اور اسوہ کا توکاٹو تو بدن میں خون نہیں والا حال تھا۔
’’السلام علیکم بی بی جان…‘‘ وہ والہانہ انداز سے ان کی طرف بڑھا تھا۔ اسوہ اپنی جگہ حیران وساکت تھی۔ ابھی اسے دن ہی کتنے ہوئے تھے خط لکھے ہوئے اور اتنی جلدی وہ روبرو تھا۔ اس کی حیرت کے برعکس چچی جان اور بی بی جان حیران تھیں۔
’’تم سالک‘ تم آگئے بچے! کہاں چلے گئے تھے۔ اتنے سال گزار دیئے۔ کتنے ظالم تھے تم… ماں کے ضبط کو آزماتے رہے‘ کہاں تھے؟ بولو سالک… میرے بچے۔‘‘ بی بی جان اسے بازوئوں میں لئے گرمجوشی سے روتی بے قرار ہو رہی تھیں۔ وہ بمشکل مسکرا سکا تھا۔ ایک نگاہ غلط اسوہ پراٹھ گئی تھی جو اس سچوایشن اور اس کی آمد پر حیران ہوتی اپنے ہاتھ مسل رہی تھی اور ہونٹ کاٹ رہی تھی۔
’’السلام علیکم چچی جان کیسی ہیں آپ؟‘‘ بی بی جان سے جدا ہو کروہ چچی کی طرف بڑھ گیاتھا۔
’’ہمارا ضبط آزماکے پوچھتے ہو کہ کیسے ہیں…جی رہے ہیں۔‘‘ وہ آبدیدہ ہوگئی تھیں۔ اس کا چہرہ ہاتھوں میں چھپائے‘ پیشانی چومتے کہہ رہی تھیں۔وہ شرمندہ ساہوگیا۔ جانتا تھا یہ شکوے‘ یہ شکایتیں برحق تھیں۔
’’کب آئے…؟‘‘ صوفے پربیٹھتے ہوئے وہ پوچھ رہی تھیں۔ وہ بھی بی بی جان کوسہارا دیئے ان کے سامنے والے صوفے پربیٹھ گیا جبکہ اسوہ ابھی بھی کھڑی تھی۔ اسی طرح ساکت وصامت۔
’’آج دوپہر کو…‘‘ مختصراً بتایا پھر ایک نظر اسوہ پر پڑگئی۔ وہ یہاں سے جانے کو پرتول رہی تھی۔
’’یہ اسوہ ہے‘ جانتے ہونایا اسے بھی بھول گئے ہو۔ ماں چچااور چچی کی طرح۔‘‘ بی بی جان نے اسے ایک دم کٹہرے میں لاکھڑا کیا تھا۔ گویا دونوں کی جان مشکل میں ڈال گئی تھیں۔ وہ ہنس دیاتھا۔ ایک عجیب سی نظر اس وجود پرڈالی جو سرجھکائے کھڑی تھی۔ کتنی بدل گئی تھی وہ۔ جب وہ یہاں سے گیاتھا تو بالکل مختلف تھی۔ اب سنجیدہ سی‘خوبصورتی کے سب پیمانوں پرپورااترتی‘ چند لمحوں کو اس کی توجہ سمیٹ گئی تھی۔ اس نے ایک گہری نظر اس کے سراپے پرڈالی تھی۔
’’میں کچھ بھی نہیں بھولا بی بی جان۔ سب یاد ہے۔‘‘ اس کالہجہ نہ چاہتے ہوئے بھی تلخ ہوگیا تھا۔ بی بی جان کوایک دم ملال نے آلیا۔ انہوں نے اس کے ساتھ کم زبردستی کی تھی کیا۔ اس نے تو پھر بھی اعتراض تک نہیں کیا تھا صرف بغیر بتائے آٹھ سالوں تک بغیر کوئی نام ونشان چھوڑے قطع تعلق کرگیاتھا اوراب تو وہ اعتراض کا بھی حق نہیں رکھتی تھیں۔ نہ جانے کون کون سے دکھ تھے جو آنکھوں سے بہہ نکلے تھے۔
’’ہاں ہم گنہگار تھے۔ اگر وہ زبردستی نہ کرتے تو نہ جانے کیا دن دیکھنے پڑتے۔‘‘ چچی جان اپنی دختر نیک اختر پر ایک کٹیلی شکوہ بھری نگاہ ڈال کر ملول سی کہہ رہی تھیں۔ اب اسوہ کے لئے مزید کھڑے رہنا محال تھا۔ وہ بغیر چادر اٹھائے بھاگتے ہوئے زینہ طے کرتے اوپر چلی گئی تھی۔ سب نے اسے جاتے دیکھا تھا۔ سالک سرجھکاگیاتھا۔ اس کامقصد چچی جان کو شرمندہ کرنا نہیں تھا۔ اس سارے قصے میں بھلا ان کا کیا قصور؟
رات کے کھانے تک وہ دونوں خواتین کے درمیان ہی گھرا رہاتھا۔ چچاجانی بھی شام کے بعد آگئے تھے۔ مختلف سوالات کرتے رہے تھے۔ وہ مختصراً بتاتا گیا۔ پھرملازمہ نے کھانا لگ جانے کی اطلاع دی تووہ سب کی سربراہی میں کھانے کی ٹیبل پر آگیا۔
’’جائو اسوہ کوبلالائو۔‘‘زبیدہ کوچچی جان نے حکم دیا تھا۔ وہ ’’جی اچھا‘‘ کہہ کر چلی گئی تھی۔ بی بی جان اور چچی جان اس کے لئے کھانا نکالنے لگی تھیں۔ سراج بابا نے کھانے پر خصوصی اہتمام کروایا ہواتھا۔ کئی قسم کی ڈشز تھیں جو کبھی وہ بہت رغبت سے کھاتاتھا مگر اب جیسے کھانے پینے سے بھی دل اچاٹ ہوگیاتھا جومل جاتاتھا کھالیتاتھا۔
’’چھوٹی بی بی کہہ رہی ہیں وہ کھانا نہیں کھائیں گی‘ انہیں بھوک نہیں ہے۔‘‘ زبیدہ نے آکر اسوہ کا انکار سنایا تھا۔ چاچاجانی‘ بی بی جان اور چچی جان سب کے ہاتھ رک گئے تھے۔ وہ صرف دیکھ کر رہ گیاتھا۔ اسے دیکھنے کے بعد اس نے سوچا تھا کہ وہ بدل گئی ہے مگر اب اس کا کھانے کے لئے انکار سن کراسے اپنی رائے بدلناپڑی تھی وہ اب بھی ویسی ہی تھی۔ کسی کا بھی خیال نہ کرنے والی۔ وہ تلخی سے ہنسا تھا۔ یہ تلخی اس کے مزاج کا حصہ نہیں تھی مگر اب جب سے وہ اس گھر میں آیا تھا مسلسل اک کھنچائو کی کیفیت محسوس کررہاتھا۔
of 24 
Go