Urdu Novels

Back | Home |  
مسافتیں بے نشان ٹھہریں۔۔۔۔۔۔نگہت سیما
یہ کہانی ملائکہ محب اللہ خان کی ہے۔ ملائکہ میری کون ہے اور میں اس کی کہانی کیوں لکھ رہی ہوں تو شاید اس کا جواب میرے پاس نہیں ہے۔ وہ میری کون تھی؟ اس کے اور میرے بیچ کیا رشتہ تھا؟ محب و محبوب کا ہمدرد کا دوست کا یا جانے کیا میں آج تک جان نہیں پایا ہوں۔ شاید مجھے اس سے محبت ہو گئی تھی یا پھر شاید مجھے اس سے ہمدردی تھی۔ مجھے اس پر ترس آتا تھا۔ میں محض اسے تباہ ہونے سے بچانا چاہتا تھا۔ ایک خوبصورت ذہین اور بے ضرر ایجوکیٹڈ لڑکی کو بہرحال جو کچھ بھی تھا اتنے برس بیت جانے کے بعد بھی میں اسے نہیں بھولا۔ بھول ہی نہیں پایا ہوں۔ شاید اس کی کہانی کا قرض مجھے اتارنا ہے یا شاید میں اسے اس لئے نہیں بھلا پایا کہ وہ کچھ انوکھی سی تھی۔ اس کے اندر محبت کو پانے کی بڑی حب تھی لیکن اس کے اندر کے الجھاؤ اور نفسیاتی گرہیں اتنی دید تھیں کہ وہ محبت پانے کو لپکتی تو لیکن۔۔۔ ایک بار اس نے کہا تھا۔ ڈاکٹر حبیب احسن! تم میری کہانی لکھو۔ اچھا لکھوں گا۔ میں ہنس دیا۔ لکھوں گا لیکن کیا ایک پاگل سی لڑکی ہے جو۔۔۔ تم وعدہ کرو میری کہانی لکھو گے۔ وہ مچل اٹھی اور جب وہ ضد پر اتر آتی تھی تو کسی کی نہیں سنتی تھی۔ مجھے وعدہ کرتے ہی بنی۔ میں کوئی بڑا رائٹر نہیں ہوں لیکن کبھی کبھار کچھ نہ کچھ لکھتا ہوں۔ کچھ اندر سے باہر آنے کو بے تاب ہو جب کوئی چیز اندر چبھ رہی ہو اور میں اسے کہہ نہ پاؤں تو میں قلم اٹھا لیتا ہوں تو شاید اسی وعدے کا بوجھ مجھے ملائکہ محب اللہ کو بھولنے نہیں دیتا۔ ان بیتے

سات سالوں میں میں اسے کبھی بھول ہی نہیں پایا ہوں اور ایسا ہے کہ میں نے ان بیتے سالوں میں کچھ لکھا بھی نہیں ہے۔ آج قلم اٹھایا ہے تو جی چاہا کہ ملائکہ کی کہانی لکھوں۔ ملائکہ ایک ایسی لڑکی تھی جسے خود اپنی صلاحیتوں کا ادراک نہیں تھا یا اگر ادراک تھا بھی پھر بھی اسے خود پراعتماد نہیں تھا اس لئے وہ ساری زندگی دوسروں کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی بنتی رہی۔ اس نے وہی کیا جو دوسروں نے چاہا بلکہ دوسرے بھی کون اس کی ماں اور اس کا ماموں۔ اگر وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود کرتی تو شاید کہانی مختلف ہوتی۔ شاید اس کے ساتھ وہ سب کچھ نہ ہوتا جو ہوا پتا نہیں اس سب کے لئے وہ قصور وار تھی یا دوسرے یا پھر اگر وہ خود قصور وار تھی تو کتنے فیصد۔ میں نے جب اسے پہلی بار دیکھا تھا تو اس نے بلیو جینز پر گھٹنوں سے اونچا کرتا پہن رکھا تھا جس کے گلے پر کڑھائی تھی۔ چھوٹے چھوٹے بلیو اور وائٹ پھول اور وہ رو رہی تھی۔ میں نے اس کی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو دیکھا جو اس کے رخساروں کو بھگو رہے تھے تو میں ٹھٹک کر رک گیا۔ میں اپنے کلینک سے نکل کر پارکنگ کی طرف جا رہا تھا اور وہ پارکنگ میں ہی ایک سائیڈ پر اپنی گاڑی سے ٹیک لگائے گھڑی رو رہی تھی۔ یہ کون ہے؟ اور یہ اس طرح کیوں رو رہی ہے؟ آخر اس کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ میں نے غیر ارادی طور پر قدم اس کی سمت بڑھا دیئے۔ یہ لڑکی۔۔۔ مجھے لگا جیسے میں نے اسے پہلے بھی کہیں دیکھا ہو لیکن کہاں۔۔۔ میں نے ایک قدم اور آگے بڑھایا۔ یکایک میرے ذہن میں روشنی سی کوندی۔ ارے یہ تو۔۔۔ میں چونکا۔ یہ تو ملائکہ محب اللہ خان ہے۔ شوبز کی دنیا کا ایک جانا پہچانا نام سکرین کا چمکتا ستارہ ماڈلنگ سے سٹارٹ کر کے سکرین پر تہلکہ مچانے والی ملائکہ محب اللہ۔

اور پھر تقریباً چھ سات سال پہلے ہی عین عروج کے دور میں شوبز کو خیرباد کہہ دینے والی۔اب نہ تو وہ کسی ٹی وی ڈرامے میں نظر آتی تھی اور نہ ہی کسی ایڈ میں۔ چند سال پہلے کی بات تھی۔ وہ ٹی وی سکرین پر چھائی ہوئی تھی۔ اس کی اداکاری کی دھوم مچی ہوئی تھی۔ رسالے اور اخبارات اس کے انٹرویو چھاپتے تھے اس کی اداکاری پر تبصرہ کرتے گو میں نے اسے زیادہ نہیں دیکھا کیونکہ میں تو دو سال قبل ہی پاکستان آیا تھا اور ان دو سالوں میں کہیں کسی ڈرامے میں وہ دکھائی نہیں دی تھی۔ لیکن چند سال پہلے پاکستانی ڈرامے غیر ممالک میں بھی بہت شوق سے دیکھے جاتے تھے۔ میں نے بھی ایک دوست کے ہاں اس کا ڈرامہ دیکھا تھا۔ میرے اس دوست نے پاکستان سے پی ٹی وی کے مشہور ڈراموں کی کیسٹیں منگوائی تھیں۔ ایک بار میں نے ٹی وی پر اس کا انٹرویو بھی دیکھا تھا اور حیران ہو کر اس کی باتیں سنتے ہوئے ازحد متاثر ہوا تھا۔ وہ بہت پڑھی لکھی تھی کم از کم میں اس وقت تک نہیں سمجھتا تھا کہ کوئی پاکستانی اداکارہ اتنی پڑھی لکھی ہو سکتی ہے۔ اس نے اے لیول سینٹ جوزف سے کیا تھا اور پھر گریجویشن لاہور سے کرنے کے بعد ایم ایس سی کیمسٹری اس نے جامعہ کراچی سے کیا تھا۔ اس کے علاوہ کئی ڈپلومے اور کورسز بھی جو اب مجھے یاد نہیں تھے برٹش لہجے میں انگریزی بولتی اس اداکارہ کے انٹرویو کو میں نے بہت دلچسپی سے دیکھا تھا۔ تب ہی تو میں نے اتنے سالوں بعد بھی اسے پہچان لیا تھا وہ بلاشبہ وہی تھی لیکن وہ کیوں رو رہی تھی یہ جاننے کے لئے ہی میں اس کی طرف بڑھا۔ اگر میں امریکہ میں یوں کسی لڑکی کو روتے دیکھتا تو شاید اس کی طرف نہ بڑھتا کہ وہ اپنی ذاتیات میں مداخلت پر خفا بھی ہو سکتی تھی اور عین ممکن ہے وہ مجھ پر کیس بھی کر دیتی لیکن یہ پاکستان تھا وہ مجھے رونے کا سبب نہ بھی بتاتی لیکن وہ کم از کم میرے ساتھ ایسا کوئی سلوک نہ کرتی اسی یقین نے مجھے اس کی طرف بڑھنے کا حوصلہ دیا تھا پھر یکایک وہ مڑی اور میں نے اسے کھڑکی میں جھکتے دیکھا۔
of 54 
Go