Urdu Novels

Back | Home |  

پیا کا گھر پیارا لگے…سیدہ تہمینہ زہرا


بھاگنے کا راستہ ڈھونڈ رہا تھا۔ مزدک اس کے برے برے منہ کے زاویے دیکھ کر مسکرائے جا رہا تھا۔ تبھی دروازہ کھٹ سے کھلا اور شہر بانو انواع و اقسام کے لوازمات سے بھری ٹرالی سمیت داخل ہوئی۔تو سنی نے سکون کا سانس لیا۔
’’لو…تم کچن میں تھیں…رانیہ تمہارے کمرے میں گئی ہے تمہیں بلانے…یہ دیکھو حسین میاں…ایسی ہوتی ہے بہو…بنا کہے اپنی ذمہ داریاں سمجھنے والی…اگر ایسی کوئی لڑکی پسند کرو تو ضرور بتانا…‘‘ شہربانو کے سلام کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے سنی کو بھی رگیدا تو شہر بانو نے آنکھوں ہی آنکھوں میں کھسیائے بیٹھے سنی سے قصہ جاننا چاہا۔ جواب میں سنی نے پہلے سے بھی زیادہ بیچارہ منہ بنالیا تو وہ مسکراتی ہوئی بڑی اماں کے ساتھ بیٹھ گئی۔
اور کسی نے دیکھا ہو یا نہیں لیکن مزدک نے سنی اور شہر بانو کے درمیان ہونے والی اشاراتی گفتگو کو کافی ناگواری سے دیکھا۔ گرے کاٹن کے سادہ سے سوٹ میںبالوں کو سختی سے باندھے اس عام سی نقوش والی لڑکی سے اس لمحے مزدک کو شدید نفرت محسوس ہوئی جو اس محفل کا شاید سب سے خاص حصہ تھی۔
’’اب تم ہی بتاؤ شہر بانو!…کیا حل کروں اس مسئلے کا…صالحہ کا پکا فیصلہ ہے یہاں آنے کا…لیکن آخر رمیز کی بھی تو وہ ہی اکلوتی پھوپو ہے…میں نے تو کہا ہے ہماری طرف سے شرکت کرے وہ…‘‘صالحہ پھوپو کا نام سنتے ہی سنی کے کان کھڑے ہوگئے اور شہر بانو کے چہرے کی مسکراہٹ اور بھی گہری ہوگئی۔
’’میں کیا کہوں بڑی اماں!…جو آپ کو ٹھیک لگے…‘‘ شہر بانو کی سعادت مندی کم از کم اس وقت سنی کو بے حد بری لگی۔
’’بھابھی…صالحہ اور اس کی بچیاں یہاں سے شامل ہوں یا آپ کی طرف سے بات تو ایک ہی ہے…لیکن آپ بچیوں کو یہاں بھیج دیں تو بہتر ہے…آمنہ اور رانو تو بچپن کی سہیلیاں ہیں…وہ صالحہ آپا سے نہیں کہے گی لیکن مجھے پتا ہے وہ یہاں آنا چاہتی ہوگی…‘‘فاطمہ بیگم نے بھی گفتگو میں حصہ لیا تو سنی کا دل چاہا ان کے گلے لگ جائے۔ انجانے میں ہی سہی وہ اس کی خواہش پوری کر رہی تھیں۔
’’ہاں…چلو یہ بھی ٹھیک ہے…‘‘ بڑی اماں نے اثبات میں سر ہلا دیا تو شہر بانو سنی کو وکٹری کا نشان دکھانے لگی۔ آخر اس نے ہی فاطمہ بیگم کو اس بات پر راضی کیا تھا۔ لیکن سنی کو اس پر غصہ آرہا تھا۔ وہ منہ پھلائے بیٹھا رہا۔مزدک نے ایک لمحہ اس ماحول کو دیکھا۔ایک گہرا ملال اس کے دل میں گھر کرنے لگا۔سب کے درمیان ہو کر بھی وہ کسی کے ساتھ نہیں تھا۔ وہ آہستگی سے اٹھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ اس کا خیال تھا کہ اس کے ہونے یا نہ ہونے سے کسی کو فرق نہیں پڑتا لیکن ایسا نہیں تھا۔ اس کے اٹھتے ہی شہربانو نے ایک گہری پر سکون سانس لی۔ اس کی موجودگی کو برداشت کرنا ایک بہت بڑا مرحلہ تھا جو شہر بانو کو اس وقت بہت مشکل لگ رہا تھا۔ بظاہر وہ نارمل نظر آرہی تھی لیکن جب سے وہ اس کمرے میں آئی تھی اس کے ہاتھ پاؤں اس شخص کی موجودگی کے احساس سے کانپ رہے تھے اور دل سکڑ کر رہ گیا تھا۔ اس نے ایک بار بھی نگاہ پھیر کر مزدک کرمانی کو نہیں دیکھا تھا لیکن جب تک وہ موجود تھا،وہ اپنی جگہ سہمی بیٹھی رہی اگر وہ یہ بات جان جاتا تو ضرور شہربانو کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتا۔
الارم کی آواز پر وہ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ ساری رات وہ اس الارم کی کشمکش میں سو بھی نہیں پایا تھا۔ اسے ہر حال میں ناشتہ سب کے ساتھ کرنا تھا کیونکہ ایک اسی وقت پر گھر کے تمام افراد موجود ہوتے تھے۔ اور وہ اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ تقریباً بھاگتا ہو وہ ڈرائنگ روم تک پہنچا۔توقع کے مطابق سب موجود تھے۔اسے یہ دیکھ کر زیادہ خوشی ہوئی کہ شہربانو اس وقت ندارد تھی۔
’’صبح بخیر…‘‘ فاطمہ بیگم کے برابر والی کرسی گھسیٹتے ہوئے وہ مسکرایا۔
’’گڈمارننگ برادر!… یہ تم صبح صبح کیسے اٹھ گئے… تمہاری صبح تو کافی بعد میں ہونی چاہیے تھی نا…‘‘ سنی کا بھی اپنا انداز تھا طنز بھی اتنی خوبصورتی سے کرتا کہ مخاطب سمجھ کر بھی مسکرانے پر مجبور ہو جاتا۔
’’ہاں…بس میں چاہتا ہوں…ہمارے وقت میں جو دوری ہے وہ اب ختم ہو جائے…کیوں اماں!…کیا میں اب پھر سے آپ کی زندگی میں آپ کے ساتھ شامل نہیں ہو سکتا…؟‘‘ پلیٹ اپنے سامنے کھسکاتے ہوئے وہ انتہائی آہستگی سے فاطمہ بیگم سے مخاطب ہوا تو وہ حیران ہو کر اسے دیکھنے لگیں۔ وہ اندازہ کر سکتی تھیں۔ اس انا پرست انسان نے یہ الفاظ کس قدر مشکل سے ادا کیے تھے۔ اس کے چہرے کی تنی رگیں اس کے دل و دماغ میں چلتی کشمکش عیاں کر رہی تھیں۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے اس کا دایاں بازو محبت سے تھاما اور اسے اپنے ساتھ لگالیا۔
’’شامل ہونا یا نہ ہونا تو تم پر ہے مزدک!…ہم تو کل بھی تم سے پیار کرتے تھے اور آج بھی…اور پیار میں اتنی گنجائش تو ہوتی ہی ہے۔ بیٹاہم سب تو تمہارے…‘‘ مزدک کا دل ایک ہی لمحے میں


شدید ناگواری اور غصے سے بھر گیا۔ اماں انتہائی محبت سے اس کے گزرے وقت کے زخموں پر پھائے رکھ رہی تھیں۔ وہ بھولتا جا رہاتھا کہ پچھلے چند برس اس نے کس قدر تنہائی اور تکلیف میں گزارے تھے کہ بڑا سا ہاٹ پاٹ اٹھائے وہ چلی آئی اور اس کے آتے ہی اماں انتہائی غیر محسوس انداز میں مزدک سے فاصلے پر ہوگئی تھیں اور اس بار مزدک کا دل شہر بانو کی موجودگی سے نہیں دکھا تھا بلکہ اس کے آتے ہی اماں کے رویے میں پیدا ہونے والی بیگانگی نے اسے تکلیف دی تھی۔ اس نے بلا ارادہ اس عام سی صورت والی لڑکی کو دیکھا جس کے لیے اس کی ماں کی سبھی محبتیں وقف تھیں۔ ایک ہی پل میں جیسے اسے سارے جہان کی خوشی مل گئی۔ شہر بانو کے سانولے چہرے پر اسے فاطمہ بیگم کے اس قدر قریب دیکھ کر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ وہ بے یقینی سے ان دونوں کو دیکھ کر نظر پھیر گئی تھی لیکن مزدک سے اس کی بے چینی چھپی نہ رہی۔
’’واہ…محترمہ… اب بھلا کیسے برداشت ہوگا تم سے…کہ میں اپنا حق واپس لے لوں…لیکن یہ تو ہونا ہی ہے…اور اب میں جو کروں گا…وہ تو شاید تم برداشت بھی نہ کر پاؤ…‘‘ ایک ہی لمحے میں شہربانو کی ذات کی بہت بڑی کمزوری اس پرظاہر ہوئی تھی۔ کپکپاتے ہاتھوں کے ساتھ ہاٹ پاٹ رکھ کر وہ کرسی پرگر سی گئی۔مزدک نے ایک لمحے میں ہی ساری بازی اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کر لیا۔ اس نے ایک نظر ڈائننگ ٹیبل پر موجود سب لوگوں کو دیکھا اور گلہ کھنکارتے ہوئے گویا ہوا۔
’’میں اب اپنی سبھی غلطیاں سدھارنا چاہتا ہوں۔ اماں!جو بھی ہوا…شاید ویسا نہیں ہونا چاہیے تھا…اسی لیے…میں نے سوچا ہے…کہ…اگر آپ کو ٹھیک لگے تو…میں بانو کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتا ہوں…‘‘ اس نے بڑی مشکل سے اپنا فقرہ مکمل کیا۔ اتنی بڑی بات وہ کیسے کہہ گیا تھا یہ یقین اسے نہیں آرہا تھا تو پھر باقی سب بے یقین کیوں نہ ہوتے۔ اماں، سنی، علی اور رانیہ سب انتہائی حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے اور شہر بانو پر کیا بیتی تھی یہ جاننے کا اسے کوئی شوق نہ تھا۔ وہ جو چاہتا تھا وہ ہو چکا تھا۔ اس کے سب اپنے پوری توجہ کے ساتھ اسے دیکھ رہے تھے اور پہلے کی طرح اس کے انکشافات پر حیران بھی تھے۔
’’میں بھی اب جینا چاہتا ہوں اماں…!اور میں جان چکا ہوں کہ آپ کا ہر فیصلہ میرے لیے درست ہی ہوگا…‘‘ اس سے پہلے کہ کوئی کچھ کہنے کی پوزیشن میں آتا وہ تیزی سے اٹھا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے جاتے ہی جیسے سب کے وجود میں جان آگئی۔ سب کی نظریں ساکت بیٹھی شہر بانو پر ایک ساتھ جم گئی تھیں۔ جس کا وجود اس وقت قیامت کی زد میں تھا۔ یہ تو اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ’’وہ‘‘ یوں بھی کر سکتا تھا۔
’’جب دل چاہا بھری محفل میں ٹھکرا گئے اور جب جی میں آئی اپنانے چلے آئے…یوں تو کوئی کھلونوں کے ساتھ بھی نہیں کرتا…مجھے زہر دے دیجیے گا خالہ!…کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے…‘‘ بنا ایک بھی آنسو بہائے وہ انتہائی مضبوط لہجے میں بولی۔ اسے صرف مزدک کرمانی پر ہی نہیں ان سب پر بھی غصہ آرہا تھا جنہوں نے یہ خرافات سن کر بھی کچھ نہیں کہا تھا۔
’’شہربانو!…تم…‘‘
’’خالہ!…میرے لیے صرف موت کا فیصلہ کیجیے گا…مجھے اور کوئی فیصلہ منظور نہیں ہوگا…‘‘ اتنا کہہ کر وہ خود پر ضبط کھوبیٹھی تھی۔ ڈائننگ ٹیبل پر سر رکھ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ فاطمہ بیگم کا دل جیسے کسی نے مسل ڈالا۔ اس نہج پر تو انہوں نے ابھی تک سوچا بھی نہیں تھا۔ مزدک نے ایک بار پھر انہیں کشمکش میں ڈال دیا۔
’’ارے…ہو کیا رہا ہے یہ سب… کوئی تو مجھے بھی بتائے…اماں چپ چاپ ہیں…شہربانو کے چہرے پر مسکراہٹ بھول کر بھی نہیں آرہی…برادری اکٹھی کرکے تم سب سناٹوں میں ڈوبے ہوئے ہو…مذاق بنوانا ہے کیا… سب ہنسیں گے ہم پر… رانو!…کیا تماشہ ہے یہ سب…؟‘‘ثنا کے ہاتھ جب کوئی اور نہ لگا تو اس نے کمرے میں چھپی بیٹھی رانیہ کو آن گھیرا۔ اس سے گھر پر چھایا سکوت برداشت نہیں ہو رہا تھا۔
’’ہم کیا تماشہ کریں گے…تماشہ تو اس بار بھی وہی کریں گے جنہوں نے پہلے کیا تھا…‘‘ رانیہ بھی اس سے زیادہ خاموش نہیں رہ سکتی۔ایک ہی سانس میں اس نے ثنا کو صبح کا سارا واقعہ سنا ڈالا۔ اس کی بات سن یر ثنا کے ماتھے پر بل پڑگئے۔ شادی سر پر تھی اور ایک نیا مسئلہ شروع ہو گیا تھا۔
’کتنی دیر تک بھابھی روتی رہیں…اتنی بڑی بات کہہ کر وہ تو سکون سے اٹھ گئے…اور ہم سب…‘‘
’’چلو…تم خوش ہو جاؤ ناں…لالہ کو بلاؤ…لالہ کو بلاؤ…تم ہی نے شور مچا رکھا تھا…اب وہ آئے ہیں تو کچھ تماشہ تو ہوگا ہی ناں…‘‘
’’ثناآپی…میں تو…‘‘
’’چپ رہ رانو!…سوچنے دو مجھے…ایسا بھلا کیسے چلے گا…سارا خاندان جمع ہو رہا ہے…ہر کسی کو یہی ٹوہ ہے مزدک لالہ اتنے عرصے بعد لوٹے ہیں تو اب کیا ہوگا۔ ان کے اور شہربانو کے


درمیان…ہر کوئی کہانیاں بنائے گا…کیسے سنبھالا جاسکتا ہے اس سچویشن کو… اب پھر سے ہم رشتے داروں کے درمیان قصہ بنیں یہ مجھ سے تو برداشت نہیں ہوتا…‘‘ ثنا کے فکر میں ڈوبے الفاظ اندر داخل ہوتی شہربانو نے بڑے دکھ سے سنے تھے۔ وہ جانتی تھی اس وقت سب کس قدر پریشان تھے لیکن یہ ایسا معاملہ تھا جس میں وہ چاہ کر بھی سب کی مشکل آسان نہیں کر پا رہی تھی۔
’’ثنا آپی!…آپ بھابھی سے بات کریں ناں…‘‘ رانیہ اس کی آمد سے بے خبر تھی تبھی اس نے ثنا کو مشورہ دیا۔
’’رانو!…اصل میں یہ سارا جھگڑا شروع ہی تیری وجہ سے ہوا ہے…اس لیے تو، تو چپ ہی رہ…‘‘
’’آپی!…میں نے کیا، کیا ہے؟وہ دونوں ایک مضبوط رشتے میں جڑے ہیں…اور جب تک یہ رشتہ ہے ایسے سوال تو اٹھیں گے ہی ناں…‘‘
’’رانیہ ٹھیک کہہ رہی ہے ثنا…‘‘ رانیہ کی بات کے جواب میں ثنا اسے کچھ سنانا ہی چاہتی تھی کہ شہر بانو کی آواز پر وہ دونوں حیران سی مڑیں۔
’’جب تک رشتہ ہے…سوال تو اٹھیں گے ہی…تم نے جو بھی کہا…وہ بھی غلط نہیں ہے…میں نہیں چاہتی خاندان میں ہمارے حوالے سے کوئی تماشہ بنے…اور ایسا نہ ہو…اس کے لیے میں کچھ بھی برداشت کروں گی…یہ میرا وعدہ ہے…‘‘ شہر بانو نے اندر آتے ہوئے مضبوط لہجے میں کہا لیکن بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں جمع ہونے والا پانی اس کے دل میں مچی تباہی کا پتہ دے رہا تھا۔
’’ہم میں سے کوئی بھی تمہیں امتحان میں نہیں ڈالنا چاہتا…لیکن یہ جو رشتے کی پھوپیاں…خالائیں ہوتی ہیں ناں…یہ ہر بات کی کہانی بنا ڈالتی ہیں…تم کتنا ہنستی ہو… کیا باتیں کر رہی ہو…ہر بات کو تولیں گی وہ…میری شادی پر تم نے ہی سب سنبھالا تھا…اور تمہارا رویہ اتنا مضبوط تھا کہ کسی کو حوصلہ نہیں ہوا، سوال اٹھانے کا…لیکن اب اگر تم ہی حوصلہ ہار جاؤ گی تو کیا کیا قصے نہ بنیں گے…میں تو بس اتنا جانتی ہوں شہربانو!…ہمیشہ کی طرح اس بار بھی تم کو ہی اپنے رویے سے سب کی زبانیں بند کرنی ہیں…اور رہ گئے مزدک لالہ!…تو ان کا فیصلہ اماں کریں گی…وہ ان پر چھوڑ کر تم اپنی ذمہ داریاں سنبھالو…انشاء اﷲ…پھر سب ٹھیک ہوگا…‘‘ ثنا کے الفاظ میں اس کے لیے خلوص اور پیار تھا اور ان ہی احساسات کے خیال میں تو وہ کچھ بھی سہہ سکتی تھی۔
’’واہ بھئی واہ… دیکھا رانو!…یہ ثنا کتنی سیانی لگ رہی ہے۔مجھے تو لگتا ہے اس میں بھی کسی پرانی پھوپی یا خالہ کی روح حلول کر گئی ہے… اور یہ کیا ثنا!…تمہیں جرأت کیسے ہوئے رانو کو اتنا ڈانٹنے کی…کچھ ہی دن کی مہمان ہے وہ…اور تم اسے ڈرا رہی ہو۔‘‘شہربانو نے بروقت خود پر قابو پاتے ہوئے اپنے مخصوص لہجے میں بولنا شروع کر دیا تو رانیہ اور ثثنا کے چہرے پر مسکراہٹ بکھرگئی اور انہیں مسکراتا دیکھ کر شہربانو کا دل شانت ہونے لگا۔وہ اس گھر اور اس گھر کے لوگوں کی خوشی کے لیے ہی تو جیتی تھی پہر بھلا وہ کیسے برداشت کرتی کہ اس کی وجہ سے اس کے پیاروں کی آنکھوں میں آنسو ہوں۔
’’اور کیا بھابھی!…اتنا ڈانٹا ہے انہوں نے مجھے…انہیں کچھ تو خیال کرنا ہی چاہیے تھا آخر میری شادی ہونے والی ہے…‘‘ رانیہ نے اس کے ساتھ لگتے ہوئے لاڈ سے کہا۔
’’توبہ…توبہ… ایسی بے شرم لڑکی میں نے تو زندگی بھر نہیں دیکھی…اپنی ہی شادی کی بات کتنے دھڑلے سے کر رہی ہے…کچھ تو شرم کو رانو!…اب یوں اترا اترا کر تو میرا دل نہ جلا…‘‘ سنی نہ جانے کب سے ان لوگوں کی باتیں سن رہا تھا لیکن رانیہ کی بات سن کر وہ خود پر قابو نہ رکھ سکا اور فوراً رانیہ کو شرمندہ کرنے چلا آیا۔
’’ہاں…تو کیوں نہ اتراؤں…آخر اتنا اچھا سسرال مل رہا ہے مجھے…‘‘ رانیہ کی دشمنی علی سے بھی کافی پرانی تھی تو وہ کیوں اسے تنگ کرنے میں پیچھے رہتا اور اس بار رانیہ سچ مچ تڑپ گئی یہ تو اس کی اور بڑی اماں کی راز کی بات تھی۔ علی کو کیسے پتہ چل گئی۔
’’فکر نہ کرو…کرلے یہ ان ساس…سسر سے لاڈ…منیر ہے ناں… وہ اس کے لاڈ نکالے گا…سنجیدہ نہ بناڈالا اسے تو پھر کہنا…ساری فرمائشیں کرنا بھول جائے گی…سنی نے اسے ڈرانا چاہا۔
’’دفع ہو جاؤ سنی اور علی یہاں سے…بد دعائیں دے رہے ہو اسے…اور تمہارے اس اینگری ینگ مین کے بھی سارے پول کھل گئے ہیں، بڑی اماں…رانو کی چوائس…رانو کی مرضی کے علاوہ وہ بھی آج کل کچھ نہیں بول رہا…رانو کبھی نہیں بدلے گی وہ ہمیشہ ایسی ہی رہے گی…گول روٹی نہ پکانے والی…موٹی موٹی کتابیں پڑھنے والی اور اپنی ضدیں منوانے والی…‘‘
’’واہ بھابھی!…آپ اچھی سپورٹر ہیں میری…آپ تو طعنے دے رہی ہیں…‘‘رانیہ کو دیر سے ہی سمجھ آہی گئی تو وہ احتجاجاً چلائی اور اس کے چیخنے پر سب ہنسنے لگے۔
’’میں ہنستی ہوں تو یہ سب ہنستے ہیں…لیکن میرا نصیب…میرے مولا!…مجھے حوصلہ دے کہ میرے آنسو ان سب کی ہنسی سے دور رہیں… اور میں ان کو خوشیاں دے سکوں۔‘‘ رانو کو اپنے بازو کے گھیرے میں لیتے ہوئے شہربانو نے چپکے سے دعا مانگی۔
’’مجھے سب کچھ ایک دم پرفیکٹ چاہیے علی… پچھلی بار کی طرح عین ٹائم پر ہنگامہ مت مچا دینا… ٹینٹ والا نہیں ملا۔لائٹ والا دیر سے آئے گا…ابھی اور اسی وقت سب فائنل کرو…مجھے کوئی ڈرامہ کرکے مت دکھانا…‘‘ شہربانو کی آواز پر اس کی توجہ اخبار پر سے ہٹ گئی تھی۔

of 8 
Go