Urdu Novels

Back | Home |  
ساحلوں کے گیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔رخ چوہدری

’’بے بی ! چندا اٹھ جائو ناں‘ کتنا سوئو گی۔ دیکھو تو سات بج رہے ہیں۔ اٹھ جائو جان‘ بے بی ! بھئی اٹھ جائو شاباش ! اتنا سونا ٹھیک نہیں۔‘‘
وہ گزشتہ پندرہ منٹ سے اسے جگا رہی تھیں۔ وہ تو ٹس سے مس نہیں ہو رہی تھی۔ فاطمہ نے کمرے میں بکھری اس کی چیزیں سمیٹیں۔ پردے سرکائے تاکہ سورج کی شفاف کرنیں اسے جگانے میں کامیاب ہو جائیں۔
’’بہت گندا بچہ ہے یہ ہمارا۔ دیکھو تو دودھ کا گلاس جوں کا توں پڑا ہے۔ بے بی… سجیلہ… جان اٹھ جائو… اٹھ جائو سات بج رہے ہیں۔‘‘
فاطمہ چیزیں سمیٹ کر پھر اس کی طرف آ گئیں۔ پیار سے اس کے چہرے پر آئے بال درست کرتے ہوئے کہا۔
’’کیا ہے بجو !‘‘ قسم سے آپ تو سونے بھی نہیں دیتیں۔ کہاں سات بج رہے ہیں‘ پورے تین منٹ باقی ہیں‘ سونے دیں۔‘‘
سجیلہ نے وال کلاک پر نظر ڈالی اور پھر چادر تان کر لیٹ گئی۔
’’سجیلہ جان ! جب رات کے بے شمار منٹ تمہاری نیند پوری نہیں کر سکے تو یہ تین منٹ کہاں نیند کی پیاس کو بجھا سکیں گے۔‘‘ فاطمہ نے پھر چادر سر کا دی۔
’’بجو پلیز!‘‘ سجیلہ نے منت بھرے لہجے میں کہا۔ یوں نیند میں بے حال منت کرتی چھوٹی بہن پر فاطمہ کو پیار آ گیا۔
’’سجو ! تمہیں معلوم ہے کہ پپا جی کو دیر تک سونا پسند نہیں۔‘‘
یہ کہتے ہوئے فاطمہ کی نظروں میں پپا جی کا چہرہ گھوم گیا۔ انہوں نے کتنا غضبناک ہو کر کہا تھا۔ ’’جائو بے بی کو بلا کر لائو۔‘‘ وہ ایک منٹ بھی ادھر ادھر نہیں ہونے دیتے تھے۔
’’بجو ! پپا جی کو تو ہمارا سانس لینا بھی پسند نہیں مگر یہاں آکر وہ خدا سے مات کھا جاتے ہیں کہ زندگی دینا اور لینا سب اس کے اختیار میں ہے۔‘‘
صبح ہی صبح اس نے تلخیوں کا زہر اندر انڈیلتے ہوئے دراز بالوں کا جوڑا بنایا اور اٹھ بیٹھی۔
فاطمہ نے چونک کر اسے دیکھا۔ وہ ایسی ہی تھی۔ ذرا سی بات پر تلخ ہو جاتی تھی۔ بغاوت پر اتر آتی۔ کبھی کبھی تو فاطمہ لرز جاتیں وہ اٹھ کر اس کے قریب آ گئیں۔
’’ہیں… ہیں سجیلہ… یہ کیا بات ہوئی جانو‘ جیسے ہمارے پپا جی ہیں‘ مما جان ہیں۔ کسی کے ایسے نہ ہوں گے‘ ایسے نہیں کہتے۔‘‘
’’ہاں واقعی بجو ! یہاں میں آپ سے متفق ہوں کہ جیسے ہمارے والدین ہیں ناں ایسے کسی اور کے نہ ہوں گے۔‘‘ سجیلہ نے ایک اور کڑوا گھونٹ حلق میں اتارا تو تلخی فاطمہ کو محسوس ہونے لگی۔ یہ سجیلہ ایسی کیوں ہے۔ وہ اسے دیکھنے لگیں۔
’’بری بات چندا ! ایسے نہیں کہتے ہیں‘ اب جلدی سے تیار ہو جائو‘ یونیورسٹی کا پوائنٹ بھی تو آنے والا ہے۔‘‘
’’اوہ ہاں ! آج تو لیب بھی ہے۔‘‘
سجیلہ پھرتی سے اٹھی اور باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔
’’باجی ! آپ بھی کمال کرتی ہیں۔ پپا جی ناشتے پر انتظار کر رہے اور آپ بھی آکر بیٹھ گئیں۔ وہاں پپا جی خفا ہو رہے ہیں۔‘‘
آمنہ حسب عادت تیز لہجے میں بولتے ہوئے آگئی تو فاطمہ اس کی طرف بڑھیں۔
’’ہاں‘ ہاں ! ہم آرہے ہیں۔ وہ بے بی رات دیر تک پڑھتی رہی ہے ناں تو آنکھ دیر سے کھلی‘ اب وہ باتھ روم میں ہے‘ ہم ابھی آتے ہیں‘ تم جائو پپا جی کو بتا دو۔‘‘
’’کیا ضرورت تھی رات دیر تک پڑھنے کی‘ پتا بھی ہے‘ پپا جی وقت کے معاملے میں کتنے سخت ہیں۔ یہ دلیلیں‘ تاویلیں وہ پسند نہیں کرتے۔ بے بی جلدی کرو بھئی کتنی دیر لگائو گی؟‘‘
آمنہ نے زور سے آواز دی تو فاطمہ جلدی سے بولی۔
’’آمنہ ! ہم آتے ہیں‘ اس میں اتنا خفا ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ بے بی ابھی بچی ہے‘ اس پر یوں ناراض ہونا مناسب نہیں‘ تم چلو ہم آتے ہیں۔‘‘
فاطمہ طبعاً بے حد حلیم اور حد درجہ حساس تھیں اور ویسے بھی سجیلہ گھر میں سب سے چھوٹی تھی اور فاطمہ کو اس سے زیادہ ہی پیار تھا اور آمنہ جس قدر اکھڑ مزاج تھی‘ اسی قدر لہجہ اور انداز گفتگو اکھڑ تھا۔
’’بجو ! تمہیں خیال رکھنا چاہئے‘ وہ ابھی بچی ہے تم ابھی سے اسے سمجھائو کہ ہمیں اس گھر میں کس طرح زندگی بسر کرنی ہے۔ ہمیں پپا جی کے اصول و قوانین کی کس طرح پابندی کرنا ہے۔‘‘

’’یہ کیا صبح ہی صبح اصول و قوانین کی گردان شروع کر دی ہے‘ آرہی ہوں۔‘‘
سجیلہ نے تولیے سے منہ صاف کرتے ہوئے تیز نظروں سے آمنہ کو دیکھا۔ سجیلہ اور آمنہ کی ویسے بھی کم ہی بنتی تھی۔
’’بے بی ! اب تم اتنی بھی بچی نہیں ہو کہ سمجھ نہ سکو‘ اچھی طرح جانتی ہو کہ…‘‘
’’اچھا پلیز ! صبح سویرے ہی لیکچر دینا نہ شروع کر دینا‘ سارا موڈ غارت ہو جاتا ہے۔ ہماری زندگی میں سوائے اصول و قوانین کے ہے ہی کیا۔ صبح کا ناشتہ ہو یا رات کا کھانا بس اصول‘ پابندیاں اور سختیاں۔‘‘
بالوں میں برش کرتے ہوئے سجیلہ نے ترش لہجے میں کہا تو فاطمہ پریشان ہو گئیں کیونکہ انہیں خوف تھا کہ آمنہ اور سجیلہ میںتکرار نہ شروع ہو جائے۔
’’اچھا… اچھا بے بی ! اب صبح سویرے کوئی موڈ تو آف نہیں کرنا ناں‘ اللہ بہتر کرے گا۔ چلو اب چلتے ہیں نیچے۔‘‘
فاطمہ نے ایک نظر برہم سی کھڑی آمنہ پر ڈالی اور پھر سجیلہ کے قریب آ کر بولیں۔
’’ہونہہ!‘‘ آمنہ نے مزید کچھ کہنا شاید ضروری نہ جانا اور دھم دھم کرتی سیڑھیاں اتر گئی۔
آج اسے اٹھنے میں و اقعی دیر ہو گئی تھی اور پھر تیاری میں وقت لگ گیا۔ اتنا کہ یونیورسٹی کے پوائنٹ کا وقت ہو گیا تھا۔ ناشتہ کرنے کا وقت ہی نہیں بچا۔
’’سوری پپا ! آئی ایم لیٹ۔‘‘
سجیلہ نے کرسی کھسکاتے ہوئے پپا کو دیکھا‘ جو اسے خشمگیں نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
’’وائے؟‘‘ انہوں نے بھاری لہجے میں وضاحت طلب کی۔
’’وہ اس کے امتحان ہو رہے ہیں ناں تو یہ رات کو دیرتک پڑھتی رہی۔ پپاجی‘ اس لئے دیر سے سوئی اور دیر سے آنکھ کھلی۔‘‘
سجیلہ کے بجائے فاطمہ نے جواب دیا تو فاروق احمد نے اتنی تیز نظروں سے اسے دیکھاکہ فاطمہ کے ہاتھوں میں چائے کا کپ لرز گیا۔
’’فاطمہ ! آئندہ ایسا نہ ہو‘ جس سے پوچھا جائے‘ وہی جواب دے‘ انڈر اسٹینڈ!‘‘
’’سوری پپا جی ! آئندہ ایسا نہیں ہو گا۔‘‘
فاطمہ نے چھلک جانے والی چائے کو ٹشو پیپر سے صاف کرتے ہوئے عہد کیا کہ آئندہ یہ گستاخی نہ ہو گی۔
’’بے بی ! تمہارے پپا نے تم سے کچھ پوچھا تھا!‘‘ صوفیہ بیگم نے سجیلہ کی طرف دیکھا‘ جو اتنی معمولی بات کو اتنی اہمیت دیئے جانے پر کڑھ رہی تھی۔
’’جی‘ بجو نے درست کہا ہے کہ امتحان کی وجہ سے دیر تک پڑھتی رہی اس لئے۔‘‘
اس نے لہجے کو بمشکل نارمل کرتے ہوئے آہستگی سے کہا۔
’’کیا ضرورت تھی اتنی دیر پڑھنے کی؟‘‘
’’سجیلہ بی بی ! آپ کی بس آ گئی ہے‘ میں نے ڈرائیور کو روکا ہے‘ جلدی سے آ جائیں۔‘‘
اس سے قبل کہ وہ راحیل بھائی کے سوال کا جواب اور ہی انداز میں دیتی‘ رشید نے پوائنٹ کی آمد کی اطلاع دی تو اس نے بیگ شانے سے لٹکایا اور فائل ہاتھوں میں پکڑ کر تیزی سے طویل لان کو عبور کرتے ہوئے پوائنٹ کے پچھلی طرف سے پچھلی سیٹ پر بیٹھی اور پھر… ایک طویل گہرا سانس فضا میں خارج کیا اور کچھ دیر کیلئے آنکھیں بند کر کے آزاد فضا کا احساس دل میں اتارنے لگی۔
دنیا کتنی خوبصورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کتنی حسین کائنات کو تخلیق کیا ہے۔ کتنا حسن ہے۔ یہاں روز ہی جب وہ گھر سے یونیورسٹی جانے کیلئے نکلتی تو اسے کائنات کے حسن اور خالقِ کائنات‘ خدائے واحد پر بے اختیار پیار آ جاتا۔
اس نے ایک گہرا سانس لیا۔ زور سے جھٹکا لگا‘ اس کی کمر میں ٹوٹے پھوٹے پوائنٹ کی سیٹ کی پشت زور سے لگی مگر اسے تکلیف کے بجائے ایک سکون محسوس ہوا۔
خستہ حال اور ٹوٹے پھوٹے یونیورسٹی کے اس پوائنٹ میں بیٹھ کر وہ خود کو دنیا کی خوش نصیب ترین لڑکی سمجھتی‘ جو راحت اسے اس بس میں بیٹھ کر ملتی‘ وہ تو اپنی انتہائی قیمتی ایئر کنڈیشنڈ گاڑی میں بھی نہیں ملتی تھی۔ حالانکہ پپا نے بارہا اسے اپنی گاڑی پر یونیورسٹی جانے کی ہدایت کی تھی‘ مگر وہ پوائنٹ کی لذتوں سے محرومی کہاں برداشت کر سکتی تھی۔ اس نے ایک نظر سرخ بدحال پوائنٹ پر ڈالی۔ سیٹیں اکھڑی ہوئیں‘ پکڑنے والا ڈنڈا ندارد‘ انجن کھڑکھڑ کرتا ہوا‘ بس یہ تو قدرت کے سہارے چلتے ہیں۔ اس نے مسکرا کر سوچا۔

پھر اس کی نظر کچھ کھڑے‘ کچھ بیٹھے اپنے طالب علم ساتھیوں پر پڑی۔ کتنے خوش و خرم اور مطمئن سے تھے۔ تمام چہرے کھلے‘ کھلے اور بے فکرے… نہ جانے ان کے گھروں کے ماحول بھی میری طرح ہوتے ہیں‘ ان کی زندگیاں بھی… پابند سلاسل ہوتی ہیں‘ یہ بھی اصول و قوانین کی زنجیروں میں جکڑے ہوتے ہیں یا پھر یہ اور طرح کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ نہ جانے کسی کے گھر کا کیسا ماحول ہوتا ہے‘ جیسا بھی ہوتا ہو کم از کم میرے گھرانے سے تو بہتر ہو گا۔ وہ مختلف چہروں کو دیکھتے ہوئے پس منظر میں اپنے گھر کے ماحول کو دیکھ رہی تھی۔
’’السلام علیکم !‘‘
نہ جانے کب سٹاپ آیا‘ کب پوائنٹ رکا اور کب حنا اس کی بہترین دوست اس کے برابر آکر دھم سے بیٹھ گئی۔
’’السلام علیکم بھئی ! مجھے تو پتا بھی نہیں چلا کہ کہاں کھڑی تھیں‘ میں نے تو تمہیں نہیں دیکھا۔‘‘
وہ حنا کو روز ہی دیکھ کر اسی طرح خوش ہوا کرتی۔ گویا عرصے بعد مل رہی ہو۔
’’میں وہیں کھڑی تھی۔ آپ کو دیکھ کر ہاتھ بھی ہلایا تھا مگر جناب جانے کہاںگم تھیں۔‘‘ حنا مسکرائی تو سجیلہ کھلکھلا کر ہنس دی۔
یہ اس کی مخصوص ہنسی تھی وہ کھل کر ہنستی تھی۔ باہر نکل کر بات بے بات زور دار قہقہہ لگا کر ہنستی اور اتنی باتیں کرتی کہ پورے ڈیپارٹمنٹ میں باتونی مشہور تھی۔
’’السلام علیکم رمضان صاحب!‘‘
سب سے پہلے اپنے ڈیپارٹمنٹ کے چپڑاسی کو سلام کرنا‘ حال احوال پوچھنا‘ تمام ملازمین کی خیریت معلوم کرنا اس کے اخلاق اور روز کے معمولات میں شامل تھا۔ ہر ایک سے اتنے خلوص سے پیش آتی کہ اگلا اپنے آپ کو معتبر سمجھتے لگتا۔
’’ٹھیک ہوں بیٹی مگر…!‘‘
’’ہائے مگر کیا رمضان صاحب؟‘‘ اس کے بڑھتے قدم رک گئے۔
’’کچھ نہیں‘ کئی روز سے بچہ بیمار ہے۔‘‘
’’اوہو تو آپ نے اسے ڈاکٹر کو دکھایا کہ نہیں… اور ابھی تو آپ کو تنخواہ بھی نہیں ملی ہو گی‘ آپ یہ رکھ لیجئے۔‘‘
اس نے جھٹ سو روپے نکال کر رمضان بابا کے ہاتھ پر رکھ دیئے تو وہ نادم سے ہو گئے۔
’’بیٹی ! میں نے اس لئے تو نہیں بتایا تھا کہ…‘‘
’’آپ رکھئے‘ سر آرہے ہیں‘ میں بعد میں آپ سے بات کروں گی۔‘‘
سجیلہ اور حنا سر محسن کو آتے ہوئے دیکھ کر جلدی سے آگے بڑھ گئیں تو رمضان بابا اسے دعائیں دیتے رہے‘ مگر وہ اس وقت سن نہیں رہی تھی‘ لیکن جب وہ اس کے سامنے اسے ہمیشہ خوش رہنے کی دعائیں دیتے… تو وہ اتنے زور سے ہنستی کہ بابا حیران رہ جاتے۔ نہ جانے کیوں ان کو اس کی ہنسی بہت مایوس اور کھوکھلی سنائی دیتی۔
’’ہیلو آصف کیسے ہو؟‘‘
وہ دونوں سر کو سلام کرنے کے بعد آگے بڑھیں تو کلاس فیلو آصف سے ملاقات ہو گئی۔
’’ہیلو یار ! کہاں تھیں تم دونوں؟ تم دونوں تو ایسے غائب ہو جاتی ہو‘ جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔‘‘
’’ہوں تو گویا ہم دونوں تمہارے سینگ ہیں جن کے غائب ہو جانے سے لوگوں کو تم سینگوں کے بغیر لگنے لگتے ہو‘ وہی جس کا تم نے ابھی نام لیا تھا۔‘‘
سجیلہ کی شوخ بات پر آصف سر کھجا کر رہ گیا اور حنا ہنسنے لگی۔
’’یار ! تم تو کبھی بھی سنجیدہ نہیں ہوتیں۔‘‘ آصف زچ ہو گیا۔
’’ارے بھئی آصف ! کون سی ایسی آفت ٹوٹی ہے‘ جس نے تمہیں اس حد تک سنجیدہ کر دیا ہے؟‘‘ حنا نے شانے سے بیگ اتار کر برآمدے کے فرش پر رکھا اور سجیلہ کے ساتھ ہی فری سٹائل میں بیٹھتے ہوئے بولی۔
’’وہ اپنے سر سجاد ہیں ناں!‘‘
’’نہیں۔‘‘ دونوں نے شوخی سے اسے مزید تنگ کیا۔
of 172 
Go