Urdu Novels

Back | Home |  
سلگتے گلاب۔۔۔۔۔عائشہ ناز علی

’’دادی! زندگی کیا ہے؟‘‘ اس نے گاجر کا موٹا سا ٹکڑا اٹھا کر دانتوں سے کترتے ہوئے پوچھا۔
جواباً پہلے تو دادی نے موٹے عدسوں کی عینک کے پیچھے سے ایک زبردست گھوری اس پر ڈالی پھر ایک لمبی سانس اندر سے باہر خارج کی۔
’’بیٹا جی! جب تو اس دنیا میں وارد نہ ہوا تھا تب تک تو زندگی برگد کے گھنیرے ٹھنڈے سائے کی سی تھی۔ مگر اب تو لگتا ہے کہ زندگی ببول کے کانٹے سے بھرا درخت بن گئی ہے۔‘‘ اور یہ کہہ کر ایک سرخ سرخ سی دھلی دھلائی گاجر اٹھا کر چھری سے کاٹنا شروع کر دی۔
’’توبہ ہے دادی! آپ کیسی دادی ہیں جو اپنے ہی سگے نواسے کو ببول کے کانٹوں سے تشبیہ دے رہی ہیں۔‘‘ اس نے لہجے میں درد سموتے ہوئے کہا۔
’’نواسہ نہیں پوتا۔ بیٹے کا بیٹا پوتا ہوتا ہے۔‘‘ احسن نے تولئے سے منہ پونچھتے ہوئے تصحیح کی۔
’’ہاں ہاں۔ جانتا ہوں میں۔ پوتا ہو یا کھوتا کیا فرق پڑتا ہے۔‘‘ وہ ہنسا۔
’’صحیح کہا۔ تم پر دونوں فٹ بیٹھتے ہیں۔‘‘ نشاء نے کچن سے ہانک لگائی۔
’’دیکھا دادی دیکھا۔ بڑوں کو کھوتا کہہ رہی ہے یہ نشاء کی بچی۔‘‘ فاروق نے فوراً شکایت لگائی۔
’’تو تو کب بڑوں کی سی حرکتیں کرتا ہے؟‘‘ دادی نے اس کی شکایت پر کان ہی نہ دھرا۔
’’ہائے دادی! دشمنوں کی طرفداری نہ کریں۔ یہ دشمن فادار نہیں۔‘‘ فاروق نے ایک موٹی سی سرخ گاجر کی طرف ہاتھ بڑھا دیا لیکن دادی کی نظر اسی گاجر پر تھی۔ انہوں نے زور سے اس کے ہاتھ پر ایک چپت رسید کی۔
’’تم یہاں سے چلتے پھرتے نظر آئو سمجھے۔ یہ گاجریں اچار ڈالنے کے لئے کاٹ رہی ہوں میں۔ تیرے کھانے کے لئے نہیں۔‘‘
’’دن بھر چلتا پھرتا ہی رہتا ہوں دادی! دو گھڑی آپ کے پاس آن بیٹھوں تو نظر میں کھٹکنے لگتا ہوں۔‘‘ اس نے اپنا ہاتھ سہلایا مگر نگاہ گاجر پر ہی جمی تھی۔
’’حرکتیں دیکھی ہیں اپنی؟ اونٹ جتنے لمبے ہو گئے ہو۔ مگر مجال ہے جو ذرا ڈھنگ سے پیش آئو۔‘‘
’’اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کَل سیدھی۔‘‘ احسن نے ہانک لگائی۔
’’کیوں دادی! صحیح ہے نا؟ اونٹ کی طرح فاروق کی بھی کوئی کل سیدھی نہیں ہے۔‘‘
’’اے اے۔ خبردار جو اس بے ڈھنگے جانور سے مجھے ملایا۔ ارے آج بھی اپنی بڑی ویلیو ہے یار!‘‘ فاروق نے فرضی کالر جھاڑے۔
’’ائے ہائے۔ بھاگو یہاں سے۔ لے کر سارا حساب کتاب بھلا دیا۔ خدا خبر نمک ملایا تھا یا نہیں؟‘‘ دادی ان کی تکرار میں نمک ڈالنا ہی بھول گئیں۔
’’کس کو بھگا رہی ہیں دادی؟‘‘ دانش نے کھلے ہوئے دروازے میں سے اندر جھانکا۔
’’اے لو۔ یہ صاحب بھی تشریف لے آئے۔ اب تو بن چکا اچار۔‘‘ دادی نے سر تھام لیا۔
’’ایسے نہیں بھاگیں گے یہ دادی، لاحول پڑھیں۔‘‘ نشاء نے کچن سے باہر آتے ہوئے شرارت سے کہا۔
’’اے لڑکی! تم کو کسی نے بڑوں کا ادب و لحاظ کرنا سکھایا نہیں؟‘‘ احسن نے اسے گھورا۔
’’دادی! آپ کی تربیت پر کھلے لفظوں تنقید ہو رہی ہے۔‘‘ نشاء نے فوراً احسن کی بات کے معنی بدل دیئے۔
’’ہاں بیٹا! زمانہ ہی ایسا ہے کیا کریں۔ اب تو بزرگوں پر ہی تنقید ہوتی ہے۔‘‘ دادی نے برا مانتے ہوئے ٹھنڈی آہ بھری۔
’’بی جمالو!‘‘ احسن نے دانت کچکچائے۔
’’ارے دادی! اس نشاء کی بچی کی تو عادت ہے۔ بات کی شکل ہی بدل ڈالتی ہے۔ فسادن نمبرون۔‘‘ فاروق نے اسے گھورا۔
’’دیکھیں دادی! کیسے کیسے القاب سے نواز رہے ہیں۔‘‘ نشاء نے پھر شکایت لگائی۔
’’تو تم کیوں دادی کو ہمارے خلاف بھڑکاتی ہو۔ شکایتی ٹٹو۔‘‘ احسن نے اس کی لمبی چوٹی کھینچی۔
’’او… آہ… ہاے مر گئی۔ بچائیں دادی!‘‘ اس کی چیخ نکل گئی۔
’’ارے فاطمہ…! فاطمہ… کہاں ہو بھئی۔‘‘ دادی اس ہنگامے سے گھبرا گئیں اور بہو کو آوازیں دینے لگیں۔
’’جی اماں جی!‘‘ فاطمہ اندرونی کمرے سے بھاگی بھاگی نکلیں۔
’’ارے فاطمہ! بھئی ان شیطانوں کو بھگائو یہاں سے۔ خود بھی کوئی کام دھندا نہیں کرتے اور ہمیں بھی نہیں کرنے دیتے۔‘‘ انہوں نے احسن، فاروق اور دانش کی طرف اشارہ کیا… ’’اور یہ

گاجریں ابھی رہنے دو۔ ان لڑکوں کے غل میں تو اچار کے بجائے کچھ اور ہی بن جائے گا۔‘‘
’’رہنے دیں دادی! ان سرخ سرخ گاجروں کے درمیان کیوٹ سی خرگوشنی لگ رہی ہیں۔‘‘ دانش نے ان کی تعریف کی اور وہ اس تعریف پر جل ہی تو گئیں۔
’’بس بہت ہو گیا بھئی۔ اب آنے دو اپنے اپنے باپ کو۔ تم لوگوں کی شکایت لگائوں گی میں۔‘‘ وہ ناراض ہو گئیں۔
’’ہاہ دادی! یہ عمر آپ کی اللہ اللہ کرنے کی ہے ناکہ شکایت لگانے کی۔‘‘ فاروق نے عورتوں کی طرح ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ بڑا زنانہ سٹائل تھا۔ صحن میں موجود خواتین اور حضرات نے بمشکل اپنی اپنی مسکراہٹ ضبط کی۔
’’بس بھئی لڑکو! بہت ہو چکا۔ نکلو یہاں سے۔ اپنی دادی کو اور پریشان نہ کرو۔‘‘ فاطمہ نے جلدی سے تینوں کو بھگایا۔
’’چلو بھائی! یہاں تو اپنی قدر ہی نہیں ہے۔ بی خدیجہ کے یہاں چلتے ہیں بڑی آئو بھگت کرتی ہیں وہ۔‘‘ فاورق نے احسن کو آنکھ ماری۔
’’ہاں یار! اصل قدر تو وہی کرتی ہیں۔‘‘ احسن نے بھی فاروق کی شرارت کو سمجھتے ہوئے بڑی سنجیدگی سے سر ہلایا۔
’’خبردار جو اس عورت کے گھر کی دہلیز پار کی۔ پتہ بھی ہے کہ کتنی پھاں پھاں کٹنی ہے۔ منہ میں شیرینی بھر کے مطلب نکال لیتی ہے۔‘‘ دادی نے بی خدیجہ کا نام سنتے ہی جھاڑ پلا دی۔ تینوں لڑکے ایک دوسرے کو دیکھ کر زیرلب مسکرانے لگے۔ فاطمہ بھی ان تینوں کی شرارت سمجھ گئی تھیں۔
’’تو کیا کریں۔ آپ جو گھر سے نکالنے پر تل گئی ہیں۔‘‘ دانش نے منہ بسورا۔
’’ارے وہ تو میں یونہی کہہ رہی تھی پگلے۔‘‘ دادی نے فوراً لہجہ بدلا۔ مبادہ  سچ مچ ہی وہ لوگ خدیجہ کے یہاں نہ چلے جائیں۔ خدیجہ ان کی پڑوسن تھیں۔ بیوہ تھیں۔ ایک ہی بیٹی تھی۔ جس کے لئے وہ آج کل اچھے رشتے تلاش کر رہی تھیں۔ بہت ہی تیز اور چلتا پُرزہ قسم کی خاتون تھیں۔ بیٹی بھی کم و بیش ایسی ہی خوبیوں کی مالک تھی۔ دادی خوب چڑتی تھیں دونوں سے۔ کیونکہ ان دونوں کی نظر اس گھر کے لڑکوں پر تھی۔
’’ارے دادی! ہم کون سا سچ مچ بی خدیجہ کے یہاں جانے والے ہیں۔ بس یونہی ذرا آپ کے دل میں چھپی محبت کو چیک کر رہے تھے۔‘‘ فاروق نے مسکرا کے کہا۔
’’آج تو ہمارا میچ ہے۔ ہم تینوں ابھی وہیں جا رہے ہیں۔‘‘ تو دادی کی تسلی ہوئی۔

٭…٭…٭

شجاع اللہ جمالی اپنے دور کے بہت نامور وکلاء میں سے ایک تھے۔ اپنی ساری زندگی انہوں نے اپنے بنائے ہوئے اصولوں کے مطابق گزاری تھی۔ ایمانداری اور حق حلال کی کمائی سے انہوں نے ساری زندگی میں اگر کوئی جائیداد بنائی تھی تو وہ یہی ’’شجاع منزل‘‘ تھی۔ صاف ستھرے سے پرسکون علاقے میں شجاع اللہ جمالی نے ایک جیسے ہی تین مکان تعمیر کروا رکھے تھے۔ جن کی بناوٹ اور طرز بالکل ایک جیسی تھی۔ شجاع اللہ جمالی نے کوئی لمبا چوڑا بنک بیلنس نہ بنایا تھا۔ مگر اپنی اولاد کو بہترین تعلیم اور تربیت ضرور دی تھی۔ رفعت اللہ جمالی ان کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے۔ فاطمہ ان کی شریک حیات تھیں۔ ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ روحی آپا سب سے بڑی تھیں۔ جن کی شادی بی ایس سی کے فوراً بعد ہی کر دی گئی تھی۔ عثمان بھیا ان سے چھوٹے تھے جو دادا سے متاثر ہو کر وکالت پڑھ رہے تھے۔ پھر فاروق تھا۔ جس نے اسی سال ایم ایس سی کا امتحان دیا تھا۔ ندا سب سے چھوٹی تھی اور ابھی ابھی اس نے تھرڈ ایئر میں داخلہ لیا تھا۔ رفاقت اللہ جمالی، رفعت اللہ جمالی سے چھوٹے تھے۔ ان کی رفیقِ سفر صابرہ خاتون تھیں۔ جو فاطمہ کی چھوٹی بہن بھی تھیں۔ ان کے دو لڑکے اور تین لڑکیاں تھیں۔ حسن اللہ جمالی سب سے بڑے تھے اور باپ کے ساتھ لیدر کا بزنس سنبھالتے تھے۔ ان کے بعد عافیہ تھی۔ پھر احسن تھا جوکہ فاروق کا ہم عمر اور کلاس میٹ تھا۔ اس کے بعد نشاء اور نشاط تھیں۔ تیسرے نمبر پر رفیق اللہ جمالی تھے۔ عاصمہ ان کی بیوی تھیں۔ ان دونوں کی لومیرج ہوئی تھی۔ شجاع اللہ جمالی روشن خیال انسان تھے۔ محبت کی شادی کو برا نہیں سمجھتے تھے۔ ان کی بس دو ہی شرائط تھیں کہ لڑکی خاندانی ہو اور تعلیم یافتہ ہو۔ اور عاصمہ ان دونوں شرائط ہی میں پوری اترتی تھیں۔ شجاع اللہ جمالی نے بھی کوئی اعتراض نہ کیا۔ ان کی ایک بیٹی تھی زویا اور ایک ہی بیٹا تھا۔ دانش‘ زویا سے ایک سال چھوٹا تھا۔ لیکن زویا پھر بھی زبردستی اس پر رعب جمانے کی کوشش کرتی۔ یہ اور بات کہ دانش کبھی اس کے رعب میں آیا ہی نہ تھا… وہ کمپیوٹر کر رہا تھا۔ جبکہ زویا کو پڑھنے لکھنے سے اتنا لگائو نہ تھا۔ وہ کالج، یونیورسٹی صرف انجوائے منٹ کے لئے جاتی تھی۔ اس کی زندگی صرف فیشن، ہنگامہ، کھانا پینا اور دوستیاں نبھانے کا نام تھی۔ وہ صورت کے لحاظ سے بے حد حسین تھی۔ اتنی کہ پورے خاندان اور اس کے اپنے حلقہ میں ایسی خوبصورت لڑکی کوئی نہ تھی۔ لیکن وہ باطنی حسن سے کنگال تھی۔
ان نفوس کے علاوہ شجاع منزل میں ایک پرانی نمک خوار حلیمہ کا بھی وجود تھا۔ حلیمہ اس گھر کی پرانی نمک خوار تھی۔ اس گھر کے پرانے ڈرائیور کی بیوہ۔ جو شوہر کی وفات کے بعد بھی یہاں سے نہ گئی تھی۔ اس کی کوئی اولاد بھی نہ تھی۔ بس وہ ’’شجاع منزل‘‘ کے مکینوں کو ہی اپنی اولاد سمجھتی تھی۔ حلیمہ کی عمر خاصی تھی۔ مگر وہ اپنے مالکوں کا کام کرنے سے کبھی نہ تھکتی تھی۔ اس گھر کے افراد بھی اسے ملازمہ کم اور گھر کی بڑی بزرگ کا درجہ زیادہ دیتے تھے۔
بیٹوں کی شادی کے بعد شجاع صاحب نے انہیں تینوں الگ الگ گھروں میں سیٹل کیا تھا۔ ان تینوں گھروں کا نقشہ ایسا بنا ہوا تھا کہ تینوں گھروں کے صحن ایک دوسرے کے گھروں کے آنگن میں کھلتے تھے۔ لہٰذا یہ لوگ زیادہ تر یہی دروازے آمدورفت کے لئے استعمال کرتے تھے۔ گوکہ تینوں بھائیوں میں بہت اتفاق تھا۔ مگر شجاع صاحب ایک جہاندیدہ انسان تھے۔ ان کی تجربہ

کار آنکھوں نے بڑے بڑے متفق اور محب رشتوں کو شادی کے بعد کچے دھاگوں کی طرح ٹوٹتے دیکھا تھا۔ ان کا تجزیہ ہی تھا اور حکمت عملی کہ جس نے اس خاندان کو آپس میں محبت کے ریشم میں الجھائے رکھا تھا۔
جنت بی بی کو بھی شوہر کی حکمت عملی اس وقت سمجھ میں آئی جب انہوں نے عاصمہ کو بہو کا درجہ دیتے ہوئے شجاع منزل کا اہم فرد بنایا تھا۔ عاصمہ کی طبیعت فاطمہ اور صابرہ کے برعکس تھی۔ وہ موڈی اور من موجی طبیعت کی مالک تھیں۔ ان کو یہ پسند نہ تھا کہ کوئی ان کی ذاتی زندگی اور میاں بیوی کے درمیان مداخلت کرے۔ انہوں نے شروع ہی سے اپنے اور سسرال کے مابین ایک خاص فاصلہ رکھا تھا۔ وہ تو رفیق اللہ جمالی ہی کا دل اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کی محبت سے لبریز تھا ورنہ عاصمہ تو اپنی سی بھرپور کوشش کر چکی تھیں کہ رفیق کو باقی گھر والوں سے الگ کر دیا جائے۔
فاطمہ اور صابرہ تو مع باقی اہل و عیال کھانا وغیرہ اکٹھے ہی کھاتی تھیں۔ شروع میں انہوں نے عاصمہ کو بھی بہت چاہ سے اپنے پاس بلانا چاہا۔ مگر پھر ان کی سردمہری دیکھ کر دونوں ہی نے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔ شجاع صاحب اور جنت بی بی دونوں اپنی بڑی بہو اور بیٹے کے ساتھ رہتے تھے اور یہ خواہش جنت بی بی کی تھی۔
اتوار کے روز چونکہ سب کی چھٹی ہوتی تھی لہٰذا سب لوگ مل کر فاطمہ کے گھر آ جاتے اور دوپہر اور رات کا کھانا وہیں کھاتے۔ البتہ عاصمہ اس میں بھی ڈنڈی مار جاتی تھیں۔ کبھی کسی اتوار کو وہ میکے کا پروگرام رکھ لیتیں تو کبھی کسی رشتہ دار کا۔ لیکن اس پروگرام میں رفیق صاحب ان کا ساتھ کم ہی دیتے۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے پاس یہی ایک دن ہے جب وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر اطمینان سے دو گھڑی باتیں کر سکتے ہیں۔ ورنہ پورا ہفتہ تو کاموں میں ہی نکل جاتا تھا جوکہ مختلف نوعیت کے ہوتے تھے۔
عاصمہ کے رویے کا اثر زویا پر بھی شدید تھا۔ کچھ وہ فطری طور پر بھی ماں جیسے ہی اطوار کی مالک تھی۔ البتہ دانش اپنے گھر کے سناٹے اور ماں کے رویے سے بھاگتا پھرتا اور چونکہ احسن اور فاروق سے اس کی خاصی دوستی تھی۔ لہٰذا وہ زیادہ تر انہی کے پاس پایا جاتا۔ زویا کی بھی اپنی ہی سرگرمیاں تھیں۔ وہ اپنے ددھیال سے زیادہ ننھیال سے اٹیچ تھی۔ اور اپنی ننھیال ہی کی زیادہ تر عادات اس کے مزاج کا حصہ بن گئی تھیں۔ اکلوتے پن، حسن و جمال اور دولت کی فراوانی کے ساتھ ساتھ ماں کے بے جا لاڈ پیار نے اسے بے حد ضدی، مغرور اور خود پسند بنا دیا تھا۔ باقی کزنز تو پھر بھی اس کے ناز نخرے برداشت کر لیتے تھے مگر فاروق کبھی اسے خاطر میں نہ لایا تھا۔ بچپن ہی سے وہ زویا کے رویے کے سبب اس سے چڑتا تھا۔ اسی لئے اسے زچ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ فاروق سے کتراتی تھی اور اس کا سامنا نہ کرنا پڑ جائے‘ اسی لئے وہ ان کے گھر بھی شاذ و نادر ہی جاتی تھی۔
وہ تینوں واپس گھر آئے تو دو بج رہے تھے۔ گھر میں غیرمعمولی چہل پہل اور کچن کی رونق بتا رہی تھی کہ کسی مہمان کی آمد ہونے والی تھی۔ فاطمہ بریانی کا مصالحہ تیار کر رہی تھی۔ ندا ان کا ہاتھ بٹا رہی تھی۔ دادی اپنے مخصوص تختِ شاہی پر بڑی شان سے براجمان مربے کے لئے سیب چھیل رہی تھیں۔ نشاط وہیں قریب بیٹھی چاول صاف کر رہی تھی۔ نشاء کبابوں کے لئے قیمہ پیس رہی تھی۔ صابرہ البتہ نظر نہیں آ رہی تھیں۔
’’اوہو۔ بھئی لگتا ہے کہ پھر آج کسی کی دعوت کا اہتمام ہو رہا ہے۔‘‘ فاروق نے بیٹ احسن کی طرف اچھالتے ہوئے کہا جسے احسن نے بڑی مہارت سے کیچ کر لیا تھا۔
’’یہ رونق اور کھانوں کی اشتہا انگیز خوشبوئیں تو یہی بتاتی ہیں۔‘‘ احسن نے بھی سانس لیتے ہوئے کھانوں کی خوشبو اپنے اندر اتاری۔
’’شاید ہماری دعوت ہو رہی ہے۔‘‘ دانش خوشی سے بولا۔
’’کس خوشی میں بھئی؟‘‘ نشاء نے تنک کر پوچھا۔
’’میچ ہار کر آ رہے ہیں نا۔‘‘ احسن نے سینہ تان کر کہا۔
’’بڑے فخر کی بات ہے نا۔‘‘ نشاط نے طنز کیا۔
’’ویسے منہ دھو رکھئے یہ دعوت آپ تینوں کی ہرگز ہرگز نہیں۔‘‘ ندا نے دانش کی خوش فہمی پر پانی پھیر دیا۔
’’ہائے… اف یہ سفاک سچ۔‘‘ احسن نے بے حد آزردگی سے کہا۔
’’سچ تو ہوتا ہی سفاک ہے۔‘‘ ندا نے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے بہت سنجیدگی سے کہا۔
’’اب بتا بھی چکو کہ کون تشریف لا رہا ہے؟‘‘ فاروق سے مزید صبر نہ ہو سکا۔
’’پہلے تو بتا۔ کدھر گئے تھے تم لوگ۔ صبح کے نکلے اس وقت شکلیں دکھا رہے ہو۔ کہیں خدیجہ کے یہاں تو نہیں گئے تھے۔‘‘ دادی نے کٹے ہوئے سیبوں کو طشتری میں سجاتے ہوئے پوچھا۔
’’لیجئے۔ ارے دادی! آپ کی سوئی ابھی تک خدیجہ بی پر ہی اٹکی ہوئی ہے۔ آخر یہ خدیجہ بی آپ کا کیا لے کر بھاگی تھیں؟‘‘ فاروق‘ جنت بی بی کے پاس ہی تخت پر براجمان ہو گیا۔
’’مجھے تو لگتا ہے کہ جوانی کے زمانے میں خدیجہ بی کا دادا جی کے ساتھ کوئی چکر وکر تھا۔ جبھی دادی اتنا خار کھاتی ہیں ان سے۔‘‘ دانش نے اپنی عقل کی پٹاری میں سے ایک خیال نکالا۔
’’اے ہٹ پرے۔ تیرے دادا کوئی ایسے ویسے نہ تھے۔ لڑکپن میں بھی بہت ہی سلجھے ہوئے، شریف تھے۔ تم لوگوں کی طرح لااُبالی نہ تھے ۔ خدیجہ جیسی عورتوں کی بات تو دور وہ تو اچھی سے اچھی عورت کی طرف بھی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتے تھے۔‘‘ دادی نے فوراً دانش کو دوہتڑ لگائے۔
’’ساری عورتوں کو ان کے میاں شریف ہی لگتے ہیں دادی!‘‘ فاروق شوخی سے بولا۔
of 32 
Go