Urdu Novels

Back | Home |  
تمہید ِبہار
موزئیک کی کالی سفید، دانے دار سیڑھیاں ہر وقت ہی ٹھکاٹھک بجا کرتیں۔ سب سے زیادہ کوفت دادی کو ہوتی تھی۔ اُن کا کمرا سیڑھیوں کے بالکل قریب تھا، نچلی منزل پر۔
’’دماغ پر جیسے ہر وقت دھمک سی لگتی رہتی ہے۔ سالوں سے سر کا درد جیسے مستقل ایک ہی جگہ ٹھہر گیا ہے۔‘‘ وہ ہر آئے گئے کو لازمی آگاہ کرتیں۔ گھر والوں کے حُسنِ سلوک سے متاثر ہونے والا مہمان اپنا ارادہ بدل کر دادی کی ہمدردی میں مبتلا ہو جاتا۔
’’اتنا بڑا گھر ہے، آپ کوئی اور کمرا کیوں نہیں لے لیتیں؟‘‘ یہ واحد مشورہ تھا، جس کے بعد ان کی ساری شکایتوں کی فوری بریک لگ جاتا تھا۔ کمرا بدل لینے کا مطلب تھا، ساری دنیا سے کٹ کر رہ جانا۔
’’یہاں کھڑکی سے ہوا اور دھوپ بھی اچھی آتی ہے، اور سامنے سے باغیچہ بھی دکھائی دیتا ہے۔ اس عمر میں تازہ ہوا کھانے کے لئے اور کہیں تو جا نہیں سکتی، تو اس لالچ میں یہاں پڑی ہوں۔‘‘ سننے والا اُن کی دُور اندیشی کا قائل ہوتا۔ تھوڑا سا غور کر لینے پر اور کمرے کی کشادگی، نفاست اور صفائی کا معیار دیکھ کر گھر والوں سے اس کا گلہ بھی کم ہونے لگتا۔ کسی کو تو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا تھا، بس ایک امی تھیں، جو شرمندہ ہوتی رہتی تھیں۔
’’اتنا شور مت کیا کرو نا۔ دادی کو تکلیف ہوتی ہے۔ اس ضعیفی میں اُنہیں سکون بھی نہ ملے تو کتنے افسوس کی بات ہے۔‘‘
اُن کا سارا زور سمیعہ اور زری پر چلتا تھا۔ اس وقت بھی کسی کے جانے کے بعد وہ بہت طریقے سے دونوں بیٹیوں کو سمجھانے بیٹھی تھیں۔
’’میں تو خیر، جاتی ہی نہیں ہوں اوپر۔ کوئی بہت ہی ضروری کام ہو تو اور بات ہے۔ سارا ہنگامہ چچی کی اولاد مچائے رکھتی ہے، یا پھر۔۔۔۔‘‘ زری کی شرارت بھری نگاہ، سمیعہ پر جا رُکی۔
’’اچھا، خوامخواہ ہی!‘‘ اُس کا اشارہ سمجھ کر وہ تھوڑا سا گڑبڑائی۔

’’غلط تو نہیں کہہ رہی زری! تمہیں تو چین ہی نہیں آتا، جب تک دن میں چار چکر نہ لگا لو، اوپر کے۔‘‘ امی کی فوری تائید، زری کی بات پر مہر تھی۔
’’میں منع نہیں کرتی، بیٹا! مگر جب سجیلہ اور تمہاری چچی ہمارے ہاں زیادہ نہیں آتی جاتیں تو تم بھی اتنا زیادہ مت جایا کرو۔ کیا پتہ، انہیں اچھا بھی نہ لگتا ہو۔‘‘ وہی ہزار بار کی دہرائی ہوئی بات۔ سمیعہ، امی کی غلط فہمی دُور کرنے کی ہمیشہ ہی کوشش کرتی تھی۔
’’وہ لوگ بہت محبت کرتی ہیں، امی! ایک دن نہ جائوں تو سب یاد کرتے ہیں۔‘‘
’’خیر، بلانے تو تمہیں کوئی نہیں آتا، وہاں سے۔‘‘ زری کو اپنی صاف گوئی پر ناز تھا اور سمیعہ کے سلسلے میں یہ خوبی کچھ زیادہ ہی نمایاں ہونے لگتی تھی۔
’’دادی کی وجہ سے آتے ہوئے گھبراتی ہے، سجیلہ۔ اور فردوس چچی کے لئے سیڑھیاں چڑھنا اُترنا کتنا مشکل ہے، سب ہی کو پتہ ہے۔‘‘ زری کی بات کو بہت ضبط سے پی جانے کے ساتھ ہی اُس نے اوپر والوں کے سلسلے میں جو صفائی پیش کی تھی، اُس کی تردید کے لئے بھی زری کے پاس بہت سے شواہد تھے۔ مگر امی کی تنبیہ کرتی نگاہ نے خاموش رہنے کا اشارہ دیا۔
’’دادی کی باتوں کا برا منانا کوئی اچھی بات ہے کیا؟ اس ضعیفی میں انسان چڑچڑا اور زمانے بھر سے شاکی ہونے ہی لگتا ہے۔ اور وہ لوگ تو الگ تھلگ، اوپر رہتے ہیں۔ اگر ہم اس طرح ذرا ذرا سی باتوں پر برا منانے لگے تو پھر؟‘‘ امی کو خود پر کنٹرول کرنے کی برسوں سے پریکٹس تھی، مگر اوپر والوں کے لئے بات کرتے ہوئے انہیں ایک دبا دبا سا غصہ آنے ہی لگتا تھا۔
’’چچی کہتی ہیں کہ دادی ہم لوگوں سے محبت کرتی ہیں، آپ اُن کی بھانجی ہیں اور وہ غیر۔ اس لئے ان کے بچوں سے بھی کوئی محبت نہیں کرتا۔‘‘ ایک ہاتھ سے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے اس نے وہی وجۂ تسمیہ بھی بیان کر دی، جو فردوس چچی کے منہ سے بارہا سنی تھی۔
’’آہستہ۔‘‘ امی نے بے ساختہ ہی اس کی اونچی آواز پر ٹوکا۔ دادی سن لیتیں تو ایک اور فضیحتہ! سمیعہ کو کھانا پکانے کے لئے دیر ہو رہی تھی، سو بحث کو سمیٹ لینا ہی بہتر تھا۔
’’فردوس چچی اور سجیلہ جو کہہ دیتی ہیں، سمیعہ کے لئے وہی حرفِ آخر ہوتا ہے۔ اوپر سے آپ بھی سختی نہیں کرتیں۔ حد ہے کہ دادی کی بھی برائیاں کرتی ہیں، وہ لوگ۔‘‘ زری اُس کے جانے کے بعد بھی بڑبڑاتی رہی۔ خود امی کو بھی نہ اوپر والے پسند تھے اور نہ ہی سمیعہ کا بار بار اوپر جانا۔ مگر بہت سی مصلحتیں آڑے آتی تھیں۔

’’سمیعہ کا دل سادہ ہے اور محبت والی بھی، یہ خوبیاں اب کم کم ہی دکھائی دیتی ہیں۔ میں نہیں چاہتی کہ بار بار منفی باتیں کر کے اُس کے صاف شفاف دل کو میلا کروں۔ خود ہی ایک دن سمجھ جائے گی۔ اور دوسرے تمہارے ابا بھی اپنے بھائی سے بہت محبت کرتے ہیں۔‘‘ امی کی اپنی سوچ تھی۔
’’سمیعہ کو فردوس چچی اور سجیلہ سے محبت، ابا کو اختر چچا سے، چلیں جی قصہ ہی ختم۔ باقی رہ گئی میں، اپنا دل جلانے کے لئے۔‘‘ اس طرح کی گفتگو کے اختتام پر زری کو ہمیشہ ہی سخت جھنجلاہٹ ہوتی تھی۔
’’دیکھتی ہوں جا کر، کچن میں کیا پک رہا ہے، فردوس چچی اور سجیلہ کی فرمائش پر۔‘‘ وہ کہتی ہوئی کچن کی طرف جانے لگی تو امی بے ساختہ ہی ہنس پڑیں۔ اس بار زری نے مڑ کر بھی نہیں دیکھا تھا۔ امی کو پتہ تھا کہ کچن میں کچھ ایسا ہی ہو رہا ہو گا۔ مگر کیا، کیا جا سکتا تھا۔ نہ سمیعہ کو بدلنا آسان تھا اور نہ ہی زری کی جھنجلاہٹ کو فی الوقت دُور کیا جا سکتا تھا۔ دونوں بہنوں میں بے حد محبت کے ساتھ ساتھ اس ایک معاملے میں بڑا سخت قسم کا اختلاف پایا جاتا تھا۔ زری دو سال بڑی تھی، مگر تحمل اور ذمے داری کے معاملے میں دس سال چھوٹی۔ امی چاہ کر بھی سمعیہ پر سختی نہیں کر پاتیں۔ دادی اپنے کمرے سے انہیں آواز دے رہی تھیں، فوری طور پر اُنہیں نہ سنا جاتا تو ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو جاتا، وہ خود ہی فرض کر لیتیں کہ ان کے کاموں سے بچنے کے لئے ان کی آواز کو اَن سنا کیا جا رہا ہے۔
’’آئی اماں!‘‘ پائوں میں سلیپر ڈالتی ہوئی، امی جلدی سے ان کے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔ دادی ایک نئی خبر کا سرا تھامے بیٹھی تھیں۔
’’اختر کے بچے ابھی پیپسی کی بوتلیں لے کر اوپر گئے ہیں۔ کیا کوئی مہمان آیا ہوا ہے اُن کے ہاں؟‘‘
’’پتہ نہیں، اماں! میں تو بہت دیر سے اس طرف آئی نہیں ہوں۔‘‘
’’اور میری جانے کیسے آنکھ لگ گئی آج، تبھی پتہ نہیں چلا۔ ورنہ گزر کر تو یہیں سے گئے ہوں گے۔‘‘ دادی کو اپنے سو جانے کا افسوس ہو رہا تھا۔ ’’ذرا سمیعہ سے کہو، اوپر کا چکر لگا آئے، سب خبر مل جائے گی۔‘‘
’’اچھا نہیں لگتا، اماں! وہ لوگ سوچیں گی کہ ہم ہر وقت ان کی جاسوسی کرتے ہیں۔ اور ویسے بھی کسی کے ہاں کوئی آئے جائے، ہمارا واسطہ ہی کیا ہے؟‘‘ امی نے بہت رسان سے انہیں سمجھانا
of 26 
Go