Urdu Novels

Back | Home |  
دِل کے ویرانے میں بہار آئی
بانسری کی سریلی آواز نے اس کے کام کرتے ہاتھوں میں بجلی سی بھر دی تھی۔
’’اُف! ایک تو اس گھر کے کام ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔‘‘ اُس پر بری طرح جھنجلاہٹ طاری ہو رہی تھی اور بانسری کی آواز میں اِک پکار تھی، اِک صدا تھی۔ محبوب سے ملنے کی تڑپ تھی اور بانسری کی پکار اس کے اندر کُھب رہی تھی۔
کام ختم کر کے اس نے اماں کے کمرے میں جھانکا۔ وہ کروٹ کے بل دیوار کی جانب منہ کئے لیٹی تھیں۔ بِنا آہٹ کے وہ ان کی چارپائی کے قریب آئی، ہلکے ہلکے خراٹوں کی آواز اُن کی گہری نیند کا اعلان کر رہی تھی۔ اُس نے شکر کا کلمہ پڑھا۔ ایک نظر اپنے کپڑوں پر ڈالی اور سر جھٹک کر چادر اوڑھ لی۔ کمرے کا دروازہ ہلکے سے بند کر دیا۔
بانسری کی پکار اب بھی جاری تھی۔
وہ تیز تیز قدموں تلے پگڈنڈی کو روندنے لگی۔ اسے یقین تھا کہ وہ حسبِ معمول چشمے کے بہتے پانی میں چودھویں کے چاند کا عکس دیکھ کر بے قرار ہو گیا ہو گا۔
’’زیب! تم نے اتنی دیر کر دی؟‘‘ اُسے دیکھتے ہی وہ شکوہ بھرے انداز میں بولا جبکہ آنکھیں حسبِ معمول روشن دیے کی مانند جل اُٹھی تھیں اور جسم کا سارا خون چہرے پر سمٹ آیا تھا۔
’’وجی! تم تو مجھے کہیں کا نہیں رہنے دو گے۔‘‘
’’تم نے بھی تو مجھے کسی کام کا نہیں رہنے دیا زیب! تمہاری محبت نے تو میرے حواس ہی چھین لئے۔ کہیں بھی دل نہیں لگتا۔ میں کیا کروں، یہ دل ہر وقت، ہر پل تمہیں دیکھنا چاہتا ہے۔‘‘ وہ بانسری کو ہلکے سے انداز میں اس کے سر پر مارتے ہوئے بولا۔
’’وجی! میری حالت بھی تم سے جدا تو نہیں ہے۔ مگر میں لڑکی ذات ہوں۔ گھر سے نکلتے ہوئے سو طرح کے وہم ڈراتے ہیں۔ بہت کچھ دیکھنا پڑتا ہے۔‘‘
’’محبت مجبوریاں نہیں دیکھتی۔‘‘
’’تم مرد ہو نا، اس لئے ایسا کہہ رہے ہو۔ ہم لڑکیوں کو ہر قدم پھُونک پھُونک کر اُٹھانا پڑتا ہے۔ مگر تمہاری یہ بانسری ہے نا، میری ساری احتیاط کو توڑ دیتی ہے۔ اور یہ دل پھر مجھے گھر میں نہیں ٹکنے دیتا۔‘‘
’’قسم سے زیب! اب تمہارے بِنا ایک پل قرار نہیں آتا۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کیا کروں۔ دل کرتا ہے، سارا وقت چادر تانے تصورِ جاناں کئے پڑا رہوں۔ تم نے مجھے واقعی نکما اور سست کر دیا ہے۔ اماں الگ صلواتیں سناتی ہیں، بابا الگ خفا ہیں کہ میں ان کے کاموں میں ہاتھ نہیں بٹاتا۔ مگر کوئی میرے اندر نہیں دیکھتا۔ کوئی میرے چہرے کو نہیں پڑھتا۔ اماں کہتی ہیں، جب تک تُو نوکر نہیں ہو جاتا، کسی جگہ تب تک میں تیری شادی نہیں کرنے کی۔ اور نوکری کہاں ملتی ہے آج کل؟ میں تو انٹرویو دے دے کر تھک گیا ہوں۔ اس لئے اب شہر جانا بھی چھوڑ دیا ہے۔ تم نے چھڑا دیا ہے۔ مگر تمہیں پانے کے لئے سوچتا ہوں، ایک بار پھر قسمت آزمائی کر کے شہر چلا جائوں۔ کیونکہ یہ زمینداری کے کام اور ان کی جی حضوری مجھ سے نہیں ہو سکتی۔ تمہیں تو خبر ہے کہ میری آواز میں قدرتی طور پر بہت درد ہے۔ آج کل تو ویسے بھی بہت سی آوازیں مشہور ہو رہی ہیں۔ میں بھی سوچ رہا ہوں، کیوں نہ میں بھی اس سفر میں آگے بڑھوں۔ ہو سکتا ہے قسمت کی دیوی مہربان ہو جائے۔‘‘ وہ اپنے بالوں میں اُنگلیاں پھنسا کر بولا۔
’’وہاج خان! کیا تم میراثی بنو گے؟‘‘ زیب کی آواز میں حیرت نمایاں تھی اور وہ آنکھیں کھولے حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی جیسے اس نے کوئی انوکھی بات کہہ دی ہو۔
’’بے وقوف لڑکی! میراثی نہیں، گلوکار۔‘‘ وہ اس کی حیرانگی پر مسکرا کر بولا۔
’’بات تو ایک ہی ہے نا؟‘‘ وہ مطمئن نہیں ہوئی اس کی بات سے۔‘‘
’’نہیں زیب! آج کل بہت اچھے اچھے گھروں کے لوگ بھی اس میدان میں آ رہے ہیں۔ اور اس میدان میں پیسہ بھی بہت ہے اور شہرت بھی۔ جان! میں تمہاری ان سنگِ مرمر

جیسی کلائیوں میں ڈھیروں سونے کی چوڑیاں بجتی دیکھنے کا خواہش مند ہوں اور چاہتا ہوں کہ تم ایک عالی شان گھر میں شان کے ساتھ رہو۔‘‘
’’وجی! آج تم کیسی باتیں کر رہے ہو؟‘‘ اس کا نازک سا دل سہم سا گیا۔ ’’مجھے دولت نہیں چاہئے۔ تم جانتے ہو اچھی طرح سے، میں نے کبھی محلوں کے خواب نہیں دیکھے۔ مجھے بڑے بڑے گھروں سے خوف آتا ہے۔ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ میں نے زمیندار صاحب کی بیٹی سے اس کی خواہش کے باوجود بھی دوستی اس لئے نہیں کی تھی کہ مجھے بڑے لوگوں سے بھی خوف آتا ہے۔ بڑے گھر انسانوں کو اپنے اندر دفن کر دیتے ہیں۔ وہاں بندہ تمام عمر ایک دوسرے کے قریب رہ کر بھی ایک دوسرے کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔ میرا خواب تو ایک چھوٹے سے گھر کا ہے۔ جس کے آنگن میں ڈھیر سارے گلاب مہکتے ہوں، ڈھیر سارے موتیے کے پھول اپنی مہک پھیلاتے ہوں اور مادرِ وطن کی مٹی کی سوندھی سوندھی مہک میری سانسوں کو مہکائے۔ ہاں وجی! خدا کے لئے ایسی باتیں مت کرو۔‘‘ اس کا لہجہ بھی اس کی آنکھوں کی طرح بھیگ گیا۔
’’زیب! مگر میں تمہیں ذرا ذرا سی خواہشوں کے لئے ترستا ہوا نہیں دیکھ سکوں گا۔ تمہیں علم ہے کہ بندے کے پاس اگر پیسہ نہ ہو تو وہ حقیر سا ہو جاتا ہے۔ اس گائوں میں ہماری کیا حیثیت ہے؟ کچھ بھی تو نہیں۔ ہم خود کو عزت دار سمجھتے ہیں، مگر صرف یہ ہماری سوچ ہے۔ ورنہ اوروں کی نظر میں کچھ بھی تو نہیں ہیں۔ بابا جب اتنی محنت و مشقت کے بعد بھی زمیندار کی جھڑکیاں سنتا ہے تو خدا کی قسم! میرا لہو میرے اندر کھولنے لگتا ہے۔ زیب! تم تو میرے خوابوں کی امید ہو۔ میری ہمت کو بڑھائو۔ یوں رو کر، پریشان ہو کر میرے حوصلے پست نہ کرو۔‘‘
’’مگر وجی! تمہارے بابا اس بات کو پسند نہیں کریں گے۔ اور شاید اماں بھی۔‘‘ وہ نظریں اٹھائے بغیر بولی۔
’’مجھے صرف تمہاری رضا چاہئے، باقی سب بھی وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہو جائیں گے۔ بولو زیب!‘‘ اس کے لہجے میں یقین تھا، آس تھی اور وہ اپنے محبوب کے اس یقین کو توڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتی تھی۔
’’وجی! تم دنیا کی اس بھیڑ میں مجھے بھول تو نہیں جائو گے؟‘‘ اس کے اندر کا دکھ سسکی کی مانند ہونٹوں پر آ گیا۔
’’زیب! تم میری ذات کا عکس ہو اور میں اپنے عکس کو کبھی نہیں بھُلا سکتا۔ کبھی بھی نہیں۔ میری وفا، میری محبت پر اعتبار رکھنا۔‘‘
’’وجی! مجھے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘ وہ آتے ہوئے جتنی خوش تھی، اب اتنی ہی ریزہ ریزہ ہو چکی تھی۔
’’کیا تم کو اپنے وہاج پر، اس کی محبت پر شک ہے؟‘‘ وہ شاکی انداز میں بولا تو وہ تڑپ گئی۔
’’نہیں، نہیں خدا کی قسم وجی! میں تم پر، تمہاری محبت پر شک کر ہی نہیں سکتی۔‘‘ وہ بے بسی سے ہونٹ کاٹتے ہوئے بولی تو اس کی آنکھوں میں آنسوئوں کی دُھند دیکھ کر ایک بار تو وہاج کا دل بھی لرزنے لگا تھا۔ مگر وہ مرد تھا اور مرد تو نام ہی فولاد کا ہے۔
ہلکی ہلکی سپیدی اور چڑیوں کی چہچہاہٹ صبح کی آمد کا اعلان کر رہی تھی۔
’’وجی! صبح ہو گئی۔‘‘ وہ ایک دم اُٹھ کھڑی ہوئی۔ اس نے تھکے تھکے انداز میں ڈوبتے چاند کے تھکے تھکے عکس کو دیکھا۔ ’تم بھی میری طرح نڈھال ہو۔‘ اس نے گہری سانس لے کر سوچا۔ وہی چاند، جو رات کو اپنی روشنی سے دل و جان پر فسوں بن کر چھایا ہوا تھا، بے رونق ہو چکا تھا۔
تب وہ اس کی بانہوں کے حصار کو توڑ کر تیز تیز قدموں سے آگے بڑھ گئی۔
اماں اب تک سوئی ہوئی تھیں۔ گہری نیند۔ اس نے ایک گہری سانس لی اور تھکے تھکے انداز میں اپنی چارپائی پر گر گئی۔ مگر اب نیند کہاں تھی آنکھوں میں۔
ابھی تو جدائی کا آغاز بھی نہیں ہوا تھا۔ ابھی تو وہ شخص اپنی فضائوں، اپنی ہوائوں میں سانس لے رہا تھا مگر جدائی ابھی سے بال کھولے اس کے دل کی دیواروں سے چمٹ کر بین کرنے لگی تھی۔
’وجی! مت جائو۔۔۔۔۔۔!‘ اس کا دل تڑپ تڑپ کر دُہائی دے رہا تھا۔ ان کے درمیان صرف چاہت کا رشتہ نہیں تھا۔ وہ اُس کی منگ تھی۔ اور محبت تو ازل سے ہی ان دونوں

کے اندر قدم جمائے ہوئے تھی۔
وہ اُس کے ماموں کا بیٹا تھا اور ماموں نے بچپن ہی میں اسے اپنے وہاج خان کے لئے مانگ لیا تھا۔ اماں کو بھی بھائی کی اولاد سے بڑھ کر دنیا میں کون عزیز ہو سکتا تھا۔ سو بھائی کی پھیلائی جھولی میں خوشی خوشی اپنی زندگی کی متاعِ حیات ڈال دی تھی۔
اس کے بابا اس گائوں کی مسجد کے مولوی تھے اور ان کے گھرانے کی بڑی عزت تھی۔ ویسے بھی شہروں کی نسبت چھوٹے چھوٹے گائوں میں لوگ مولوی کی بہت عزت کرتے ہیں۔ بے شک وہ غریب تھے مگر ان کے مسائل بہت کم تھی۔ ایک عمر بھر کی کھیتی صرف زیب ہی تو تھی۔ کچھ اس کا ذہن بھی تھوڑا روشن تھا۔ سو انہوں نے زیب کو گائوں کے ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم دلوائی تھی۔ خواہش تو آگے پڑھانے کی بھی تھی، مگر زندگی نے وفا نہ کی۔ وہ ایک صبح فجر کی نماز میں سجدے کے لئے جھکے تو خدا کی بارگاہ میں سے دوبارہ سر اُٹھانے کی ہمت ہی نہ کر سکے۔
چاہنے والے باپ کی جدائی کا گھائو تو ایسا تھا کہ زیب خود زندگی سے منہ موڑنے کا ٹھان بیٹھی تھی اور اسے موت کے منہ سے زندگی کی طرف لانے والا وہاج خان تھا۔ اس کے بچپن کا ساتھی۔ اس کے مستقبل کا ضامن۔ جو محبت دل کے ہزار پردوں میں چھپی دھیرے دھیرے دمک رہی تھی، وہ اس کی قربت میں آگ بن کر دہک اُٹھی۔ مہک بن کر مہک اُٹھی۔ باپ کی جدائی کا غم دھیرے دھیرے مدھم ہونے لگا کہ اسے محبت کی ضرورت تھی۔ اور وہاج اس ضرورت کو اپنے لَو دیتے جذبوں سے مہکا رہا تھا۔ وہ بہت دنوں میں سنبھلی۔ دل سے اُداسی مٹ گئی تھی۔ اس نے خدا کی رضا پر صبر کر لیا تھا۔
اماں بھی اسے زندگی کی طرف لوٹتا اور اس کے چہرے پر رنگوں کو بھرتا دیکھ کر آسودگی محسوس کرنے لگی تھیں۔ کیونکہ سر سے سائبان چھن جانے کا غم ان کے لئے بھی کم نہ تھا بلکہ زندگی تو ان کے لئے ختم ہوئی تھی مگر اسے یوں زندگی سے رُوٹھا دیکھ کر تو ان کا دل حلق میں آ گیا تھا کہ اولاد کا غم تو ناسور بننے لگا تھا۔ میاں کا غم وہ رضائے الٰہی جان کر سہ چکی تھیں، مگر نازوں کی پلی بیٹی کی بیماری نے انہیں بالکل ہی توڑ دیا تھا۔ ان کے دل سے اُٹھتے بیٹھتے وہاج خان کے لئے دعائیں نکلتی تھیں۔
’’پھپھو! اس کی زندگی تو میری امانت ہے۔ میں نے اپنی زندگی کو بچا کر آپ پر احسان تھوڑی کیا ہے؟‘‘ وہ پھپھو سے بہت بے تکلف تھا۔
’’نہیں چندا! تُو نے مجھ پر احسان ہی کیا ہے۔ اگر اس کو کچھ ہو جاتا تو میں بھی جی کر کیا کرتی؟‘‘ ماں تھیں، جانتی تھیں کہ بیٹی پرایا دھن ہوتا ہے مگر پھر بھی وہ ہی ان کے جینے کا آسرا تھی۔
ماموں ممانی بھی اس پر نثار تھا۔ واحد اور ماہم گُل الگ اُس کے دیوانے تھے۔ ماموں نے بھی اپنے کم وسائل کے باوجود اسے اس آس میں پڑھایا تھا کہ شاید اس کی پڑھائی ان کی مفلسی کا سینہ چاک کر دے۔ مگر وہ پچھلے دو سال سے بی اے کر کے فارغ تھا اور ماموں کے وہ سارے خواب جو کہ انہوں نے اس کے حوالے سے دیکھے تھے، دھیرے دھیرے دم توڑ گئے تھے اور وہ خود بھی تو کم پریشان نہیں تھا۔ مگر وہ شہر کی ہوائوں کو اس میں رہ کر سمجھنے لگا تھا۔ جانتا تھا کہ آج کل نوکری انہی لوگوں کی قسمت بنتی ہے جن کے پاس پہلے ہی سے وافر مقدار میں پیسہ ہو یا پھر جس کی اونچی سفارش ہو۔ مگر وہ دونوں ہی جگہ محروم تھا۔ اس کی حالت زار دیکھ کر تو ماموں نے واحد کو میٹرک کے بعد ہی تعلیم ختم کرنے کو کہہ دیا تھا۔
وہ شخص جو کل تک پھولوں کی، خوشبوئوں کی اور محبتوں کی باتیں کرتا تھا، آج اس کی آنکھوں میں غم تھا، اس کے لہجے میں حالات کی تلخی تھی۔ تبھی سے اس کے اندر ایک طوفان کروٹیں لے رہا تھا۔ یہ اس نے بار بار محسوس کیا تھا مار وہ اس طرح اپنی قسمت بدلنے کی باتیں کرے گا، یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔
وہ جانتی تھی کہ اس کی آواز میں ایک عجیب سی چاشنی ہے، ایک خوب صورت سا ردھم ہے۔ کیونکہ وہ ہمیشہ چناروں کے ان اونچے درختوں کے درمیان بہتے اس خوب صورت چشمے میں چاند کا ڈوبتا عکس اس کے سنگ دیکھتے ہوئے اپنی بے تحاشا خوب صورت آواز کا جادو بھی عموماً جگاتا تھا۔ وہ پہروں بے خودی کی حالت میں سانس روکے اس کی آواز کے سحر میں گم رہتی تھی۔ مگر اس کی آواز پر کل تک وہ صرف اپنی حکمرانی سمجھتی آئی تھی اور اس کے علاوہ اسے خبر تھی کہ ماموں بے شک غریب تھے، مگر دینی اور مذہبی معاملات میں بہت
of 18 
Go