Urdu Novels

Back | Home |  

 

وقت کرتا جو وفا۔۔۔۔۔فرحانہ پیرزادہ
آج کا دن بھی روز کی طرح ایک عام سا دن تھا۔ روزانہ کی طرح صبح صبح چڑیوں کی چہچہاہٹ میں دن کا اجالا پھیلا تھا‘ اور پھر سب لوگ روزانہ کی طرح اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہو گئے تھے۔ ڈاکٹر زارا بھی معمول کے مطابق اپنے کلینک میں مریض کو دیکھ رہی تھی۔ اگلے مریض کو بلانے کے لئے گھنٹی بجائی‘ تو ایک مرد اور خاتون اندر داخل ہوئے۔ خاتون دیکھنے میں ستائیس‘ اٹھائیس کی لگ رہی تھی‘ اور شکل و صورت اور صحت کے اعتبار سے بھی ٹھیک لگ رہی تھی‘ لیکن اس کے چہرے پر حزن و ملال کے سائے پھیلے ہوئے تھے۔ اتنا اعلیٰ اور عمدہ میک اپ بھی مایوسیوں کے پھیلے ہوئے سائے نہ چھپا سکا تھا۔ ڈاکٹر زارا احمد کو اس بیچاری کی مجبوری اور بے کس شکل پر بڑا ترس آیا‘ اور وہ ایک تجربہ کار گائناکالوجسٹ ہونے کے ناطے اس کی مجبوری کی بابت ایک لمحے میں جان چکی تھی۔ 
وہ اس خاتون کی شخصیت میں اتنی محو ہوئیں کہ ساتھ آئے ہوئے شخص کی طرف دھیان ہی نہ گیا‘ لیکن اب جو ان کی نظر شمائل پر پڑی‘ تو وہ دم بخود رہ گئی‘ لیکن یکدم اپنے آپ کو نارمل حالت میں لاتے ہوئے اس خاتون کی جانب متوجہ ہو گئی۔ ڈاکٹر زارا کی نازک حالت کا شمائل کو پورا پورا اندازہ تھا۔ ڈاکٹر صاحبہ کو حیران دیکھ کر وہ خاتون فوراً بول اٹھی۔
’’یہ میرے شوہر ہیں۔‘‘
سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی یہ چار لفظی جملہ سننے کے بعد ڈاکٹر زارا احمد کو یوں لگا‘ کہ ابھی کچھ دیر پہلے جو چہل پہل تھی‘ سب ختم ہو گئی ہے۔ دم لیتی ہوئی کائنات میں سناٹے اتر آئے ہیں۔ ہر شے خاموش ہو گئی ہے۔ گھڑی کی ٹک ٹک بھی رک گئی ہے۔ شائد ان کی سانس کی ڈور بھی اب تھم گئی ہے۔ انہیں کچھ سمجھ نہ آ رہا تھا‘ کہ اچانک یہ سب کیا ہو گیا ہے۔ وہ تو بہت مضبوط اعصاب کی مالک خاتون تھیں۔
مسز شمائل مشکوک نظروں سے ڈاکٹر کی جانب دیکھ رہی تھیں۔ ان کو ڈاکٹر کی ذہنی حالت پر شبہ ہو رہا تھا۔ وہ تو ان کی بہت تعریف سن کر ان کے پاس آئی تھی۔ جب کہ یہ ڈاکٹر تو عجیب و غریب حرکات کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ 
’’شاید یہ ایسی ہی ہوں‘ بعض لوگ زیادہ پڑھ پڑھ کر ایسے ہی ہو جاتے ہیں۔‘‘ مسز شمائل دل میں یہ بات سوچ کر زیر لب مسکراتی ہوئی ڈاکٹر صاحب کی جانب متوجہ ہو گئیں۔
اس وقت ڈاکٹر زارا کی ذہنی حالت بہت عجیب ہو رہی تھی۔ وہ اپنی کسی قسم کی کمزوری کو شمائل اور اس کی مسز پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ اس لئے وہ بظاہر دلچسپی‘ لیکن غیر حاضر دماغی سے مسز شمائل کی فائل کا جائزہ لے رہی تھیں۔ فائل دیکھنے کے بعد وہ نئے سرے سے ان کی کیس ہسٹری لینے لگیں‘ اور ساتھ ان کو ایک دو اور ٹیسٹوں کے بارے میں مشورہ دیا۔
’’ڈاکٹر صاحبہ! کچھ امید ہے؟‘‘ مسز شمائل کا سوال التجا سے بھرپور تھا۔
’’دیکھئے محترمہ امید کا دامن کبھی بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔ مایوسی کفر ہے۔ آپ امید رکھئے‘ اور آئندہ جو میں نے ٹیسٹ بتائے ہیں ان کی رپورٹس لے کر آیئے گا۔ ان کو دیکھنے کے بعد میں علاج شروع کروں گی۔‘‘ ڈاکٹر زارا نے بہت تفصیل سے مسز شمائل کو تسلی دی۔ ان کی باتیں سن کر شازیہ کو تھوڑا بہت یقین آ گیا‘ اور وہ مسز شمائل کے ہمراہ اٹھ کر ڈاکٹر صاحبہ کو خدا حافظ کہہ کر باہر کی جانب چل دیں۔ 
ان کے جانے کے بعد ڈاکٹر زارا احمد نے خاموشی سے گردن کرسی سے ٹیک دی‘ اور آنسو ان کی پلکوں کو دھیرے دھیرے بھگونے لگے۔ وہ رونا نہیں چاہتی تھیں‘ کیونکہ وہ غیر معمولی اختیار کی مالک‘ جو کبھی بھی آئوٹ آف کنٹرول نہ ہوئی تھیں‘ آج تو یوں لگتا تھا‘ جیسے ان کے برسوں سے رکے آنسو بندشوں کے سارے بند توڑ کر بہہ جائیں گے۔ بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان باتوں کی سچائی پر پورا یقین ہونے کے باوجود انسان ان باتوں کو سننا نہیں چاہتا۔ شاید ایسی ہی پوزیشن اس وقت زارا احمد کی ہو رہی تھی۔ زارا نہیں چاہتی تھیں کہ ان کی یہ حالت کوئی بھی دیکھے‘ کیونکہ وہ تو اس وقت بھی نہ روئی تھی‘ جس وقت یہ سانحہ وقوع پذیر ہوا تھا‘ لیکن آج اپنی آنکھوں سے شمائل کی دلہن دیکھ کر اس کے دل کی جو حالت ہوئی تھی‘ وہ کسی کو نہ بتا سکتی تھی۔ اس وقت جو اس کے دل پر بیت رہی تھی‘ یہ صرف وہ خود ہی جانتی تھی۔
ڈاکٹر زارا کو بالکل ایسا لگ رہا تھا‘ جیسے کسی باغ کے مالک کے سامنے اس کا سارا باغ‘ اور اس کی  خوبصورتی کوئی دوسرا سمیٹ کر لے جائے‘ اور وہ بے بس کچھ بھی نہ کر سکے۔ 
شمائل نے باہر جا کر اپنی مسز کو ویٹنگ روم میں بٹھایا‘ اور خود ڈاکٹر سے مزید معلومات حاصل کرنے کا کہہ کر اندر زارا کے کمرے میں آ گئے۔ ان کو دوبارہ اپنے کمرے میں داخل ہوتا دیکھ کر زارا نے اپنی ریوالونگ چیئر کا رخ دوسری جانب موڑ لیا۔ ان کی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی۔ وہ اپنی اس حالت کو شمائل پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھیں‘ لیکن شاید قدرت ان کا بہت کڑا امتحان لے رہی تھی‘ جو یوں اچانک شمائل کا سامنا کروا دیا۔
’’زارا میری بات تو سن لو۔‘‘ یہ کہتے ہوئے شمائل اپنے لہجے کا بھاری پن نہ چھپا سکے۔ یہ سننے کے بعد ڈاکٹر زارا کو یوں لگا‘ جیسے وہ آج پھر 7 برس پہلے والی زارا بن گئی ہیں۔ وہ جو شمائل کی ہر بات کو توجہ اور غور سے سنا کرتی تھیں‘ ان باتوں کو سن کر زارا کی ساری تھکاوٹ پل بھر میں دور ہو جاتی۔ وہ جتنی دیر بھی شمائل سے بات کرتی رہتی‘ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلتا۔ یوں لگتا جیسے وقت پر لگا کر اڑ گیا ہے۔ وہ دن زارا کو اپنی زندگی کے حسین ترین دن لگتے تھے۔ شمائل کی باتیں بھی تو اتنی مزے کی ہوتی تھیں‘ کہ دل چاہتا تھا کہ انسان سارا وقت اس کی باتیں سنتا رہے۔ زارا اکثر اپنی سہیلیوں کو بتاتی۔ ’’شمائل اتنی 

 

رسیلی باتیں کرتا ہے کہ بس میں بتا ہی نہیں سکتی۔‘‘
’’ہم تم سے پوچھتے بھی نہیں۔‘‘ زارا کی عزیز ترین سہیلی عنبرین جواب دیتی۔ کیونکہ وہ شمائل سے بہت چڑتی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ جب سے شمائل کی زارا سے دوستی ہوئی ہے‘ زارا اس سے بات ہی نہیں کرتی‘ حالانکہ زارا تو عنبرین کو اپنی سب سہیلیوں میں سے عزیز سمجھتی تھی‘ لیکن پھر بھی شمائل کا مقابلہ تو دنیا میں کوئی بھی انسان نہ کر سکتا تھا۔ زارا شمائل کی کہی ہوئی باتوں کو دل و جان سے ماننے کی کوشش کرتی‘ اور اس کا کہا ہوا ہر لفظ زارا کے لیے حکم کا درجہ رکھتا تھا۔ ایسا حکم ‘جو وہ خوشی سے مان لیا کرتی تھی۔ شمائل بھی اس کے ہر معاملے میں رائے دینے کو اپنا حق سمجھتا تھا‘ اور زارا ان سب باتوں کو بڑی آسانی سے مان لیا کرتی تھی‘ کیونکہ اس کو شمائل کی ان سب باتوں سے حد درجے اپنائیت کا احساس ہوتا تھا۔ 
شمائل کو بلاوجہ زارا کا کہیں جانا پسند نہ تھا۔ شوخ‘ چنچل زارا نے بلاوجہ کہیں آنا جانا بالکل ترک کر دیا۔ وہ جو سیر سپاٹوں کی بہت شوقین تھی‘ پکنک پروگرام سیٹ کرنے میں سب سے آگے ہوتی تھی‘ شادی بیاہ کی تقریبات کی جان تھی۔ اس نے یہ سب چیزیں چھوڑ دیں‘ کیونکہ یہ شمائل کا حکم تھا۔ وہ شادیوں میں جاتی تو تھی‘ لیکن بس برائے نام‘ کیونکہ جانا ضروری ہوتا تھا۔ اب تو بالکل یوں لگتا تھا‘ جیسے زارا احمد شمائل کی تابع ہے یا بالکل ایک معمول ہے۔ شمائل کو سادگی پسند تھی‘ وہ سادگی کا مرقع بن گئی۔ اس نے اپنی ہر عادت کو شمائل کی پسند میں ڈھال لیا تھا۔ شمائل بھی زارا کو بالکل اپنی ملکیت سمجھتا تھا۔ اس کی سوچ میں یہ بات شامل تھی کہ وہ ہر بات زارا کی بھلائی کے لیے سوچتا ہے‘ اور زارا اس کی ہر بات مان کر اس کے یقین کو مزید پختہ کر دیتی۔ زارا کی ان حرکات کی وجہ سے عنبرین اکثر اس سے جھگڑتی۔ 
’’تم شمائل کا اتنا کہنا نہ مانا کرو‘ وہ نجانے اپنے آپ کو کیا سمجھنے لگا ہے۔‘‘ عنبرین اپنے طور پر زارا کو سمجھاتے ہوئے کہتی۔
’’تم کیا جانو وہ میرے لیے کیا اہمیت رکھتا ہے۔‘‘ زارا جب جھوم کر جواب دیتی تو عنبرین جی جان سے جل جاتی اور چلا کر کہتی۔
’’میری بلا سے بھاڑ میں جائو۔‘‘ اور زارا اس کی باتوں پر کھلکھلا کر ہنس دیتی۔
عنبرین تو زارا کو بالکل بے وقوف سمجھنے لگی تھی۔ اب وہ اکثر اس کو کہتی کہ۔
’’زارا تو بالکل دیوانی ہے۔‘‘
لیکن آج سات برس گزر جانے کے بعد لگتا تھا‘ جیسے سارا کچھ ہی بدل گیا ہے۔ بہت ساری چیزوں کے ساتھ زارا احمد بھی بدل گئی تھی۔ آج نہ تو وہ شمائل کی جانب دیکھنا چاہتی تھی‘ اور نہ اس کی کوئی بات سننا چاہتی تھی۔ زارا احمد بدلی نہیں تھی‘ وہ آج بھی شمائل کا حکم ماننے کے لیے بے تاب تھی‘ لیکن اب وہ اپنے جذبوں کو شمائل پر ظاہر کرنے کا اپنا کوئی حق نہ سمجھتی تھی‘ لیکن شمائل بھی جیسے آج زارا کو شکست خوردہ دیکھنے کا تہیہ کر چکا تھا۔
’’بولو نہ زارا میں نے تم سے کچھ پوچھا ہے۔ کیا تم خوش ہو؟‘‘
’’آہ شمائل یہ تم نے کیا پوچھ لیا۔ کیا اپنی زندگی سے ناطہ توڑ کر کوئی خوش رہ سکتا ہے‘ لیکن شمائل جو تم چاہتے ہو‘ وہ کبھی نہ ہو گا‘ تم زارا احمد کو شکست خوردہ نہیں دیکھ سکتے۔‘‘
زارا یہ سوچتے سوچتے کھو سی گئی تھی‘ لیکن اچانک اس نے اپنے آنسو ٹشو سے پونچھ لئے‘ اور کرسی کا رخ موڑ کر شمائل کی جانب کر لیا۔
’’مسٹر شمائل ویسے آپ کی وائف خوبصورت خاتون ہیں‘ مجھے پسند آئیں۔ ان کو دیکھنے کا مجھے بڑا اشتیاق تھا‘ چلیں آج کا دن اچھا ہے‘ ان سے ملاقات ہو گئی اور شاید اب تو ملاقات ہوتی رہے گی۔ آپ ان کو آئندہ ضرور لے کر آئیے گا‘ کیونکہ میں اس کیس کے سلسلے میں خاصی پرامید ہوں۔‘‘ زارا نے کمال ضبط سے اپنے آپ کو نارمل کرتے ہوئے شمائل سے بات کی۔
’’زارا تمہارا ٹالنے کا انداز آج بھی وہی ہے‘ جس بات کا تم جواب نہ دینا چاہو بڑے آرام سے بات بنا دیتی ہو۔‘‘ شمائل بڑے غم زدہ نظر آ رہے تھے۔
’’زارا تم میرے سوال کا جواب کیوں نہیں دیتی؟ کیا میں اس قابل بھی نہیں کہ تم سے ایک سوال بھی پوچھ سکوں۔‘‘ شمائل نے میز پر ہاتھ رکھ کر آگے کو جھک کر اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا۔
’’مسٹر شمائل صاحب! میں کسی کوئز پروگرام میں نہیں بیٹھی کہ آپ کے سوالوں کے جواب دوں۔ آپ اب جا سکتے ہیں‘ اور آئندہ اپنی وائف کے ہمراہ آیئے گا شکریہ۔‘‘ زارا نے تنبیہی انداز میں شمائل کو یہ کہہ کر باہر کی جانب روانہ کر دیا‘ اور خود بالکل ڈھے جانے کے انداز میں کرسی پر بیٹھ گئی۔
باہر شازیہ اتنی دیر سے انتظار کر کے اکتاہٹ کا شکار ہونے لگی تھی۔ وہ ویسے بھی آج کل بہت زیادہ بیزاری محسوس کر رہی تھی۔ اس کی یہ حالت تین چار سال سے تھی۔ اب تو بہت زیادہ چڑچڑی ہوتی جا رہی تھی۔ اس کی شادی کو چھ سال کا عرصہ بیت چکا تھا‘ اور وہ اولاد جیسی قیمتی نعمت سے محروم تھی۔
’’خیریت ہے شمائل اتنی دیر لگا دی۔‘‘ شازیہ بیزاری سے کلینک سے باہر نکلتے ہوئے بولی۔
’’کیا وہ ڈاکٹر تمہاری جاننے والی تھیں۔ وہ تمہاری جانب بڑے غور سے دیکھ رہی تھیں۔‘‘ شازیہ نے کریدنے کے انداز میں پوچھا۔
’’ارے نہیں میرے جاننے والی تو نہیں‘ شاید ان کے کسی جاننے والی کی شکل مجھ سے ملتی ہو ۔‘‘ شمائل بات کو بہت ہلکے پھلکے انداز میں شازیہ سے کر رہا تھا۔

 

’’ہاں ہو سکتا ہے۔‘‘ شازیہ کچھ مطمئن نظر آرہی تھی۔ 
’’لیکن شمائل مجھے تو یہ ڈاکٹر کچھ عجیب سی نظر آ رہی تھیں۔‘‘ گاڑی میں بیٹھ کر دروازہ بند کر کے شازیہ بولی۔ 
’’نہیں بھئی عجیب تو نہیں‘ خیر اگر ہیں بھی تو ہوا کریں۔ ویسے وہ تمہارے کیس کے سلسلے میں خاصی پر امید نظر آ رہی ہیں۔‘‘ شمائل گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے گویا ہوا۔
’’اچھا…؟‘‘ شازیہ کے چہرے کی حالت دیدنی تھی۔ 
’’بھئی واقعی میں ان سے اسی سلسلے میں تو بات کرنے گیا تھا۔‘‘ شمائل نے شازیہ کو یقین دلانے کی کوشش کی۔ 
’’اب تو ہم رپورٹس کے نتائج آتے ہی کلینک جائیں گے۔‘‘
’’ہاں ٹھیک ہے۔‘‘ شازیہ قدرے مطمئن نظر آ رہی تھی۔ 
’’شمائل کیا کبھی خدا ہماری بھی دعا سنے گا۔‘‘
’’ہاں ہاں کیوں نہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں‘ اور پھر تمہیں ڈاکٹر صاحبہ نے بھی تو کہا ہے‘ کہ مایوسی گناہ ہے۔ پھر تم ایسی باتیں کیوں کرتی ہو؟‘‘ شمائل شازیہ سے پوچھنے لگا۔
’’نہیں شمائل مایوس نہیں‘ لیکن نجانے کیوں میں اندر سے بہت خوفزدہ ہو رہی ہوں‘ سہمی ہوئی۔ پتہ ہے تمہاری امی جان کتنی بار مجھے یہ سنا چکی ہیں‘ کہ بہو اب گھر کا سوُنا آنگن مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتا۔ میری بڑی خواہش ہے کہ میں اپنے بیٹے کی اولاد کو گودوں میں کھلائوں۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے شازیہ‘ یہ ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے‘ لیکن تم پریشان نہ ہوا کرو۔‘‘
شمائل اپنے طور پر شازیہ کو مطمئن کرنے کی پوری کوشش کرتا‘ لیکن شازیہ ایک عورت تھی‘ اور عورت کے جذبات کو بڑی اچھی طرح سمجھتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ شمائل کی والدہ کی یہ خواہش اگر وہ پوری نہ کر سکی‘ تو وہ شمائل کی دوسری شادی کر دیں گی۔ باوجود اس کے کہ وہ ان کی سگی بھتیجی تھی۔ لیکن اب وہ اس کی ساس بن گئی تھیں‘ اور بالکل ساسوں جیسا ہی سلوک کرتی تھیں۔
’’شازیہ کل آفس سے واپسی پر میں تمہیں ٹیسٹ کروانے کیلئے لے جائوں گا‘ تیار رہنا۔‘‘ شمائل نے گھر پہنچ کر شازیہ کو ایک دفعہ پھر یاد کروا دیا۔
’’آ گئیں بہو۔‘‘ شمائل کی والدہ ان کو دیکھ کر پوچھنے لگیں۔
’’جی پھوپھو ڈاکٹر نے ایک دو اور ٹیسٹوں کے بارے میں بتایا ہے۔ اس کے بعد علاج شروع ہو گا۔‘‘ شازیہ اپنی ساس کو تفصیل بتانے لگی۔
’’اچھا بھئی میں تو صبح و شام تیری گود ہری ہونے کی دعائیں مانگتی ہوں۔ دیکھو میری یہ دعائیں کس دن رنگ لاتی ہیں۔‘‘
شمسہ خاتون اب شروع ہو گئی تھیں‘ اور اب انہوں نے باتوں ہی باتوں میں دوسری شادی کا قصہ ضرور چھیڑ دینا تھا۔ صاف لفظوں میں نہیں‘ بلکہ ڈھکے چھپے الفاظ میں‘ اپنا مطلب واضح کر دینا تھا‘ اور بس اسی بات سے شازیہ کی جان نکلتی تھی۔ اس لئے وہ فوراً رات کے کھانے کا انتظام کرنے کا کہہ کر اٹھ گئی‘ اور شمائل بھی کسی کام کے سلسلے میں باہر نکل گیا۔
 
…٭٭٭…
 
ڈاکٹر زارا کے کلینک کا ٹائم ختم ہو چکا تھا‘ اور سارے مریض جا چکے تھے۔ اس نے شمائل کے جانے کے بعد سارے مریض خاصے بے دلی سے دیکھے تھے‘ اور اب تک وہیں اپنی کرسی پر بیٹھی خیالوں میں کھوئی ہوئی تھیں… کہ نرس نے آکر ان کو ٹائم ختم ہونے کا احساس دلایا‘ کیونکہ ٹائم کافی ہو گیا تھا۔ اس کے کہنے پر وہ اٹھ کر باہر کی جانب چل دیں۔
آج کی رات زارا احمد پر بہت بھاری تھی۔ اس کو اپنا آپ بالکل ایک ادھورا محسوس ہو رہا تھا۔ آج اس نے اتنے برسوں بعد اپنی عزیز از جان ہستی کا سامنا کیا تھا‘ اور برسوں سے وہ اپنے ادھورے وجود کا احساس چھپائے ہوئے تھی۔ آج بہت شدت سے محسوس ہو رہا تھا۔ وہ جو سمجھتی تھی کہ اس کو بھلا چکی ہے‘ ایک لمحے میں نظروں میں بس گیا‘ اور ساری پرانی یادوں کو تازہ کر گیا۔
یادیں پتھر پھینک رہی ہیں
میں اندر سے ٹوٹ رہا ہوں
زارا کو اپنا وجود بالکل ایک پتھر کی چٹان کی مانند محسوس ہوتا تھا‘ لیکن آج یہ چٹان ریت کے ایک ڈھیر کی مانند آہستہ آہستہ نیچے بیٹھ رہی تھی‘ اور وہ اندر سے ٹوٹ پھوٹ رہی تھی۔ یہ توڑپھوڑ کا عمل اتنا شدید تھا‘ کہ زارا کو یوں لگتا تھا‘ جیسے وہ ایک سوکھی شاخ کی مانند چٹخ رہی ہے۔ وہ سمجھتی تھی کہ شمائل کی یاد اس کے ذہن سے نکل چکی ہے‘ لیکن وہ آج بھی انہی شدتوں سے دل کی عمیق گہرائیوں میں براجمان تھا۔
آج نیند کوسوں دور بھاگ گئی تھی‘ یوں لگتا تھا‘ جیسے زارا احمد کی آنکھیں سدا سے کھلی ہیں اور ہمیشہ کھلی رہیں گی۔ وہ اپنی آنکھوں کو بند کرتی‘ تو وہ آگ کی مانند جلنے لگتیں۔ یہ جلن اتنی شدید ہوتی‘ کہ آنکھوں سے پانی بہنے لگتا۔ بس ان آنسوئوں کا نکلنا تھا‘ کہ جیسے اس کو رونے کا بہانہ مل گیا۔ وہ رونے لگی۔ رونا اس کا دل پسندیدہ مشغلہ تھا۔ وہ بچپن میں بھی بہت رویا کرتی تھی‘ جب بھی کوئی اس کی بات نہیں 
of 37 
Go