Urdu Novels

Back | Home |  

وردی وعدہ اور وفائیں۔۔۔۔۔۔۔ساجدہ حبیب


شہر میں ساون کے بادل شام ہوتے ہی امڈتے چلے آئے اور جب رات کا دل کش سماں ہر سو چھا گیا‘ تو گرج گرج کر اپنی بے پناہ اہمیت کا احساس دلاتے ہوئے چاروں طرف برسنے لگے۔
ڈھاکہ کے ڈی سی ہائوس کے وسیع سبزہ زار پر برستی ہوئی اس برسات نے مغربی پاکستان سے آئے ہوئے مہمانوں کی آنکھوں کو ایک خوشگوار حیرت عطا کر دی، کہ بلاشبہ مشرقی پاکستان کی اس برستی ہوئی برسات کا رنگ بے حد خوب صورت تھا۔
اس وقت وفد کے تمام ارکان باہر برآمدے میں نشست فرما تھے اور میزبانی کے ایک دل فریب ماحول میں فرائیڈفش کے ساتھ سلہٹ کی چائے سرو کی جا رہی تھی۔ گفتگو کا رُخ حسن بنگال اور کسس بازار کے ساحلوں سے شروع ہو کر … سحر بنگال کے کرشماتی معجزات سے ہوتا ہوا اب سیاست کی جانب آ چکا تھا۔ یہ سن ساٹھ کی دہائی کا پرسکون زمانہ تھا‘ جبکہ عین عالم شباب میں وطن عزیز اک دبی دبی سی شورش کی زد میں تو تقریباًآ چکا تھا، لیکن معاملات … بہرحال قدرے ترتیب اور تناسب کے ساتھ رواں دواں تھے۔
اگرچہ راوی چین ہی چین تو لکھ رہا تھا‘ تاہم کہیں پر کوئی چنگاری پوشیدہ راکھ ضرور تھی‘ کیونکہ ذہنوں کی تبدیلی کا عمل شاید شروع ہو چکا تھا۔ لہٰذا حالات کے رُخ کا کسی قدر تعین کر لینے کے بعد سماجی رسومات کے تحت خیر سگالی وفود کی آمد کے سلسلے کا خیر مقدم کیا گیا تھا اور اس وفد کی آمد بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔
چنانچہ اسی شام… پاک آرمی ڈھاکہ کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر میں وی آئی پی ڈیوٹی پر تعینات میجر حسن امام کے دل کی گزر گاہ پر چلتی ہوئی وہ لڑکی زیست کا رخ بدل گئی‘ جس کا نام منزہ میر علی تھا اور وہ اس وفد کی سب سے کم سن رکن تھی۔
میجر حسن امام کی زیست کے پرسکون تالاب میں وقت نے شکست کا پہلا پتھر اس وقت پھینکا‘ جب متحدہ پاکستان کی قومی ایئرلائن کے طیارے نے اپنے سینے پر ’’ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز‘‘ کے جلی حروف فخریہ انداز میں سجائے ہوئے ڈھاکہ ایئرپورٹ کے رن وے کو چھوا اور پھر مخصوص دھیمے انداز میں اپنے سفر کا اختتام کرتے ہوئے ٹرمنل کی بلڈنگ کے عین سامنے آن رُکا۔
میجر حسن امام چونکہ میزبان تھے‘ لہٰذا اس پرواز سے آنے والے وفد کو خوش آمدید کہنے کے لیے آگے بڑھے۔ طیارے کا دروازہ کھلا اور فرسٹ کلاس سے اترنے والے وفد میں شامل منزہ میر علی ان نگاہوں کا نصیب بن گئی‘ جن نگاہوں میں وطن سے محبت‘ وفاداری اور قربانی کا عزم نمایاں تو تھا‘ لیکن جو احترامِ انسانیت اور آدمیت کا درس دیتے ہوئے احتراماً جھک جانا بھی بخوبی جانتی تھیں۔
چنانچہ پہلی بھرپور نظر کے بعد… یہ نگاہیں بھی احتراماً جھک گئیں‘ شاید… یہ اعترافِ شکست تھا یا پھر اس جلوئے کی تابناکی؟ دھڑکتے دل نے فوری فیصلہ سنایا کہ ’’ بلاشبہ کچھ لوگ طلسماتی شخصیت کے حامل ہوتے ہیں۔ انہیں نظریں اٹھا کر دیکھتے چلے جانا کوئی آسان امر نہیں ہوتا۔‘‘ چنانچہ اس اعتراف شکست کا پہلا لمحہ تو حیرت کا تھا۔
لیکن دوسرا لمحہ اپنی بے پناہ جرأت اور عزم کے ساتھ سامنے آیا‘ جبکہ لائونج کے اندرونی دروازے سے باہر آتے ہوئے انہوں نے بالکل غیر ارادی طور پر اپنا ہاتھ منزہ علی کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’ لایئے اپنا یہ بیگ مجھے دے دیجئے۔‘‘
منزہ میر علی چلتے چلتے رُک گئی۔ اس نے ایک نظر میجر حسن امام پرڈالی اور پھر نہایت لاپروائی سے جواباً کہا۔
’’ شکریہ! میں اپنا بوجھ خود اٹھانا جانتی ہوں۔‘‘
اس لمحے میجر حسن امام چھ فٹ دو انچ قد کے باوجود سکڑ کر بالشت بھر کا رہ گیا۔ اگرچہ یہ تیکھا جواب مزید کسی تیکھے جواب کا متقاضی تھا‘ لیکن دیگر اراکین وفد کی موجودگی میں خاموشی ہی بہتر تھی کہ مزید گفتگو کا سلسلہ ماحول کے علاوہ ان کی اپنی شخصیت پر بھی اثرانداز ہو سکتا تھا۔
ایئرپورٹ سے ڈھاکہ کے ڈی سی ہائوس تک راستہ طے کرتے ہوئے اپنی اس پیشکش کو صریحاً حماقت قرار دیتے ہوئے‘ اس نے کئی باتیں اپنے جسم کے اندر دھڑکتے ہوئے دل کو سنا ڈالیں‘ جو ہمیشہ انسان کو عقل و شعور کے خلاف چلنے پر آمادہ کرتا رہتا ہے اور انسانی دماغ کے مقابلے میں انتہائی کمزور ہونے کے باوجود بھی اپنے اور دماغ کے مابین جنگ میں ہمیشہ فتح حاصل کر لیتا ہے اور اب اس وقت بھی جبکہ تعارف کے ابتدائی مراحل طے ہو جانے کے بعد یہ حقیقت سامنے آ چکی تھی‘ کہ تاریخ جیسے اہم مضمون میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وطن عزیز کی


تاریخ لکھنے کا عزم رکھنے والی یہ خاتون اپنی فیلڈ میں ایک بہترین مقررہ ہونے کے باوجود اس وقت ایک خاموش طبع گھریلو لڑکی نظر آ رہی تھی۔
بہت مختلف انداز میں چائے کا کپ ہاتھ میں لیے وہ اس وفد کے سب سے سینئر رکن رفیق صدیقی صاحب سے کہہ رہی تھی۔
’’ مسائل کا حل صرف مذاکرات میں ملتا ہے سر! بڑی سے بڑی شورش اور انقلاب کو تلوار کے زور پر روکنے کا عزم کرنا نادانی ہے۔ زندہ قومیں عقلِ کل کا راستہ طے کرتے ہوئے مذاکرات سے مسائل حل کرنے پر یقین رکھتی ہیں۔ ہمیں بھی یقینا کھلے دل سے مذاکرات کے وسیلے کو قبول کر لینا چاہیے۔‘‘
اور پھر بنگال کی سرسراتی ہوئی ہوا نے حسن امام کے کان میں سرگوشی کی‘ ’’ یہ خاتون نہ صرف یہ کہ بذات خود بے حد حسین ہے‘ بلکہ اس کے خیالات بھی بہت خوب صورت ہیں۔‘‘
مکمل طور پر کلر بلائنڈ ہونے کے باوجود بھی… میجر حسن امام نے جان لیا کہ فیروزی اور نیلے رنگ کے کلر کمبینیشن میں خوب صورت امتزاج کا رنگ لیے ہوئے اس کا لباس اس پر سج رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ذہانت کی چمک تھی اور ملاحت کا رنگ لیے اس کا چہرہ چمک رہا تھا۔ اس وفد میں شامل دیگر خواتین کی نسبت اپنے سر پر باوقار انداز میں دوپٹہ اوڑھے ہوئے منزہ میر علی واقعی بے حد خوب صورت دکھائی دے رہی تھی۔
بنگال کی بھیگی ہوائیں ڈی سی ہائوس کے سبزہ زار پر لگے اونچے درختوں کے اوپر سے سرسراتے ہوئے گزرنے لگیں۔ بوندوں کی آواز نے مدھم رم جھم کا انداز اپنا لیا اور جب رات کا سماں ڈھاکہ شہر پر چھانے لگا‘ تو میجر حسن امام کے دل نے ایک فیصلہ کر لیا۔ منزہ میر علی کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کا فیصلہ‘ حالانکہ یہ صریحاً نادانی تھی اور ایک طرح کا پاگل پن بھی کہ اجنبیت کی اونچی دیواریں حائل ہونے کے باوجود بھی اب یہ انہونی سوچ سامنے آ چکی تھی‘ حالانکہ جب اس کا پوسٹنگ آرڈر لاہور سے ڈھاکہ کے لیے موصول ہوا‘ تو اماں دہائیاں دیتی رہ گئیں۔ ان کے آنسو فریادی تھے کہ وہ بھی ہر مشرقی ماں کی طرح حسن امام کے سر پر سہرا دیکھنے کی آرزو مند تھیں۔ انہوں نے اسے بہتیرا قائل کرنے کی کوشش کی۔ اپنی بھانجیوں‘ بھتیجیوں سے لے کر جملہ رشتہ داروں تک کی لڑکیوں کی تصاویر دکھا ڈالیں‘ مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا اور اس کی مشرقی پاکستان کے لیے روانگی کے دن قریب آ گئے۔ ڈھاکہ کی برستی برسات کے اس سمے کی طرح اماں کا دل بھی چلا چلا کر رویا‘ لیکن ان کے آنسوئوں کے جواب میں اس کا بھی جواب فقط یہی تھا۔
’’ نہیں… میری پیاری ماں! ابھی نہیں۔‘‘
’’ تو پھرکب؟‘‘ اماں بھی روایتی ماں ہونے کے ناطے باقاعدہ بحث پر آمادہ تھیں۔
’’ جوں ہی وہ مجھے نظر آئے گی‘ میں آپ کو اطلاع کر دوں گا۔‘‘ اس نے مشرقی پاکستان روانگی کے لیے بوریا بستر باندھتے ہوئے جواب دیا۔ چنانچہ تین بہنوں کے اس اکلوتے بھائی کی اتنی دور روانگی کا مرحلہ اس وقت تقریباً ایک دلخراش سانحہ بن گیا۔
جبکہ ایئرپورٹ تک پہنچتے پہنچتے اماں کے آنسو‘ اس کے جگری دوستوں کے جلوس میں سفر طے کرتے ہوئے باقاعدہ اس قسم کے روایتی دل سوز ’’ بین‘‘ کا رُخ اختیار کر گئے‘ جن میں سروں کے باقاعدہ تال میل کے ساتھ مستقبل قریب میں تقریبا پیش آنے والے ناگہانی حادثات اور بیتے ہوئے ناقابل برداشت دکھوں کی اطلاعات جملہ احباب کو پہنچائی جاتی ہیں۔
چنانچہ اماں کے بیان کردہ ’’ بین‘‘ اب اس امر کی باقاعدہ غمازی کر رہے تھے‘ جس کا تمام تر زور بیان کچھ اس طرح تھا کہ ’’ بہت ممکن ہے کہ اے جان مادر! تمہاری واپسی تک میں اس جہان کارزار سے من جانب دارِفانی کوچ کر چکی ہوں گی اور تمہارے سہرے کی کھلنے والی کلیوں کی دید کی حسرت لیے ہوئے میری آنکھیں بند ہو چکی ہوں گی۔‘‘
پھروہ… ان تمام بیان کردہ حقائق کی روشنی میں اپنی زندگی کا باب کچھ اس طرح بند کرنے کی دھمکی دینے لگیں کہ گاڑی کی اگلی نشست پر تشریف فرما عباس ماموں اکلوتی بہن کی جدائی کے احساس سے تھرا اٹھے اور اس درویش صفت انسان نے نہایت عاجزانہ لہجے میں کہا۔
’’ بہن جی! اپنے آپ کوبددعائیں نہ دیں‘ انشاء اللہ خیر ہو گی۔‘‘
’’ جس طرح اس کے باپ نے کچھ نہ دیکھا‘ میں بھی کچھ نہ دیکھوں گی۔‘‘ انہوں نے اپنے جاری کردہ بیانات کا گویا کہ آخری نکتہ بیان فرمایا۔
اب کی بار ان کے ساتھ بیٹھی ہوئی عارفہ نے قدرے غصے سے کہا۔ ’’ جب ابا جی کا انتقال ہوا تو بھائی کی عمر صرف بارہ سال تھی‘ اب اتنی کم عمری میں ان کے سر پر سہرا بھلا کس طرح سجایا جا سکتا تھا؟‘‘
اس سے قبل کہ اماں‘ عارفہ کو بھی کوئی کڑوا سا جواب دیتیں‘ گاڑی ایئرپورٹ کی حدود میں داخل ہو چکی تھی۔ پارکنگ کے اندر برآمدے تک یہ انکشاف ہوا کہ موصوف کی الوداعی رسومات کی ادائیگی میں ضرورت سے زیادہ وقت صرف کرنے کے باعث اب الوداعی مصافحہ اور معانقہ کا وقت باقی نہ بچا تھا۔ چنانچہ لاہور سے ڈھاکہ کے لیے فلائٹ تیار تھی۔ لہٰذا انہیں مناسب سلام


دعا کے بغیر ہی اس ہجوم میں گم ہونا پڑا جو مسافرت کے اس آغاز پر ان کا ہم سفر تھا۔
لہٰذا اماں لاہور میں ہی سراپا انتظار رہیں اور بے شمار آرزوئوں اور حسرتوں کے جلو میں عزیزم حسن امام ڈھاکہ سدھار گئے۔
جب مغربی پاکستان میں ان کی واپسی کی آس لگائے ہوئے اماں کی مایوسی آخری حدوں کو چھونے لگی تو بھاگتے شب وروز میں سخت ترین ڈیوٹی کی ٹینشن سے قطع نظر ایک دل کش ماحول میں میجر حسن امام کو گوہر مراد نصیب ہو گیا‘ لیکن اب ایک اہم سوال سامنے تھا۔ اس گوہر مراد تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کوئی مناسب وسیلہ تلاش کرنے کا‘ لیکن ان لمحوں میں قدرت مہربان تھی‘ جب ہی تو اس وفد کے سب سے سینئر رکن رفیق صدیقی صاحب نے دوران گفتگو اسے اپنے زمانے کی نہایت دیانت دار اور شریف النفس سرکاری افسر مرتضیٰ امام کے صاحبزادے کی حیثیت سے پہچان لیا اور اپنے برابر موجود منزہ میر علی سے اس کا تعارف کرواتے ہوئے فرمایا۔
’’ ان سے ملیے‘ میرے محترم سینئر افسر مرحوم مرتضیٰ امام کے صاحبزادے‘ میجر حسن امام!‘‘
شناسائی کے اس پہلے پل پر یہ پہلا قدم تھا کہ اس کے بعد ڈی سی ہائوس سے ہوٹل روانگی کے وقت انہیں سکیورٹی ڈیوٹی کے عین مطابق اراکین وفد کو بحفاظت اس فائیو سٹار ہوٹل تک پہنچانے کے لیے ساتھ جانا تھا‘ جو ’’ انٹرکانٹی نینٹل‘‘ کہلاتا تھا۔ ہوٹل کی لابی سے تھرڈ فلور تک پہنچ کر جب حسن امام نے تنہا کمرے کی جانب رواں منزہ میر علی سے کہا۔
’’ آئیے میں آپ کو کمرے تک چھوڑ آتا ہوں۔‘‘
’’ شکریہ!‘‘ اس نے صاف کھردرے لہجے میں کہا۔
’’ آپ زحمت نہ کیجئے‘ میں اپنا راستہ خود طے کرنا جانتی ہوں۔‘‘
کمال کی خوداعتمادی تھی کہ بتیس سال تک کی عمر طے کرنے والا میجر حسن امام اپنی دراز قامتی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عاجزی کے مارے اپنے نادان دل کی پسند پر جھک کر رہ گیا اور بالکل خاموش اس سمت نگاہیں جمی رہیں‘ جس سمت جا کر اس کا وجود بند دروازے کے پیچھے روپوش ہوگیا تھا۔
باہر جھلملاتی ہوئی رات اب پرسکون تھی۔
ساون کے بادل بے تحاشا برسنے کے بعد اب خاموش تھے۔ فضا میں قدرے سکوت تھا۔ اس قدر سکون اور سناٹے میں بھی میس تک پہنچتے ہوئے اس کے دل و دماغ کے اندر ایک انقلاب برپا ہو چکا تھا۔
طلوع سحر کے آثار تھے۔ جب اس نے اماں کے نام ایک طویل خط لکھ کر اپنے گزشتہ ناکردہ گناہوں کی معافی طلب کی اور اپنی نام نہاد عزت اور سلامتی کا واسطہ دیتے ہوئے عظیم الشان اطلاع بہم پہنچائی کہ ’’ اب بفضل تعالیٰ پیرانہ سالی کی خارزار وادی میں داخل ہونے سے پہلے ہی الحمداللہ کہ انہیں گوہر مراد نصیب ہو گیا ہے۔ لہٰذا سہرے کے لیے کلیاں چننے کا اعلیٰ مرتبت کام شروع کر دیا جائے‘ کیونکہ وہ بذات خود (اس ضمن میں تمام تر معلومات اکٹھی کرنے کے بعد) بہت جلد ان کی خدمت اقدس میں حاضری دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘‘
یہ انتہائی اہم خط پوسٹ کرنے کے بعد جب وہ صبح دفتر تشریف لے گئے‘ تو معلوم ہوا کہ چند ناگزیر وجوہات کی بناء پر مغربی پاکستان سے آنے والا یہ وفد شیڈول کے برعکس اپنا دورہ مختصر کرتے ہوئے صبح چھ بیس کی پرواز سے واپس جا چکا ہے۔ وفد میں شامل بعض اراکین نے گزشتہ روز دی جانے والی بریفنگ میں بریگیڈیئر سراج کے بیان کردہ چند اہم نکات پر اپنے زبردست ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس امر کا فیصلہ کیا تھا۔
 تو گویا… گوہر مراد فقط ایک جھلک دکھلا کر دل و دماغ کے علاقے میں شورش برپا کرنے کے بعد پرواز کر چکا تھا اور اب پھر کارزار حیات میں ہر سو ویرانی ہی ویرانی تھی‘ جس کا سلسلہ کچھ اس طرح سے طویل ہوتا چلا گیا کہ سمے کے ہر ایک پل میں ایک ہی تصویر نظروں کے سامنے رہنے کے باعث جب عزیز میجر حسن امام کی کارکردگی کسی قدر متاثر ہونے لگی اور ایک بہترین تناسب کے ساتھ چلتا ہوا سلسلۂ حیات تقریباً الٹ پلٹ ہونے لگا۔
 تو عزیز از جان دوست میجر مصطفی نے دوستوں کی محفل میں انہیں اب باقاعدہ شادی شدہ ہو جانے کا مشورہ بالکل مفت عنایت فرمایا۔ ان کا نظریہ یہ تھا کہ ایسا انتہائی اہم عمل بروئے کار لانے کے بعد انسان بالکل صحیح معنوں میں بندے کا بچہ بن جاتا ہے۔ بیگم طنابیں کھینچ کر رکھتی ہے‘ تو زندگی کا سرکش گھوڑا قابو میں رہتا ہے اور کئی کام خودبخود سنور جاتے ہیں۔
چنانچہ انہوں نے نہایت رازدارانہ اندازمیں سرگوشی کرتے ہوئے کہا۔ ’’ اگر تو چاہے تو میں تیری خاطر یہاں کسی بھی بنگالی گھرانے میں بات چلا سکتا ہوں۔ یہاں میری بڑی واقفیت ہے یار!‘‘ انہوں نے گویا اطلاع بہم پہنچائی۔

of 48 
Go