Urdu Novels

Back | Home |  
وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے……نگہت سیما
اس کے میٹرک کے امتحان کا اختتام اور طیبہ پھوپھو کی آمد ایک ساتھ ہی ہوئی تھی۔ ادھر وہ آخری پرچہ دے کر گھر لوٹی‘ ادھر پھوپھو مع اپنے دو عدد صاحبزادگان کے آوارد ہوئیں۔ کاشف نے اسے جھنجھوڑ کر جگایا۔
’’اے اٹھو‘ بینو کی بچی‘ دیکھو تو کون آیا ہے۔‘‘
وہ پھر کروٹ بدل کر سو گئی۔
’’پھوپھو آئی ہیں۔‘‘
وہ اس کے کان میں چیخا‘ تو اس نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھول دیں۔
’’کیا مصیبت ہے کاشی‘ سونے دو نا۔‘‘
’’جناب پھوپھو آئی ہیں‘ ساتھ میں تیمور بھائی اور تنویر بھی ہیں‘ خوب مزا آئے گا۔‘‘
’’کیا خاک مزہ آئے گا۔‘‘ اس نے جل کر سوچا۔
’’وہ جو اس کا پندرہ روزہ سونے کا پروگرام تھا‘ وہ تو غارت ہوا نا‘ اب ظاہر ہے پھوپھو آئی ہیں نا تو۔‘‘
’’ہیں کیا کہا تم نے پھوپھو آئی ہیں۔‘‘
وہ اچھل کر بیٹھ گئی۔
’’یعنی طیبہ پھوپھو نا۔ اپنی سگی والی پھوپھو جان حید ر آباد سے آئی ہیں۔‘‘
’’جی… تو اتنی دیر سے کیا بک رہا ہوں۔‘‘
کاشف نے برا سا منہ بنایا۔  اسے یوں پھوپھو کی آمد کا سن کر کوئی نوٹس نہ لیتے دیکھ کر غصہ آ گیا تھا۔

’’دراصل میں نیند میں تھی نا‘ کچھ سمجھ ہی نہیں آیا۔ کب آئی ہیں پھپھو؟‘‘
اس نے ہاتھوں سے بالوں کو سمیٹ کر پیچھے کیا۔
’’بس ابھی کچھ دیر پہلے‘ لیکن جناب تو گھوڑے گدھے بیچ کر سو رہی تھیں۔‘‘
’’کیسی ہیں پھوپھو جان؟‘‘
اس نے اشتیاق سے پوچھا۔
’’بھئی جیسی پھوپھو جان ہوتی ہیں۔ شفیق، مہربان اور محبت کرنے والی۔ پہلے کتنی بار تو تمہیں بتا بھی چکا ہوں کہ ہماری پھوپھو جان بہت پیاری ہیں بہت اچھی۔‘‘
سیدہ طیبہ بیگم ابا کی اکلوتی بہن تھیں‘ لیکن چونکہ وہ سندھ کے کسی دور دوراز گائوں میں رہتی تھیں‘ اس لیے کم ہی آنا ہوتا تھا۔ اس کے ہوش میں صرف دوبار پھوپھو آئی تھیں۔ ایک بار جب وہ چھ سات کی تھی تب‘ اور ایک بار کوئی دو برس پہلے۔ پہلی بار تو وہ اتنی چھوٹی تھی کہ اسے کچھ یاد نہیں تھا‘ کہ کیسی پھوپھو کیسی تھیں۔ بس اتنا ہی ذہن میں تھا کہ پھوپھو اسے بہت پیار کرتی تھیں‘اور مزے مزے کی کہانیاں سناتی تھیں۔ اور اب جو دو برس پہلے وہ آئیں ‘تو وہ اور سمو آپا کرامت ماموں کے ہاں گئی ہوئی تھیں‘ اور کرامت ماموں کے ہاں اس کی طبیعت پر کتنا بار پڑتا تھا‘ لیکن سمو آپا بہت خوش رہتی تھیں۔ وہاںہیپی اور ڈیزی تو انہیں گھاس بھی نہ ڈالتی تھیں۔ اور وہ مون اور چاند کیسے عجیب لڑکے تھے‘ کہ ذرا اچھے نہ لگتے تھے‘ اسے، اور آنٹی گلناز اور بدر باجی دونوں کتنی اکڑی اکڑی رہتی تھیں‘ اور اسے تو کرامت ماموں کے ہاں جانے کے خیال سے ہی تپ چڑھ جاتا تھا۔ اور اب تو پھوپھو آ رہی تھیں‘ اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا‘ لیکن سمو آپا اسے زبردستی لے گئی تھیں۔ ابا نے منع بھی کیا تھا۔
’’تمہاری پھوپھو اتنے عرصے بعد آ رہی ہیں۔‘‘
لیکن وہ سمو آپا ہی کیا‘ جو کسی کی مان جائیں۔ کاشف پر تو ان کا زور نہیں چلتا تھا‘ لہٰذا اسے ہی گھسیٹ لے گئیں۔ اماں نے تاکید کی کہ جلدی لوٹ آنا۔
لیکن وہ اس وقت تک کرامت ماموں کے براجمان رہیں‘ جب تک پھوپھو واپس سندھ نہ لوٹ گئیں۔ دراصل سمو آپا کو اماں نے بڑے لاڈ سے پالا تھا۔ وہ ان سے سے پورے آٹھ برس چھوٹی تھی۔ اور کاشف اس سے ایک برس چھوٹا تھا۔ سو آٹھ برس تک تو تنہا ننھیال و ددھیال کے لاڈاٹھواتی رہیں‘ اور پھر اس کے آ جانے سے بھی ان کی اہمیت میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا تھا۔ وہ عام سی شکل و صورت کی تھی‘

جب کہ سمو آپا بے حد حسین تھیں۔ سو کچھ ناز حسن بھی تھا، کچھ طبیعت بھی ایسی تھی کہ کیسی کو خاطر میں نہ لاتی تھیں۔ اور پھوپھو سے یوں چڑتھی کہ ایک بار کہیں انہوں نے ان کو بہو بنانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔حالانکہ تیمور سمو آپا سے پورے دو برس چھوٹے تھے۔ لیکن پھوپھو کا خیال تھا اپنوں میں برس دو برس کی چھوٹائی بڑائی کیا۔ سو اس لیے پھوپھو اب تک زیر عتاب تھیں۔ حالانکہ اس روز کے بعد انہوں نے پھر اس بات کا ذکر نہیں کیا تھا۔ شاید زینت آرا کی نظر پہچان گئی تھیں۔
’’اچھا بھئی میں تو چلا، تم آ جانا۔ ادھر سب بڑے کمرے میں ہیں۔‘‘
کاشف نے جاتے جاتے کہا۔
تو وہ اٹھی اور جلدی جلدی منہ پر پانی کی چھینٹے مارے‘ کیونکہ آنکھیں بند ہوئی جا رہی تھیں‘ اور کاشف کے پیچھے ہی بڑے کمرے کی طرف لپکی۔ دروازے پر رک کر لمحہ بھر کے لیے اس نے کمرے کا جائزہ لیا۔
سمو آپا کے سوا سب ہی موجود تھے۔ پھوپھو نیچے قالین پر پاندان سامنے رکھے بیٹھی تھیں۔ ابا بھی ان کے قریب ہی بیٹھے تھے‘ اور ان کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور پورا چہرہ روشن روشن لگ رہا تھا اور ایک شریر بھوری آنکھوں والا لڑکا کاشف ان کے پا س کھڑا تھا۔ اور زینت آرا بیگم بھی پھوپھو سے ذرا ہٹ کر خاموش بیٹھی تھیں۔ کاشف کی تنویر کے ساتھ بہت بنتی تھی۔ ابا جب بھی پھوپھو سے ملنے سندھ گئے، اسے ساتھ لے گئے تھے۔ کاشف نے ہی پھوپھو کی اور تنویر کی تعریفیں کر کے اسے مشتاق بنا ڈالا تھا۔
’’ارے مینو بیٹی آ جائو نا۔ وہاں کیوں کھڑی ہو گئی ہو۔ دیکھو تمہاری پھوپھو آئی بیٹھی ہیں۔‘‘
ابا نے اسے کھڑے دیکھ کر پکارا‘ تو وہ جھجکتے ہوئے آگے بڑھی۔
’’ارے میری بچی‘ میری مینو۔‘‘
پھوپھو نے اسے گلے لگا کر خوب بھینچ کر پیار کیا۔ ایک وہ اماں کی رشتہ دار ہیں گلے بھی ملیں گی‘ تو یوں جیسے انہیں خطرہ ہو کہ جراثیم چمٹ جائیں گے۔ امینہ نے سوچا۔ پھوپھو مسلسل اسے پیار سے دیکھ رہی تھیں۔
of 32 
Go