Urdu Novels

Back | Home |  

یہ چاہتیں یہ شدتیں……………سمیرا شریف طور

تولیے سے چہرہ صاف کرتے سمعان احمد نے کمرے میں قدم رکھا تھا۔
’’تم بھی بے وقت آ ٹپکے ہو… اب بھلا یہ تُک ہے کہ تمہارے ساتھ میں بھی اس حالت میں خوار ہوں۔‘‘ سمعان کا انداز خفت لیے ہوئے تھا مگر ظفر کی جانب سے کسی بھی قسم کا رسپانس نہ ملنے پر سمعان احمد نے تولیہ ہٹا کر دیکھا تو ایک لمحے کو سمعان احمد کو اپنے حواس یکجا کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ لمحے کے ہزارویں حصے میں اس کا دل کئی بار دھڑک اٹھا تھا۔
’’یہ… یہ… یہ کیا کر رہے ہو…؟‘‘ ایک دم حواس میں لوٹتے ہی کچھ شرمندہ سا ہوتے ہوئے کہا۔ سمعان احمد نے جھنجلا کر تولیہ صوفے پر پھینک کر ظفر کی جانب پیش قدمی کی تھی جو اس کی طرف معنی خیز نظریں لیے مسکرا رہا تھا۔
’’وہی جو تمہیں نظر آ رہا ہے۔‘‘ ظفر کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی۔ سمعان احمد مزید سٹپٹا اٹھا۔ ’’مجھے پتا ہی نہیں تھا کہ سمعان احمد جیسا گھنا بھی محبت جیسا کارنامہ سرانجام دے سکتا ہے۔‘‘
’’بکومت… ادھر دو مجھے۔‘‘ سمعان احمد نے خجالت کا تاثر مٹاتے ہوئے ظفر کے ہاتھ سے اپنی گرے کلر کی ڈائری چھیننے کی کوشش کی تھی مگر ظفر اس کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے اچھل کر پیچھے ہٹ گیا۔ سمعان خونخوار نظروں سے گھورتا رہ گیا تھا۔
’’چھپایا تھا دل میں اسے مگر عیاں ٹھہرا
سکون دل جسے سمجھے وہی دردِ نہاں ٹھہرا‘‘
سمعان احمد نے سختی سے لب بھینچ لیے جب کہ وہ بڑے خاص انداز میں گنگنا رہا تھا بلکہ سمعان احمد کو چڑا رہا تھا۔
سمعان احمد کو اس لمحے پچھتاوے نے آ گھیرا جب وہ اس ڈائری کو سرہانے تلے رکھ کر بھول گیا تھا۔ آج طبیعت بھی کچھ مضمحل سی ہو رہی تھی۔ اوپر سے ظفر کا فون آ گیا تھا۔ سمعان احمد نے سرسری سا ذکر کر دیا تھا اور اگلے گھنٹے میں وہ یہاں تھا۔
ظفر کی شگفتہ باتوں سے سمعان احمد کی طبیعت کی ساری کلفت ختم ہو چکی تھی۔ دونوں کا ارادہ باہر آئوٹنگ کا تھا اس لیے سمعان احمد باتھ لینے چلا گیا تھا۔و اپس لوٹا تو سامنے یہ معاملہ درپیش تھا۔
’’ظفر! میں کہہ رہا ہوں شرافت کے ساتھ اسے مجھے دے دو۔‘‘ سمعان احمد نے اتنہائی ضبط سے ڈاکٹر ظفر کی آنکھوں سے چھلکتی عیاں ہوتی شرارت کو برداشت کیا تھا مگر ادھر تو سرے سے پرواہ ہی نہ تھی۔
’’متاعِ زیست اب تو خاکِ راہِ دلبراں سی ہے
وہ جس کا نام جپتے تھے نہ جانے وہ کہاں ٹھہرا‘‘
ڈاکٹر ظفر ڈائری کھولے مسلسل شرارت پر آمادہ تھا۔ انتہائی کول مائنڈ سمعان احمد کا اس لمحے جی چاہاکہ بیڈ کی سائیڈ ٹیبل کا گلدان اٹھا کر ظفر کے سر پر دے مارے۔
’’ظفر! تم نے سنا نہیں میں کیا کہہ رہا ہوں؟‘‘ اب کے سمعان احمد نے بھنا کر اس کی جانب قدم بڑھائے تھے۔ اس سے پہلے کہ وہ اس تک پہنچتا‘ ظفر نے چھلانگ لگا کر ڈریسنگ کی دوسری طرف رکھے صوفے پر جگہ بنالی تھی۔
’’وہ قصہ ہر شب غم کا‘ جو تھا تحریر طاقوں پر 
ہے دورشمع پر نم‘ کہ آہوں کا دھواں ٹھہرا‘‘
’’ظفری…‘‘ سمعان احمد نے بیڈ سے کشن اٹھا کر اسے دے مارا۔
مگر ادھر تو کان پر جوں تک نہ رینگی تھی۔
’’سدا بھٹکا لیے لیکن مسافت میں نہ فرق آیا
وہیں تھیں منزلیں اپنی ترا پر تو جہاں ٹھہرا
تہی دان تو تھے ہی مگر یہ بھی کیا عالم ہے
نہ ٹھہرا شک ہی آنکھوں میں‘ نہ رخصت کا سما ں ٹھہرا‘‘
سمعان احمد اسے کینہ توز نظروں سے سردھنتے دیکھ رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ سمعان دوبارہ اس کی جانب پیش قدمی کرتا وہ اچھل کر بیڈ پر جا کھڑا ہوا تھا۔ ہاتھ اونچے کیے سمعان کی پہنچ سے دور تھا۔
’’کرم جس کا بہانہ تھا جبین کا جو ٹھکانا تھا
وہ رنگ آسمان ٹھہرا‘ نہ سنگِ آستاں ٹھہرا‘‘
’’ظفر! تم بہت کمینے انسان ہو…‘‘ سمعان احمد کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ اسے کچا نگل لیتا۔

 

’’وہ جب بھی بات کرتاہے عجب مبہم سی ہوتی ہے
اب اس کی بات کیا کریں سدا کا بدگمان ٹھہرا
بہت دلکش تھا خاورؔ سراپا حسن کا جلوہ
کہ ہر اندازِ رعنائی میرا زورِ بیان ٹھہرا‘‘
سمعان احمد نے ایک ہی جست میں اس تک پہنچتے ہی اس کے ہاتھ سے ڈائری چھین لی۔
’’ارے… رے… یار… پڑھنے تو دو… تمہاری داستانِ عشق‘ رودادِ محبت… دردِ الفت… بلکہ تمہارا زرش نامہ۔‘‘ اس نے آنکھ میچی تھی۔ سمعان احمد کا جی چاہا کہ اس کی گردن دبوچ لے۔
وہ اب نان اسٹاپ بولنا شروع ہو گیا تھا۔ سمعان احمد نے ڈائری سائیڈ ٹیبل کی دراز میں رکھ کر لاک کر کے چابی اپنی پاکٹ میں ڈال کر اس کی جانب رخ کیا۔
’’تمہیں شرم آنی چاہے ظفر اس طرح کسی کے ذاتی معاملات میں دخل اندازی کرتے ہوئے۔‘‘
سمعان احمد کی آنکھوں میں واضح خفگی تھی بلکہ شرم دلا رہا تھا۔ یوں اپنا آپ عیاں ہونے پر ہلکی سی خفت بھی تھی۔
چہرہ کچھ سرخی لیے ہوئے تھا۔ڈاکٹر ظفر اس کی بات پر ایک دم قہقہہ لگا کر ہنس دیا تھا۔سمعان کا یہ روپ اسے مزید شرارت پر اکسا رہا تھا۔
’’شرم تو تمہیں آنی چاہیے۔ مجھ سے یوں پردہ پوشی کرنے پر… بلکہ زرش کا نام چھپانے پر میں نے تو یوں ہی کمر سیدھی کرنے کو تکیہ اٹھایا تھا۔ کیا پتا تھا اس ڈائری میں تمہاری داستانِ عشق رقم ہے۔ تم نے آدھا گھنٹہ باتھ لینے میں لگایا ہے اور میں نے چیدہ چیدہ اسے پڑھنے میں…‘‘وہ مسکرا کر اپنا کارنامہ بتا رہا تھا۔سمعان احمد نے اپنی خجالت مٹانے کو اس پر کشنز کی بھرمار کر دی تھا۔ وہ خود کو سینت سینت کر رکھنے والا بندہ تھا مگر اب…
’’بہت غلط حرکت کی۔ تم نے اگر یہ ڈائری اٹھا ہی لی تھی تو پڑھنے کی کیا ضرورت تھی…؟‘‘ اپنی خجالت پر وہ خود ہی شرمندہ ہو رہا تھا۔
’’زرش اچھی لڑکی ہے… معصوم سی‘ کیوٹ سی مگر…‘‘ اس کی بات کو قطعی نظرانداز کیے وہ اپنی ہانک رہا تھا۔ سمعان احمد نے اسے شکایتی نظروں سے دیکھا۔
’’ظفر!‘‘ وہ گھور کر رہ گیا تو وہ ہنس دیا۔
’’ایسے تو اب مت دیکھو… میں زرش نہیں ہوں۔‘‘ آنکھ دبا کر وہ کہہ رہا تھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی سمعان احمد کے لبوں پر ایک دھیمی مسکان آ ٹھہری تھی پھر وہ خود ہی کہنے لگا۔
’’میں خود بہت الجھا ہوا تھا… بلکہ میں خود تم سے یہ سب ڈسکس کرنا چاہتا تھا لیکن اس سے پہلے ہی یہ سب ہو گیا…‘‘ اپنی خفت کو ایک طرف ڈال کر سمعان احمد نے خود کو نارمل کیا۔ ظفر بھی ہنس دیا پھر ایک دم وہ سنجیدہ ہو گیا تھا۔
’’ایک بات کہوں…؟‘‘ سمعان احمد نے جو آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے بال سنوارنے لگا تھا۔ اس کی بات پر پلٹ کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
’’زرش بہت کم عمر ہے… تم دونوں میں عمر کا فرق زیادہ ہے۔ وہ لاابالی سی ہے اور پھر تمہاری امی، کیا وہ مان جائیں گی؟‘‘ وہ ایک مخلص دوست کی طرح مکمل طور پر سنجیدہ تھا۔ سمعان احمد نے برش ڈریسنگ پر رکھ کر اس کے قریب بیڈ پر جگہ پکڑی۔
’’ظفر! میں خود بہت پریشان ہوں… امی کسی بھی طرح چچا جان وغیرہ کی فیملی کا نام تک سننے کو تیار نہیں۔ برسوں کی چھوٹی موٹی چپقلش کو انہوں نے اپنی انا کا مسئلہ بنایا ہوا ہے۔ اب تو وہ زرش کو اپنے گھر تک میں برداشت کرنے کی روادار نہیں ہیں…‘‘ سمعان احمد کو ایک مخلص وپرخلوص دوست کی ضرورت تھی۔ اس کے دل کی حالت سے تو وہ کب کا باخبر تھا مگر زرش سے متعلق قطعی طور پر بے خبر تھا اور اب جب کہ اسے حقیقت سے آگاہی ملی تھی تو سمعان احمد نے اس کے سامنے اپنے دل کا درد کھول کر رکھ دیا تھا پھر اب چھپانے کا فائدہ بھی نہیں تھا۔
’’واقعی… زرش کیا ساری صورت حال سے باخبر ہے؟‘‘ پرسوچ انداز میں اس نے سمعان احمد کا چہرہ دیکھا جہاں عجب موسم رقم تھا۔
خوشی بھی… اور دل سوزی بھی۔
’’نہیں۔‘‘ اپنے بالوں کو سمیٹتے سمعان احمد نے ایک گہری سانس خارج کی تھی۔
’’اور میں چاہتا بھی نہیں ہوں کہ اسے کچھ علم ہو… اس وقت تک تو بالکل نہیں جب تک امی راضی نہ ہو جائیں اور اگر امی کو علم ہو گیا کہ زرش کے متعلق میرے محسوسات اس نوعیت کے ہیں تو وہ زمین وآسمان ایک کر دیں گی… کبھی نہیں مانیں گی… کبھی بھی نہیں… میں چاہتا ہوں کہ یہ سب کچھ اس طرح ہو کہ امی خود اپنی دلی آمادگی ورغبت سے نئے تعلقات کی ابتدا کریں۔‘‘ سمعان نے گزشتہ چند دنوں کی اندرونی پریشانی ایک دم ظفر کے سامنے لا رکھی تھی۔
’’ہوں… جس طرح کے تم لوگوں کے خاندانی حالات میں رنجشیں ہیں اس میں تو آنٹی کو اپنی پرانی تمام رنجشیں مٹا کر خود پیش رفت کرنا ہو گی۔‘‘ وہ بھی نہایت سنجیدگی کے ساتھ تبصرہ کر رہا تھا۔ سمعان احمد نے بغور دیکھا۔ اس کے چہرے پر سے چندلمحے والی شرارت کا عکس ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملا تھا۔ سمعان کے ہونٹوں پر ایک دھیمی مسکان سرایت کرتی گئی۔
’’چھوڑو یار اس ٹاپک کو… جتنا بھی اسے سوچیں گے ذہنی انتشار کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ فی الحال تو تم مجھے آئوٹنگ کے لیے لے کر جانے والے تھے۔‘‘ سمعان احمد نے فوراً موضوع بدلا 

 

تھا۔ وہ خود بھی اس ٹاپک پر مزید گفتگو کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔ ظفر نے اسے دیکھا اس کے چہرے پر ایک دم شرارت کا عکس لہرایا تھا۔
’’عشق نے نکما کر دیا ظفر
ورنہ سمعان احمد بھی آدمی تھا بڑے کام کا‘‘
سمعان احمد نے ایک دم قہقہہ لگایا۔ ظفر نے اچھا خاصا شعر برباد کر دیا تھا۔
’’ویسے یار تمہیں زرش کا نام چھپانے پر میں قطعی معاف نہیں کروں گا۔‘‘ سمعان احمد نے بمشکل اپنی مسکراہٹ کو روکا۔
’’مثلاً کیا کرو گے؟‘‘ سمعان احمد مکمل طور پر تھوڑی دیر والی کیفیت سے باہر آنا چاہتا تھا۔
’’مثلاً یہ کروں گا کہ یہ سارے کشنز تمہیں دے ماروں گا اور اس کے بعد اچھی سی چائے پیئوں گا اور بعد میں تمہیں لے کر آئوٹنگ پر جائوں گا اور تم نے چائے کا جو آرڈر دیا تھا وہ کہاں ہے…؟‘‘
ڈاکٹر ظفر نے واقعی بیڈ پر بکھرے سارے کشنز ایک ایک کر کے سمعان احمد پر اچھالنے شروع کر دیے تھے۔
’’ارے… رے… رے… یہ کیا کر رہے ہو تم… انسان بنو… ڈاکٹر ہو مگر حرکتیں دیکھو اپنی…‘‘ سمعان احمد ادھر ادھر ہو کر اپنا بچائو کر رہا تھا مگر ظفر باز نہ آیا تو اس نے بجائے ادھرادھر بھاگنے کے زمین پر بکھرے کشنز اٹھا کر اسے مارنے شروع کر دیے تھے۔ ایک دم ہی کمرے میں کشنزبکھر گئے تھے۔
’’چائے کا میں نے صغریٰ کو پیغام دے دیا تھا۔ فرح نے تیار کروا لی ہو گی… تم بیٹھو میں دیکھتا ہوں۔‘‘ سارے کشنز ظفر پر اچھال کر سمعان احمد دروازے کی طرف بڑھا۔ اس سے پہلے کہ وہ دروازہ کھولتا‘ آنے والا چائے کی ٹرالی لوازمات سے سجائے دروازہ دھکیل کر کمرے میں داخل ہو گیا تھا۔ سمعان احمد جہاں تھا وہیں کھڑا رہ گیا۔
سمعان احمد اسے آج پورے چار دن بعد دیکھ رہا تھا۔
چار دن پہلے جب وہ ان کے ہاں سے گئی تھی تو کس قدر اداس،مضمحل اور دلگرفتہ تھی اور اب… چہرہ بالکل بے ریا تھا۔ چار دن پہلے امی اور زرش کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی کا شائبہ تک نہ تھا۔ شگفتہ تروتازہ چاندنی کی طرح روشن چہرہ لیے اپنی شہد رنگ آنکھوں کے دمکتے ہیرے لیے اس کے سامنے تھی۔
چار دن سے وہ امی اور اس کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی کو سوچ سوچ کر سخت پشیمان ہو رہا تھا اور وہ تھی کہ…
’’السلام علیکم…‘‘ زرش سعود احمد نے اسے ایک دم تصورات کی دنیا سے باہر لا پٹخا تھا۔ سمعان احمد ایک دم جھینپ کر سیدھا ہوا۔ سر کے اشارے سے اس کے سلام کا جواب دے کر رخ موڑا تو ظفر کو شریر نظروں سے اپنی جانب دیکھتا پا کر خجل ہو گیا۔
’’ارے زرش آئی ہیں۔ کیسی ہیں زرش آپ…؟‘‘ سمعان احمد کو شرارتی نظروں سے تاڑتے وہ زرش کی طرف مکمل طور پر متوجہ ہو گیا تھا۔
’’میں بالکل ٹھیک ہوں… آپ کیسے ہیں…؟‘‘ وہ چائے کے لوازمات سے سجی ٹرالی اندر لا چکی تھی۔ آرام سے ٹرالی سیٹ کر کے وہ چائے کے لوازمات ٹیبل پر سجانے لگی تھی۔
’’میں تو بالکل ٹھیک ہوں… البتہ…‘‘ ظفر نے کن انکھیوں سے جھینپتے ہوئے سمعان احمد کو دیکھا۔ سمعان احمد اس کے ’’البتہ‘‘ پر سٹپٹا اٹھا۔ نجانے اب کیا کہہ دے۔
’’ظفر…‘‘ اس نے تنبیہی پکارا تھا۔ وہ کھل کر ہنس دیا۔ زرش نے ناسمجھی میں دونوں کو دیکھا اور پھر کمرے کی حالت کو… جہاں جابجا کشنز بکھرے ہوئے تھے۔ بستر پر‘ قالین پر‘ صوفوں پر… ورنہ سمعان احمد کا کمرہ تو بہت نفاست سے ٹپ ٹاپ ہوتا تھا مگر… اردگرد دیکھتے ہوئے اس کی نظر سمعان احمد پر آ ٹکی تو اسے یاد آیا کہ وہ آج یہاں کیوں آئی ہے؟
’’سمعان بھائی! آپ کی طبیعت کیسی ہے اب؟‘‘ انتہائی سادہ انداز میں وہ پوچھ رہی تھی۔ سمعان احمد صوفے پر بیٹھتے ہوئے ٹھٹکا تو ظفر کھنکارا۔
’’کیوں میری طبیعت کو کیا ہوا ہے؟ـ‘‘ زرش کے استفسار پر ظفر کھانسنے لگا۔ اسے نظرانداز کر کے سمعان احمد نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
’’وہ صبح کالج میں فرحی ذکر کر رہی تھی کہ رات آپ کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔ میں نے گھر جا کر مما کو بتایا تو انہوں نے سختی سے تاکید کی کہ میں پوچھ آئوں۔ آدھا گھنٹہ ہو گیا ہے مجھے آئے ہوئے۔ فرح چائے بنا رہی تھی۔ ابھی ایک دوست کی کال آ گئی تھی۔ مجھے چائے دے کر اس نے کمرے میں بھیج دیا تھا۔‘‘ سادگی سے مگوں میں چائے انڈیلتے ہوئے اس نے بتایا تھا۔ سمعان احمد کی نظریں اس کے سراپے میں الجھنے لگیں۔ ظفر کی موجودگی کا خیال کر کے سمعان احمد نے اپنی نظروں کا زاویہ بدل دیا۔
’’کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ رات بس سر میں ہلکا سا درد تھا۔ اسی وجہ سے فرحی پریشان ہو گئی۔ بلاوجہ تم لوگوں کو بھی پریشان کیا۔ پاگل ہے وہ پوری…‘‘ سمعان احمد نے ہنس کر ٹالا تھا۔
’’پاگل نہیں ہے۔ وہ بتا رہی تھی آپ آج کل کچھ پریشان رہنے لگے ہیں اور تو اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑنے بھی لگے ہیں۔ کسی چیز کی ٹینشن لے رہے ہیں۔ مما بھی یہی کہہ رہی تھیں اور علی بھی جب کہ میں خود بھی یہی محسوس کر رہی ہوں۔ آپ بدلنے لگے ہیں… کچھ بات ہے ضرور جو ہمیں نہیں بتائیں گے۔‘‘ چائے کا مگ ظفر کو دے کر اس کی جانب بھی مگ بڑھائے بہت اپنائیت اور محبت وخلوص سے وہ پوچھ رہی تھی۔ سمعان احمد نے حیرت سے اسے دیکھا۔
وہ اپنے اندر کی جنگ تو خود لڑ رہا تھا اور پھر ان لوگوں کی کیسے خبر ہو گئی کہ…؟
’’دھوکا ہے تم لوگوں کا… مجھے کوئی ٹینشن نہیں۔‘‘ شہد جیسی ہیروں کی طرح دمکتی صاف وشفاف آنکھوں سے خلوص واپنائیت سے نظر چرا کر اس نے کہا تھا۔
of 36 
Go