Urdu Novels

Back | Home |  
یہ جو تمہارا میرا رشتہ ہے۔۔۔۔۔سعدیہ امل کاشف

’’مبارک ہو‘ آپ کے لئے خوشخبری ہے۔‘‘ ڈاکٹر ثانیہ کے الفاظ نے روشین کے کانوں میں گویا ایک رس گھولا تھا۔ خوشی اور مسرت کا اک خوبصورت احساس گہرائی سے اس کے رگ رگ میں اترا تھا۔ وہ اندر ہی اندر فرطِ مسرت سے جھومنے لگی تھی۔ شادی کے سات سال بعد اس جملے کو سن پائی تھی‘ جس کو سننے کی خاطر اس کی سماعتیں ترس گئی تھیں۔ اس نے نہ صرف اس جملے کو سنا تھا‘ بلکہ دل کی گہرائی سے محسوس کیا تھا‘ ساتھ ہی کرسی پہ بیٹھے ہوئے راحیل کے ہونٹوں پر بھی حیرت بھری مسکراہٹ آ گئی تھی۔
’’کیا ہو گیا ہے بھائی! اتنی بڑی خبر پہ اتنا عام سا رسپانس‘ یہ وہ خبر ہے کہ جس کا انتظار تم دونوں نے کئی سالوں سے کیا ہے۔‘‘ ڈاکٹر ثانیہ ان کی خاموشی پہ حیران تھیں۔
’’پہلے مجھے یقین دلا دو ثانیہ کہ یہ خبر حقیقت ہے‘ مجھے یقین نہیں آ رہا۔‘‘ روشین کی آنکھیں نمی سے جھلملا رہی تھیں۔
’’یہ میں نہیں کہہ رہی‘ یہ تمہاری رپورٹس کہہ رہی ہیں۔ اگر زیادہ بے یقینی ہے‘ تو آئو میں تمہارا سکین بھی کیے دیتی ہوں۔‘‘ ثانیہ نے مسکرا کے کہا‘ اور روشین چہرے کے اوپر اپنا ہاتھ رکھے آہستہ آہستہ رونے لگی۔ بعض اوقات خوشی بھی آنسوئوں کو ساتھ لئے آتی ہے‘ رونے کے علاوہ خوش ہونے کا کوئی اور طریقہ نظر نہیں آتا۔
’’آپ تو جانتی ہی ہیں ڈاکٹر ثانیہ! کہ ہم نے اولاد کے حصول کے لئے کیا کچھ نہیں کیا‘ سات سال کا اک طویل عرصہ اس انتظار میں گزر گیا‘ اور اب کہ جب ہم نے ہر کوشش چھوڑ دی‘ جب ہم ہار مان گئے تو قدرت نے ہمیں نواز دیا۔‘‘ راحیل بھی اسی بے یقینی کے زیر ِاثر بولا۔
’’یہی تو اللہ کی ذات ہے راحیل بھائی! یہی تو اس کی قدرت ہے‘ کہ وہ ہاں سے دیتا ہے دکھاتا ہے‘ جہاں پہ عقل دنگ رہ جاتی ہے‘ اور وہ وہاں سے نوازتا ہے‘ جہاں پہ ہر امید دم توڑ چکی ہوتی ہے۔ اس کی قدرت کمال ہے‘ اور اس کا کرم بے حساب۔‘‘ ثانیہ نے کہا۔ راحیل اور روشین دونوں نے اسے تسلیم کیا۔ ثانیہ اپنی کرسی سے اٹھی اور روشین کے پاس آئی۔
’’اولاد نہ دینا اس کی آزمائش تھی‘ اور تم دونوں اس آزمائش میں پورا اترے ہو‘ اور اب اس کی طرف سے یہ تحفہ تمہارے لئے انعام ہے روشین! اپنا اور اس کا خیال رکھو‘ اور اللہ کا بے پناہ شکریہ ادا کرو‘ کہ تم لوگ اس کی طرف سے نوازے گئے ہو۔‘‘
’’کوئی خطرے کی بات تو نہیں ہے ناں۔‘‘ وہ ثانیہ کی طرف اپنائیت بھری آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔
’’کوئی خطرے کی بات نہیں‘ میں کچھ دوائیاں لکھ دیتی ہوں‘ روزانہ ان کا استعمال کرنا‘ اچھی غذا لینا‘ اور جی بھر کے آرام کرنا۔ حمل کوئی بیماری نہیں ہوتی۔ ان دنوں میں بھی عورت بھرپور زندگی گزار سکتی ہے۔ تم اس عرصے کو مکمل طور پہ انجوائے کرو اور اپنے ہر ہر احساس کو ایک اچھی ماں کے طور پر ڈائری میں قلمبند کرو۔ میں جانتی ہوں کہ میری دوست ایک بہت اچھی افسانہ نویس ہے۔‘‘ ثانیہ اپنے پیڈ پہ دوائیاں لکھتے ہوئے بولی‘ اور پھر دوائیوں کا پرچہ انہیں پکڑا دیا۔ وہ دونوں جانے کے لئے اٹھے۔
’’بس کوئی وزن مت اٹھانا‘ اپنا کمرہ اوپر سے نیچے شفٹ کر لو‘ بار بار سیڑھیاں چڑھنے سے گریز کرنا‘ اور گھر کا کام بھی احتیاط سے کرنا۔‘‘ ثانیہ بحیثیت ایک ڈاکٹر کے اسے ہدایات دیتی رہی۔ ثانیہ اور روشین بیس سال پرانی سہیلیاں تھیں۔ دونوں نے انٹر تک ایک ساتھ پڑھا‘ پھر ثانیہ نے میڈیکل کی تعلیم کا آغاز کیا‘ اور روشین کی کم عمری میں شادی ہو گئی‘ لیکن دوریاں ان کی دوستی میں فرق نہ لا سکیں۔
دورانِ تعلیم بھی ثانیہ نے روشین کے لئے اپنا وقت نکالا‘ اور اسے لے کر کئی ڈاکٹرز کے پاس آئی‘ لیکن آٹھ سال تک اسے کوئی اولاد نہیں ہوئی‘ اور اب جبکہ وہ توقع ہی چھوڑ بیٹھی تھی‘ تب اسے اللہ نے نوازنے کی ٹھان لی تھی۔ راحیل اور روشین دل سے بہت خوش تھے۔

…٭٭٭…

’’نجانے تمہاری طرف سے کب کوئی خوشخبری سننے کو ملے گی؟ کب ہمارے کانوں کو شہنائیوں کی آواز سننے کو ملے گی؟ ہمارے تو کان ترس گئے ہیں۔‘‘ فاطمہ نے چائے کا کپ اس کی طرف بڑھایا۔ وہ جو عدنان کے ساتھ مل کر شطرنج کھیلنے میں مصروف تھا‘ مسکرا دیا۔
’’ایک تو تم نے اور عدنان نے جلدی جلدی شادی کر کے بچے پیدا کر لئے‘ اور مجھے بوڑھا دکھانے کے لئے تم دونوں نے ہر ممکن کوشش کی‘ اور اب بھی میری آزادی تم دونوں سے برداشت نہیں ہوتی۔‘‘ عادل نے جوابی وار کیا۔
’’میں نے تو سمجھداری کی ہے یار! یونیورسٹی کا سب سے چمکدار روشن ستارہ گھر لے آیا‘ اور اللہ کا شکر ہے کہ دو پالے پالے بچے بھی ہو گئے۔‘‘ عدنان نے گول مٹول سے اذین کو اٹھا کے اپنی گود میں لیا‘ اور اس کے گال کی ایک بھرپور پپی لی۔ اس کے پیار بھرے کمنٹس پہ فاطمہ مسکرا دی۔
’’میرے لئے بھی کوئی دھندلا سا ہی سہی ستارہ تلاش تو کر لیتے‘ آج اس طرح تمہیں اور فاطمہ کو فکر تو نہ کھائے جاتی‘ میرے کنوارے رہ جانے کی۔‘‘ اس نے شطرنج کی چال چلتے ہوئے کہا۔

’’عدنان اس کی باتوں پہ یقین مت کیجئے گا‘ اوّل نمبر کا جھوٹا ہے یہ‘ مجھے پتہ ہے اس کا کوئی نہ کوئی چکر ہے ضرور۔ ہر وقت موبائل سے چپکا رہتا ہے۔ کال آئے تو فوراً ٹیرس میں بھاگ کے سنتا ہے۔ ایک کے بعد ایک ایس ایم ایس ٹائپ کرتا رہتا ہے۔ یہ اوّل نمبر کا پاکھنڈی ہے۔‘‘ فاطمہ نے گویا اس کی پول کھول دینے کی ٹھان رکھی تھی‘ اور عادل سوائے ہنسنے کے اور کچھ نہیں کر پا رہا تھا۔ اسے پتہ ہی نہ تھا کہ فاطمہ کی آبزرویشن اتنی شارپ ہے۔
’’پھر تو اس سے اگلوانا ہی پڑے گا‘ بتا بے کون مل گئی ہے تجھے؟‘‘ عدنان‘ اذین کو صوفہ پہ لٹا کے اس کی طرف لپکا‘ اور اسے دونوں شانوں سے تھام لیا۔ عادل کے قہقہے چھوٹے سے فلیٹ میں گونجنے لگے۔
’’کوئی نہیں ہے یار! کوئی بھی نہیں ہے۔‘‘ وہ مسلسل انکار کر رہا تھا۔
’’ٹھہریں ایڈی! یہ ایسے نہیں بتائے گا‘ آپ ذرا اسے اسی طرح پکڑیں میں خبر لیتی ہوں اس کی۔‘‘ فاطمہ جو چار سالہ زارا کو کھانا کھلا رہی تھی‘ دوڑی دوڑی ان دونوں کے پاس آئی‘ عدنان نے عادل کے دونوں ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لئے‘ اور فاطمہ اس کا موبائل جیب سے نکالنے لگی۔ عادل ہنسی میں لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔ بچے یہ منظر دیکھ کے حیران تھے۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا‘ کہ وہ تینوں خوش ہو رہے ہیں‘ یا لڑائی کر رہے ہیں۔ زارا آنکھیں پھاڑے انہیں دیکھ رہی تھی اور اذین رونے لگ گیا۔ فاطمہ نے اس کا موبائل نکال لیا‘ اور اسے چیک کرنے کی غرض سے دور بھاگی۔
’’بتاتا ہوں‘ بتاتا ہوں‘ فاطمہ موبائل دے دو مجھے۔‘‘ وہ گویا ہار مان گیا تھا۔ عدنان نے اس کے ہاتھ چھوڑ دیئے۔
’’بتائو کون ہے وہ؟‘‘ فاطمہ اس کے سامنے بیٹھ گئی تھی۔
’’شانزے… شانزے نام ہے اس کا۔‘‘
اس نے پہلی بار اپنے دل کا راز ان دونوں کے سامنے کھولا تھا۔
’’اور کون ہے؟ کہاں رہتی ہے؟ کیا کرتی ہے؟‘‘ فاطمہ نے ایک ہی سانس میں سوالوں کا تانتا باندھ دیا۔
’’یار عدنان! تمہاری بیوی کو تو ایف بی آئی طرح کی کسی ایجنسی میں ہونا چاہئے تھا‘ کس رفتار سے سوالات کرتی ہے‘ ہمت ہے تمہاری کیسے ہینڈل کرتے ہو اس کو تم۔‘‘ عادل کی بات پہ عدنان نے کندھے اچکائے۔
’’اب بات کو تبدیل مت کرو تم فراڈیئے‘ بتائو کون ہے وہ؟‘‘ فاطمہ نے اس پہ چڑھائی کر دی۔
’’کولیگ ہے میری‘ ان فیکٹ ایچ آر منیجر ہے‘ دو سال سے ساتھ کام کر رہے ہیں‘ اور اسی نے مجھے پرپوز کیا تھا۔‘‘ عادل نے اعتراف کیا۔
’’میں بھی کہوں کہ کس طرح معاملہ چل نکلا‘ تم نے تو زندگی بھرپرپوز نہیں کرنا تھا اسے۔‘‘ فاطمہ نے کہا ‘اور پھر عادل اپنی اور شانزے کی محبت کی داستان تفصیل سے سنانے لگا۔
اسی طرح تھی ان تینوں کی دوستی‘ لڑتے تھے‘ جھگڑتے تھے‘  ناراض ہوتے تھے‘ مگر ایک دوسرے سے الگ ہونے کا تصور بھی نہ کر سکتے تھے۔ دوستی کے گھنے شجر کی چھائوں تلے بیٹھے بیٹے دس سال کس طرح گزر گئے‘ انہیں پتہ ہی نہ چلا۔
یونیورسٹی کی چار سالہ تعلیم اکٹھے حاصل کی‘ اور اس کے بعد کا عرصہ بھی اکٹھے گزارا‘ گو کہ عدنان اور فاطمہ آپس میں شریکِ حیات تھے‘ لیکن دونوں کی حیات عادل کے بغیر ادھوری تھی۔ فاطمہ ہر پریشانی عادل سے شیئر کرتی‘ اور عدنان کے دل کا دوست بھی عادل ہی تھا‘ اور تو اور دونوں کے چھوٹے چھوٹے بچے زارا اور اذین بھی عادل سے زیادہ اٹیچ تھے۔
زندگی ایک خوبصورت بہائو کے ساتھ موج در موج سفر میں تھی‘ اور زندگی میں کوئی درد‘ کوئی غم نہیں تھا۔ وہ تینوں ایک ہی شجر کی تین ٹہنیاں تھیں۔ دور ہو کر بھی پاس تھیں‘ اور ایک ہی طرح سے سانس لیتی تھیں۔

…٭٭٭…

’’آج کا دن میری زندگی کا سب سے حسین دن ہے راحیل! مجھے بالکل یقین نہیںآ رہا کہ ثانیہ نے جو کچھ کہا ہے‘ وہ سچ ہے۔‘‘ گاڑی میں بیٹھتی ہوئی روشین کے چہرے پہ بے انتہا مسرت اور تازگی تھی۔
’’یہ ثانیہ نے نہیں تمہاری رپورٹس نے کہا ہے ‘اور میری جان! حسین دن کہاں‘ حسین دن تو اور آنے ہیں‘ ابھی تو ہم نے بہت سی خوشیوں کو اک ساتھ مل کے دیکھنا ہے‘ بہت سے حسین دن‘ بہت سی جگمگاتی راتیں۔‘‘ راحیل کا چہرہ بھی اندرونی خوشی کا غماز تھا۔
’’راحیل… راحیل وہ ہماری گود میں ہو گا‘ اس کے ننھے ہاتھ‘ نازک گلابی پائوں‘ چھوٹا سا خوبصورت چہرہ۔‘‘ روشین کی آنکھیں خوشی سے نم ہونے لگی تھیں۔
’’تمہیں اس طرح خوش دیکھنے کے لئے میری آنکھیں ترس گئی تھیں۔‘‘ سگنل پہ گاڑی روک کے وہ اس کی طرف پیار سے دیکھ کے بولا۔
’’عورت جتنی بھی کوشش کر لے خوش رہنے کی‘ اگر وہ ماں نہ بنے تو وہ مکمل نہیں ہوتی۔ آج راحیل آج‘ میں خود کو مکمل محسوس کر رہی ہوں‘ آج کہ جب مجھے احساس ہوا ہے کہ میری کوکھ میں بھی کوئی پھول کھلا ہے

کہ جب میں نے اپنے بچے کے دل کے دھڑکنے کی آواز سنی ہے۔ راحیل تمہاری روشین آج مکمل ہوئی ہے‘ آج ہی اس نے اپنے آپ کو پہچانا ہے۔‘‘ روشین کا روم روم سراپا روشنی تھا‘ گنگنا رہا تھا‘ جھلملا رہا تھا۔
’’آئی لو یو روشین! میں تمہیں ہمیشہ ہمیشہ اسی طرح خوش‘ اور اسی طرح مسکراتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں۔ میرے لئے تمہاری خوشی سے زیادہ اہم اور کچھ نہیں۔‘‘ اس نے اپنی خوبصورت بیوی کا ہاتھ تھام لیا۔ آج وہ دونوں کسی نئی روح کی آمد کی خبر سن کر بہت خوش تھے۔ ان دونوں کی روحیں اک نئی خوشی اور نئی چمک سے سرشار تھیں۔
’’چلو آج ہم تینوں کہیں باہر کھانا کھاتے ہیں۔‘‘ روشین نے کھلکھلا کے کہا۔
’’تینوں…؟‘‘ وہ حیران ہوا‘ جان بوجھ کر۔
’’ہاں‘ میں آپ اور ہماری محبت کی نشانی۔‘‘ وہ بولی۔
’’ہاں جی اب تو ہر جگہ یہ ننھے موصوف ساتھ ہوں گے‘ ہماری خوبصورت بیوی کے پاس‘ ہمارے لئے بالکل وقت نہیں ہو گا۔‘‘ اس نے مصنوعی طرز پہ منہ پھلایا۔
’’اتنے سال تو بیوی کا سر کھایا ہے‘ اچھا ہے اب بیچاری بیوی کا دھیان ہی بٹا رہے گا۔ اس کے کام‘ اس کی باتیں‘ اس کی شرارتیں‘ ہماری زندگی کتنی مصروف ہو جائے گی ناں راحیل۔‘‘ وہ تخیل کی مدد سے بہت آگے جانے کی کوشش میں گم تھی۔
’’جی ہاں‘ پھر آپ سے اپوائنمنٹ لینی پڑے گی‘ ملنے اور دیکھنے کے لئے بھی۔‘‘ راحیل نے کہا۔
’’ایسی جلنے والی باتیں نہیں کرو راحیل! میں تمہاری بھی اتنی ہی رہوں گی‘ جتنی کہ اس کی‘ وہ ہماری زندگی کا اک نیا اور خوبصورت باب ہو گا۔ ہمیں وہ بالکل بھی الگ نہیں کرے گا‘ بلکہ ہمیں اور نزدیک لے آئے گا‘ اور ہمیں تاعمر ایک ایسی زنجیر میں باندھ دے گا کہ ہم مر کے بھی الگ نہیں ہو پائیں گے۔‘‘ وہ اک خوشنما احساس کے زیر اثر بولی۔ راحیل لمحہ لمحہ اس کے خوبصورت احساسات کو دیکھ کر انجوائے کر رہا تھا۔
’’کیا کھائو گی؟ چائینز یا دیسی؟‘‘
’’کچھ چٹپٹا‘ باربی کیو کا موڈ ہے۔‘‘ وہ فوراً بولی اور راحیل نے مسکرا کر گاڑی ایک باربی کیو ریسٹورنٹ کی طرف موڑ دی۔

…٭٭٭…

’’کہاں گئے ہیں موصوف اور کب لوٹے گا؟‘‘ عادل‘ عدنان کی غیر موجودگی کی خبر سن کر صوفے پہ ہی ڈھے گیا تھا‘ اور ساتھ ہی کھلونوں سے کھیلتے ڈیڑھ سالہ اذین کو اٹھا کے اپنے اوپر بٹھا دیا تھا۔ اذین اس کا مانوس چہرہ دیکھتے ہی خوشی سے ہاتھ پائوں ہوا میں لہرانے لگا‘ اور اس کے چہرے پہ ایک بھرپور مسکراہٹ آ گئی۔
’’کسی میٹنگ میں گئے تھے۔ دفتر سے تو چھ بجے فارغ ہو گئے تھے‘ پھر کسی کے ساتھ میٹنگ تھی۔‘‘ فاطمہ اپنے امریکن سٹائل کچن میں چائے رکھتے ‘ اور اسے دیکھتے ہوئے بولی۔ چھوٹے سے سلیب کے پارٹیشن کے علاوہ پورا کچن کھلا تھا‘ یا پھر یہ کہنا درست ہو گا کہ کچن لائونج ہی کا حصہ تھا۔
’’یہ راتوں کو کون سے دفتر لگنے لگے ہیں‘ ذرا نظر رکھا کرو اپنے مجازی خدا پر‘ کہیں کسی بلبل کی زلفوں کا اسیر نہ ہو گیا ہو۔‘‘ عادل نے اذین کو کھلاتے اور پچکارتے ہوئے کہا۔
’’اتنا تو بیوقوف وہ شکل سے بھی نہیں لگتا کہ میرے جیسی بیوی کو چھوڑ کے ادھر ادھر منہ مارتا پھرے۔‘‘ فاطمہ نے بلا کے اعتماد کے ساتھ کہا۔
’’ایک تو تم بیویاں بلا کی پرائوڈ ہوتی ہو‘ زعم اور غرور تو تمہارے اندر سے ایسے ٹپکتا ہے‘ جیسے گلاب جامن اور جلیبی سے شیرہ۔‘‘ عادل نے چڑھائی کی۔
’’ہاں تو ہونا بھی چاہئے‘ احساس کمتری میں جکڑی بیویاں خود کو جلا جلا کے کالا کر ڈالتی ہیں۔ نیند کی گولیاں کھا کھا کے سوتی اور موٹی ہوتی ہیں۔ اور مجبوراً شوہر کو کسی اور نازنین کی طرف مائل ہونا پڑتا ہے۔‘‘ فاطمہ کپ میں چائے ڈال کے اس کے پاس لے آئی۔ وہ اذین کو اٹھا کے سیدھا ہو کے بیٹھ گیا۔
’’تو تمہارا خیال ہے تم خوبصورت ہو۔‘‘ وہ مگ اٹھا کے اسے چڑانے کی غرض سے بولا۔
’’تو کیا نہیں ہوں؟‘‘ وہ بھی پرُاعتماد تھی۔
’’پتہ نہیں‘ کبھی غور سے نہیں دیکھا۔‘‘ وہ ٹال گیا۔
’’جانے دو‘ جانے دو‘ بڑے آئے مجھ سے بحث میں جیتنے والے‘ میں کوئی مس شانزے نہیں کہ تمہاری ہر بات پہ یقین کر لوں‘ اور تمہاری باتوں میں آ جائوں۔ بھول گئے یونیورسٹی ڈبیٹنگ سوسائٹی کی صدر رہ چکی ہوں۔‘‘ فاطمہ نے بسکٹ اٹھا کے اذین کے ہاتھ میں پکڑائے۔
’’ہاں کیسے بھول سکتا ہوں‘ میں ہی تو تھا‘ جو تمہاری تقریروں پہ تالیاں بجانے کے لئے فٹ پاتھ سے لوگ پکڑ پکڑ کر لاتا تھا‘ اور فنکشن کے اختتام پر انہیں دس دس روپے بھی اپنی جیب سے دیتا تھا۔‘‘ عادل
of 32 
Go